Wed, September 16, 2026

آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے بعد 

آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے بعد 

قوم نے ایک عظیم الشان معرکہ سر کر لیا ہے 22 اپریل پہلگام فالس فلیگ آپریشن سے شروع کی جانے والی جنگ کو ہماری مسلح افواج نے 10 مئی کو جس شاندار پیشہ ورانہ طریقے سے انتہا تک پہنچایا۔ پوری دنیا حیران اور ششدر رہ گئی ہے ہم یہ جنگ جیت گئے ہمارا دشمن کمینہ اور گھٹیا ہی نہیں ہے بلکہ اسے اقوام مغرب اور امریکہ کی مکمل سرپرستی بھی حاصل ہے جب یہ جنگ جاری تھی اور اسرائیل کے کامی کازی ڈرون پاکستان کی فضاو¿ں میں بھوں بھوں کر رہے تھے اس وقت اسرائیل کے یہودی عسکر ی ماہرین دہلی میں بھارتی عسکری ماہرین کے ساتھ سر جوڑ کر پاکستان کو برباد کرنے کی پلاننگ پر عمل درآمد کر رہے تھے فرانسیسی رافیل اور روسی آئرن ڈوم کے علاوہ امریکی و برطانوی اسلحہ بھی بھارت کے پاس تھا جبکہ پاکستان کے ساتھ اللہ اور چین تھا ہماری مسلح افواج نے وہ کر دکھایا جسکی امید نہیں تھی پوری دنیا کو حیران کر دیا جس طرح بھارت کی ٹھکائی ہوئی، پٹائی ہوئی، ذلت آمیز شکست ہوئی اس نے نہ صرف بھارتیوں کو ہی نہیں بلکہ انکے حواریوں اور دواریوں کو بھی پریشان کر دیا۔ مغرب کی جنگی ٹیکنالوجی کا بھرم پھوٹ گیا چینی ٹیکنالوجی اور ہماری مسلح افواج کی منظم جنگی حکمت عملی، جرا¿ت، بہادری اور دلیری نے وہ کچھ کر دکھایا جس کی دنیا کو امید نہیں تھی، مودی بھاگا بھاگا امریکہ کے پاس گیا کہ مہا راج جنگ بند کر ا دیں ہم مارے گئے ہیں۔ اس سے پہلے مودی سرکار کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے خلاف بیان دے چکی تھی لیکن شکست فاش کو دیکھتے ہوئے مودی نے امریکہ کی منت سماجت کی کہ وہ تیسرا فریق ہے اور جنگ بند کرائے۔ پاکستان نے بھی فہم و فراست کا ثبوت دیا اور بات مان لی اس طرح جنگ بندی ہو گئی۔ امریکہ نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ بات چیت کریں۔ کشمیر پر، سندھ طاس معاہدے پر، دہشت گردی کے خاتمے پر۔ پاکستان نے صاد کیا۔ بھارت نے اس پر انکار کیا سوائے دہشت گردی کے ایشو پر بات چیت کرنے پر۔ بھارت نے خضدار میں سکول کے بچوں کی بس کو نشانہ بنا کر اس ایشوپر بھی بات چیت کرنے سے عملاً انکار کر دیا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اس دہشت گردی کے پیچھے اور آگے، دائیں اور بائیں، چہار سو بھارت سرکار نظر آتی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف یہ جنگ 2001 میں اس وقت سے شروع کر رکھی ہے جب امریکی اتحادی فوجیں دہشت گردی کے خاتمے کی عالمی جنگ کے نام پر افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔ ہندوستان نے انکے ساتھ شریک ہو کر افغانستان کو مرکز بنایا اور پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں شروع کیں۔ یہ تحریک طالبان پاکستان اسی دور ظلمت کی یاد گار ہے جو ابھی تک پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اسے بھارت سرکار کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی بھی معاونت حاصل ہے دوسری طرف بلوچستان میں سرگرم عمل دہشت گرد بھی بھارت کی مالی وفنی امداد کے ساتھ پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی کی تمام کارروائیاں بھارت سرکاری معاونت کی مرہون منت ہیں۔ بھارت سرکار کو یہ بات پہلے بھی معلوم تھی لیکن حالیہ جنگ میں اسے یقین کامل ہو گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ براہ راست لڑنا کسی طور بھی ممکن نہیں ہے اسے بتا دیا گیا کہ ”بھارت امریکہ نہیں ہے اور پاکستان افغانستان نہیں ہے، بھارت اسرائیل نہیں تھے اور پاکستان غزہ نہیں ہے “ اس لئے بھارت سرکار کو پیغام پہنچ چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ پنگا لینا ممکن نہیں ہے بلوچستان کسی طور بھی مشرقی پاکستان کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتا ہے۔ مشرقی پاکستان جغرافیائی طور پر مغربی پاکستان سے متصل نہیں تھا اسلئے بھارتی سازشیں کامیاب ہوگئیں ویسے ان سازشوں کی کامیابی میں ہماری اپنی مجرمانہ کو تاہیاں بھی شامل تھیں ہمارے رہنماو¿ں کی عیاریاں اور سیاست بازیاں بھی سقوط ڈھاکہ میں شامل تھیں اب حالات ویسے نہیں ہیں۔ بلوچستان میں پشتونوں، بلوچوں اور ہزارہ جات کی اکثریت وفاق پاکستان پر یقین رکھتی ہے۔ آئین پاکستان کو مانتی ہے انہیں وفاق سے کچھ شکایتیں ہیں لیکن وہ علیحد گی ہرگز میں چاہتے۔ یہ بلوچ لبریشن آرمی والے چند سو افراد پر مشتمل ہیں دشمن کی مالی و فنی معاونت اور پرو پیگنڈہ سہولیات کے باعث وہ منظر پر موجود ہیں ہماری مسلح افواج ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہیں وہ دن دور نہیں جب ان کا مکمل طور پر صفایا ہو جائے گا ان شاءاللہ ۔
اصل بات ہماری معیشت ہے بجٹ 26 2025- کی آمد آمد ہے قوم کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ شاید اس میں اس کے لئے کوئی نوید مسرت ہو، کوئی آسانی ہو کوئی بہتری کا پیغام ہو ۔ ہمارے ہاں بجٹ روایتی انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے، گزرے سال کی فائلیں نکالی جاتی ہیں ان میں نئے اعداد و شمار داخل کئے جاتے ہیں، معاشی نمو کی متوقع شرح کے پیش نظر ٹیکس کا حجم ترتیب دیا جاتا ہے اور پھر ٹیکس شرحوں کا تعین کرکے گزرے سال کی نسبت سے اسی قدر زیادہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے کوئی نئی بات، کوئی بہتری و بھلائی کی صورت انکے پیش نظر ہوتی ہی نہیں ہے۔ ہاں جب ہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں شامل ہوں تو اسکی ہدایات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے جیسا کہ ہم آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق حکومتی اخراجات کم کرنے پر لگے ہوئے ہیں، محکمے کم کئے جارہے ہیں، ادغام کے ذریعے وزارتوں کی تعداد کم کی جا رہی ہے، خالی پوسٹیں ختم کی جا رہی ہیں اور اس طرح کے کئی اہم اقدامات ضرور کئے جا رہے ہیں جس سے آئی ایم ایف کو اطمینان ہو اور وہ ہمیں قرض کی اگلی قسط جاری کر دے۔ ہم نے آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق پنشن کا نیا نظام بھی لاگو کر دیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے لئے نئی شرائط بھی جاری کر دی ہیں، نجکاری کے پروگرام پر عمل در آمد بھی جاری ہے۔ اس عمل میں ہم نے کئی منافع بخش سرکاری ادارے نجی شعبے کے حوالے بھی کر دیئے ہیں لیکن سرکاری اخراجات کم ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ہم نے اراکین پارلیمنٹ کی مراعات میں جس بے رحمانہ طریقے سے اضافہ کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخراجات میں کمی بس ایک نعرہ ہی ہے پھر سرکاری محکموں میں افسران شاہی کی مراعات بڑھتی چلی جا رہی ہیں گاڑیاں پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں خریدی جارہی ہیں، نئے محکمے یا اتھارٹیاں ویسے ہی قائم کی جا رہی ہیں جیسے پہلے تھیں، تو یہ سب کچھ دیکھ کر لگتا ہے کہ معاملات میں کسی قسم کی جوہری تبدیلی نہیں آرہی ہے، اخراجات ویسے ہی رہیں گے، عوام کی مشکلات میں کمی کا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ ہماری معیشت ایسے ہی چلتی رہے گی جیسے پہلے چل رہی تھی۔ ہم قرض لیتے رہیں گے، ان کی ادائیگیوں کے لئے ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالتے رہیں گے۔ کوئی مثبت تبدیلی آنے کی توقع نہیں ہے۔

ٹیگز: