عارف حبیب پاکستان کے نمایاں سرمایہ کاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زیادہ تر سرمایہ کاری ملک کے اندر ہی کی اور قومی معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے نشیب و فراز سے بھرپور ماحول میں ایک عام سرمایہ کار کے طور پر اپنی شناخت بنائی اور بتدریج ایک مضبوط اور مستند سرمایہ کار گروپ کے سربراہ کے طور پر ابھرے۔ وہ 1980 میں پہلی مرتبہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے بورڈ کے رکن منتخب ہوئے، جو ان کے کاروباری سفر کا ایک اہم سنگ میل تھا۔ آج عارف حبیب، عارف حبیب گروپ کی ہولڈنگ کمپنی عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی، عائشہ سٹیل ملز، جاوداں کارپوریشن لمیٹڈ اور سچل ونڈ پاور کے چیئرمین بھی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جو بھی خواب دیکھے، انہیں عملی شکل دینے میں کامیاب رہے۔ انہی خوابوں میں سے ایک جدید رہائشی منصوبہ نیا ناظم آباد بھی تھا، جو جاوداں کارپوریشن کے تحت قائم کیا گیا۔ نیا ناظم آباد آج نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں جدید طرزِ زندگی کے مطابق مکانات اور فلیٹس دستیاب ہیں۔ یہاں رہائشیوں کو قانونی تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس منصوبے میں عارف حبیب کے صاحبزادے صمد حبیب بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی سوسائٹی میں جدید سہولیات سے آراستہ جمخانہ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کی ممبرشپ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں عارف حبیب گروپ نے ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے)، کے 75 فیصد حصص خرید لیے ہیں۔ یہ خریداری عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں قائم کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی کے ذریعے حاصل کی، جو حکومت کی مقررہ 100 ارب روپے کی ریزرو قیمت سے کہیں زیادہ تھی۔ اس سے قبل گزشتہ سال پی آئی اے کی فروخت کی کوشش ناکام رہی تھی، تاہم اس بار معاشی حالات میں بہتری، شرح سود میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں استحکام کے باعث یہ عمل کامیاب ہوا۔ دسمبر 2025
میں مکمل ہونے والے اس معاہدے کے تحت کنسورشیم نے 75 فیصد حصص حاصل کیے، جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری بھی متوقع ہے، جس کے لیے حکومت نے 90 دن کی مہلت دی ہے۔ اس خریداری کا بنیادی مقصد خسارے میں چلنے والی ایئرلائن کو آپریشنل اصلاحات، بیڑے میں توسیع اور کسٹمر سروس کی بہتری کے ذریعے بحال کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اپریل کے آخر تک نئی انتظامیہ مکمل طور پر کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔ اس کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر 34.1 فیصد، فوجی فرٹیلائزر کمپنی 33.9 فیصد، سٹی لیک 16 فیصد اور سٹی سکول بمع اے کے ڈی گروپ 16 فیصد شامل ہیں۔ نئی انتظامیہ کو تقریباً 125 ارب روپے کی مالی معاونت حاصل ہو گی، جس سے وہ اصلاحات کے نفاذ اور ادارے کی بحالی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکے گی۔ پی آئی اے کی تاریخ 1955 سے شروع ہوتی ہے، جبکہ 2016 میں اسے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (کنورژن) ایکٹ کے تحت پبلک لمیٹڈ کمپنی بنایا گیا۔ بعد ازاں 2024 میں اسے سٹاک ایکسچینج سے ڈی لسٹ کر کے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے ماتحت کر دیا گیا، تاکہ نجکاری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ پی آئی اے کی نجکاری پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی بھی گہری نظر رہی ہے، جو پاکستان پر مسلسل زور دیتا رہا ہے کہ سرکاری اداروں کے نقصانات کو کم کیا جائے۔ اس تناظر میں پی آئی اے کی نجکاری پاکستان کی اصلاحاتی ساکھ کا ایک اہم امتحان سمجھی جا رہی ہے۔ اگر یہ ادارہ نئے مالکان کے تحت منافع بخش ہو جاتا ہے تو دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل بھی تیز ہو سکتا ہے۔ نجکاری معاہدے کے تحت نئے خریدار اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ کم از کم 12 ماہ تک تمام ملازمین کو برقرار رکھیں اور ان کے معاہدوں میں کوئی تبدیلی نہ کریں۔ اس حوالے سے عارف حبیب نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک سال تک کسی بھی ملازم کو برطرف نہیں کیا جائے گا، تاہم ادارے میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ عارف حبیب کے مطابق پی آئی اے کے زیادہ تر اثاثے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ موجودہ خسارے کو ابتدائی ایک سال تک برداشت کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کو تقریباً 70 ارب روپے میں بھی چلایا جا سکتا تھا، لیکن بہتری کے لیے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس رقم کو نئے طیاروں کے انجن، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر آپریشنل اخراجات پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کے بزنس پلان میں کارگو سسٹم کی بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ آئندہ مرحلے میں ایئرلائن کے بیڑے کو 38 طیاروں تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ اس وقت 34 طیاروں میں سے صرف 17 فعال ہیں۔ سیفٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عارف حبیب نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پی آئی اے پر مجموعی طور پر تقریباً 181 ارب روپے کے واجبات ہیں، جبکہ ماضی میں یہ قرضہ 800 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ مسلسل قرض لینا اور بھاری سود کی ادائیگیاں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کے نقصانات کی ایک بڑی وجہ بیوروکریسی کے ذاتی مفادات بھی رہے ہیں، جبکہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی سازی کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ کنسورشیم کے پاس ایئرلائن چلانے کا براہ راست تجربہ نہیں، تاہم عالمی سطح کے ماہرین کی خدمات حاصل کر کے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نجکاری کے بعد بہتر انتظامی کنٹرول اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے پی آئی اے کو دوبارہ ایک منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان کے ماہرین ہوا بازی نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، حتیٰ کہ امارات ایئرلائن جیسے کامیاب اداروں کی تعمیر میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ یہی ماہرین اگر مناسب مواقع اور وسائل حاصل کریں تو پی آئی اے کو بھی دوبارہ عروج پر لے جا سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عارف حبیب کی قیادت میں پی آئی اے کی نجکاری ایک اہم معاشی پیش رفت ہے، جس کے نتائج آنے والے وقت میں پاکستان کی معیشت اور دیگر سرکاری اداروں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف قومی ایئرلائن کی بحالی ممکن ہو گی بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا اور نجکاری کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔