Wed, September 16, 2026

بھارت کی کئی آزاد ریاستوں میں تقسیم ضروری

بھارت کی کئی آزاد ریاستوں میں تقسیم ضروری

 کشمیر پاکستان کے بہت نزدیک ہے لیکن کشمیر کی بھارت سے آزادی کتنی دور ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جو کہا جاسکتا ہے وہ ےہ کہ ناامیدی کے اس منظرنامے میں بھی بہادر اور پرعزم کشمیریوں نے بھارت سے آزادی لینے کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے مختلف دن جلسے جلوسوں اور بیانات کے ذریعے منائے جارہے ہےں جبکہ کشمیری دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے بارہ مہینے اپنا خون دے رہے ہیں اور پاکستان ہرطرح سے اُن کی اخلاقی و سفارتی مدد کررہا ہے۔ انسانیت کے دکھوں پر موٹے موٹے آنسو بہانے والی ہمدرد اور نرم دل دنےا بھارتی فوجےوں کے ہاتھوں کشمیریوں کے کٹے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو دےکھ نہےں پاتی۔ عالمی فےصلہ سازی کے طاقتور ٹھےکےدار ےورپ اور امرےکہ کی اہم شخصےات ذاتی محفلوں میں اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہےں کہ ماڈرن دنیا میں بھارت کا ظلم برداشت کرنے اور آزادی کی تحرےک کے لےے ان گنت قربانیاں دینے کی سب سے لمبی تارےخ کشمےر مےں ہی لکھی جارہی ہے لےکن انسانی حقوق کے گورے چہرے لےے یہ شخصیات جب اپنے اپنے ملکوں کی سرکاری کرسی میز پر بیٹھتی ہیں تو کشمےرےوں کے بہنے والے خون کو دو ملکوں کے درمےان کا معاملہ کہہ کر چپ سادھ لےتی ہےں۔ اُن سے اس شرمناک دوہرے معےار کی وجہ درےافت کی جائے تو صرف اےک ہی بات سامنے آتی ہے کہ بھارت جےسے بہت زےادہ آبادی والے ملک کو ناراض کرکے مغرب اور امرےکہ کے کاروباری مفادات کو نقصان نہےں پہنچایا جاسکتا۔ حالانکہ مغرب اور امرےکہ اپنے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچائے بغےر بھی اےشےا مےں مستقل امن لاسکتا ہے۔ وہ ایسے کہ برصغےر مےں ہندوستان کی ہزاروں برس پر پھےلی تارےخ بتاتی ہے کہ موجودہ ہندوستان مےںشروع سے ہی چھوٹی چھوٹی کئی رےاستےں قائم تھےں جو اپنے اپنے راجاﺅں کے زیر انتظام تھےں۔ مغل اور دیگر مسلمان حکمرانوں نے برصغےر مےں پھےلی اکثر اِن چھوٹی چھوٹی رےاستوں کو زیادہ تر ےکجا کرکے بڑی آبادی والا اےک ملک بنا دےا اور انگریزوں نے 1857ءکے بعد تقریباً اسی یکجا ہندوستان پر کم از کم ایک سو برس حکمرانی کی۔ ہندوﺅں نے 1947ءمےں انگرےزوں کے جانے کے بعد برصغےر کے پورے زمینی خطے پر چالاکی سے قبضہ کرنا چاہا جس کے لےے انہوں نے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا۔ اپنے آپ کو دنیا کے بہترےن سکالر اور تارےخ دان کہنے والے ہندو پروفےسروں مےں سے کوئی بھی ےہ نہےں بتا سکتا کہ مسلمانوں اور انگرےزوں کی حکومت سے پہلے ہندوستان کب اکھنڈ بھارت تھا؟ ہندوﺅں کی مذہبی کتاب مہابھارت مےں بھی ہندو کزنوں کی آپس کی لڑائےوں کا ہی ذکر ہے۔ ہندوﺅں کی اس مذہبی کتاب مےں واضح طور پر بتاےا گےا ہے کہ اےک دوسرے کی رےاستوں پر قبضے کے لےے خونی رشتے کےسے اےک دوسرے کے خون کے پےاسے تھے لےکن ہندوﺅں نے 1947ءکے بعد دنےا کی آنکھوں مےں دھول جھونک دی اور تارےخ کے وہ صفحات غائب کردےئے جن میں پرانے اصل ہندوستان کی سرزمےن کئی رےاستوں پر مبنی تھی۔ امریکہ اور یورپ جیسے طاقتور ممالک اب بھی ہندوستان کی تارےخ کی اُس کتاب کو پڑھ کر اےشےا مےں امن لا سکتے ہےں اور اپنے کاروباری مفادات بھی جاری رکھ سکتے ہےں۔ اگر بے ڈھنگے اور بے ہنگم پھےلے موجودہ ہندوستان کو پہلے کی طرح کے پرانے اصل ہندوستان کی طرح تاریخی اعتبار سے صدیوں پرانی چھوٹی چھوٹی آزاد رےاستوں مےں تقسےم کردےا جائے تو جارحانہ پالیسی، دوسروں پر قبضہ کرنے اور خون بہانے والے موجودہ ہندوستان کے مرکزی تخت سے جان چھوٹ جائے گی۔ دوسرا ےہ کہ برصغےر کی چھوٹی چھوٹی اِن نئی رےاستوں سے مغربی ممالک اور امرےکہ کو کاروباری معاملات براہِ راست طے کرنے مےں بھی آسانی ہوگی۔ ےہ مجوزہ رےاستےں کئی ےورپی ممالک کے سائز کے برابر ےا اُن سے بڑی ہوں گی۔ موجودہ بھارت جہاں اپنے ہمساےوں کے لےے اےک خونخوار ہمسایہ ہے وہےں اپنی آبادی مےں مختلف نسلوں اور قومےتوں کے لےے بھی اےک عذابِ عظےم ہے۔ نچلی ذات کے ہندو، تامل، سکھ، مسلمان، عےسائی، بنگالی، مےزورام، ناگا لینڈ، منی پور، آسام، تری پورہ وغےرہ اور سب سے زےادہ کشمےری اےسی قومےتےں ہےں جو ہندوستان کے خودغرض حکمرانوں کے فلسفہ اکھنڈ بھارت کی آگ مےں جھلس رہی ہےں۔ اگر انٹرنےشنل اداروں کے تحت ہندوستان مےں اکھنڈ بھارت کے نظریہ ے پر رےفرنڈم کراےا جائے تو موجودہ تارےخ کی سب سے بڑی حقےقت اور ظلم واضح ہو جائے گا۔ حقےقت ےہ کہ ہندوستان کی مذکورہ قومےں اکھنڈ بھارت کی بجائے اپنی علےحدہ علےحدہ رےاستےں قائم کرنا چاہےں گی اور ظلم ےہ کہ اکھنڈ بھارت کے نظرےئے کے مختصر حماےتی ٹولے نے ہندوستان کی 80فےصد سے زائد آبادی کو اپنے پنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ اکھنڈ بھارت کے اِن خون آلود صفحات مےں سب سے زےادہ لرزہ خےز باب کشمےر کا ہے۔ اصل حقےقت جاننے والے جانتے ہےں کہ کشمےر پر بھارتی قبضے کا سہرا نہرو کے ساتھ ساتھ کسی اور کے سربھی جاتا ہے۔ کشمےر پر قابض موجودہ بھارتی فوجےوں اور موجودہ ظالم بھارتی حکمرانوں کو اس سلسلے میں ماﺅنٹ بیٹن کی بےوی کا زےادہ شکرگزار ہونا چاہئے کےونکہ ماﺅنٹ بےٹن کی بےوی کے نہرو کے  ساتھ خصوصی تعلقات کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر ہی ماﺅنٹ بےٹن نے کشمےر کی گردن پر چھری رکھی تھی۔ دنےا بھر مےں خفےہ دستاوےزات کو عام کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اسی کا تقاضا ہے کہ 1947ءاور اُس کے بعد کشمےر کو تقسےم کرنے اور اُس پر قبضہ کرنے کے لےے نہرو اور بعد کے ہندوستانی حکمرانوں کی جو آپس کی اور بعض دوسرے ممالک سے جو خفےہ خط و کتابت اور مےٹنگز ہوئےں انہےں دنےا کے سامنے سرعام کھول دیا جائے تاکہ سےکولر اور جمہوری ہندوستان کا اصل جھوٹا کالا چہرہ سامنے آسکے۔ ہندوستان کے زےرقبضہ موجودہ زمےنی خطے کی رےاستوں مےں اکھنڈ بھارت ےا آزاد رےاست کا ریفرنڈم کراےا جائے تو ےہ ضرور پتا چل جائے گا کہ اکھنڈ بھارت کا نظرےہ حکومتی امپائر کی بجائے انسانوں کا خون پےنے والا اےک ریاستی وےمپائر ہے۔ لہٰذا دنےا کے امن کے لیے ضروری ہے کہ اکھنڈ بھارت کے نظرےئے کی جگہ موجودہ بھارت میں کشمیر، خالصتان، تامل، بنگالی، دلت، مےزورام، ناگالینڈ، منی پور، آسام اور تری پورہ وغےرہ جےسی مختلف علاقوں کی شناخت کی علےحدہ علےحدہ آزاد پرانی تاریخی فطری ریاستیں قائم ہوں تاکہ بالخصوص خطے اور بالعموم دنیا میں امن آسکے۔

ٹیگز: