فلوریڈا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دہائیوں پر محیط دشمنی کے خاتمے کا بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 5 دنوں کے اندر ایک تاریخی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ فلوریڈا میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل "فیصلہ کن" مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور گزشتہ 48 گھنٹوں کی بات چیت انتہائی کامیاب رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایک 15 نکاتی جامع معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے ابتدائی 3 نکات براہ راست ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق ہیں۔ انہوں نے پہلی بار ایران کی داخلی صورتحال کو "رجیم چینج" (تبدیلیِ حکومت) کا نام دیتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کی زندگی اور موجودگی پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس تمام پیشرفت پر اسرائیل کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا ہے اور وہ تازہ ترین صورتحال سے مطمئن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر ممکنہ فوجی حملے کا التوا صرف ان مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔ اگر یہ بات چیت ناکام ہوئی تو امریکہ اپنے اگلے لائحہ عمل کے لیے آزاد ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ان کے قریبی ساتھیوں جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف نے ایرانی حکام کے ساتھ رات گئے تک طویل نشستیں کی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں فریقین معاہدہ چاہتے ہیں اور غالباً آج ہی اس سلسلے میں ایک اہم ٹیلی فون کال بھی متوقع ہے جو اس ڈیل کو حتمی شکل دے سکتی ہے۔