سال کے بارہ مہینوں میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض تاریخ نہیں ہوتے بلکہ احساسات، روایتوں اور اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی بھی انہی با برکت دنوں میں شامل ہیں وہ لمحات جو ہمیں بندگی کے بعد خوشی کا تحفہ دیتے ہیں، جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صبر، قربانی اور عبادت کا صلہ صرف آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی مسرت کی صورت ملتا ہے۔ وہ دن جن کے لیے نہ صرف چاند دیکھا جاتا ہے بلکہ دل بھی منتظر رہتے ہیں۔ عید تو ہر سال آتی ہے مگر کیا ہم بھی اسی تیاری، اسی، شکر اور جذبے کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں یا یہ مبارک دن بھی ہماری مصروفیات، ہماری ترجیحات اور ہماری بے حسی کے ہجوم میں کہیں گم ہو جاتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو محض عید تک محدود نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرتی رویے کی عکاسی کرتا ہے انسانی فطرت کا ایک عجیب پہلو ہے کہ جو چیز یقینی ہو جائے اس کی قدر کم ہو نے لگتی ہے۔ عید ایک یقینی خوشی ہے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہر سال اپنے وقت پر اپنی تمام تر روحانیت اور برکت کے ساتھ آئے گی، شاید یہی یقین اسے ہماری نظروں میں معمولی بنا دیتا ہے۔ ہم اسے ’ہونا ہی ہے‘ کی فہرست میں ڈال دیتے ہیں اور پھر اپنی توانائیاں ان مواقع پر صرف کرتے ہیں جو غیر یقینی ہوں، جو کم آئیں یا جن کے ساتھ سماجی دباﺅ جڑا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شادی، بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے ہم مہینوں پہلے سے تیاری کرتے ہیں، بجٹ بناتے ہیں اور اپنی ترجیحات کو بدل دیتے ہیں۔ وہاں ہم کسی قسم کی کمی نہیں چاہتے کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ دیکھیں گے، بات کریں گے اور ہمیں جانچا جائے گا۔ مگر کیا ہمیں عید کے لیے کوئی نہیں دیکھ رہا یا پھر ہم نے خود ہی دیکھنا چھوڑ دیا ہے؟ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں اب خوشیوں کی تعریف بدل چکی ہے۔ اب وہی لمحہ اہم سمجھا جاتا ہے جو نمایاں ہو، جو سوشل میڈیا پر جگہ بنا سکے، جو دوسروں کی توجہ حاصل کر سکے۔ ہمارے معاشرے میں شادی اب صرف ایک خوشی نہیں رہی بلکہ ایک پراجیکٹ بن چکی ہے جہاں بجٹ، پلاننگ اور پریزنٹیشن سب کچھ ہی اہم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عید جو سادگی، روحانیت اور اجتماعیت کا حسین امتزاج ہے ہماری ترجیحات میں پیچھے رہ گئی ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی خاموش ہے مگر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ ہم بسنت کے رنگوں سے آسمان بھر دیتے ہیں مگر عید کی خوشیوں سے یہ دل خالی رہ جاتے ہیں۔ دنیاوی میلوں میں تو جاگتے ہیں مگر سنتِ نبویﷺ سے جڑے لمحات میں سو جاتے ہیں۔ یہ صرف غفلت ہی نہیں بلکہ ہماری ترجیحات کا المیہ ہے۔ مہنگائی ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار کسی صورت بھی ممکن نہیں لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم سال بھر اپنی باقی تمام خواہشات پر خرچ کرتے رہتے ہیں؟ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں خواہشات ضرورتوں پر غالب آ چکی ہیں۔ سال بھر ہم اپنی ترجیحات کو غیر محسوس انداز میں ان چیزوں کے گرد ترتیب دیتے ہیں جو ہمیں وقتی خوشی دیتی ہیں، لمحاتی تسکین کے یہ اخراجات بظاہر معمولی ہوتے ہیں مگر یہیں معمولی پن مل کر ہماری معاشی ترتیب کو بگاڑ دیتا ہے۔ پھر جب عید جیسے بابرکت مواقع آتے ہیں تو ہم خود کو ایک تنگ دائرے میں قید پاتے ہیں اور اسی لمحے ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہمارے پاس وسائل کم نہیں ہوتے بلکہ ان کی سمت بدل چکی ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ مہنگائی نہیں بلکہ ترجیحات کا بکھراﺅ ہے۔ ہم نے اپنی خوشیوں کو وقتی خواہشات کے حوالے کر دیا ہے اور جب حقیقی خوشی دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو ہمارے پاس اس کے استقبال کے لیے تیاری ہوتی ہے اور نہ ہی وسعت۔ اگر آج دیانت داری سے اپنے اردگرد
نظر دوڑائیں تو ہمیں یہ ماننے میں دیر نہیں لگے گی کہ مسئلہ عید کے بدلنے کا نہیں بلکہ ہمارے بدل جانے کا ہے۔ عید آج بھی اسی طرح ہی آتی ہے جیسے پہلے اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور خوشیوں کے ساتھ آتی تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے ہم اس کے منتظر ہوتے تھے اور آ ج ہم اس کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم نے اپنی زندگیوں کو اس قدر مصروف، اس قدر منتشر اور اس قدر دنیاوی ترجیحات کے گرد گھما دیا ہے کہ روحانی اور اجتماعی خوشیوں کے لیے ہمارے پاس وقت بچا ہے اور نہ ہی توجہ۔ ہم نے خوشی کو محسوس کرنے کے بجائے اسے دکھانے کا ذریعہ بنا لیا اور اسی عمل میں اس کی اصل روح کہیں کھو دی۔ عید ہمیں صرف نئے کپڑوں، پکوانوں اور وقتی مسکراہٹوں کا پیغام نہیں دیتی بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوشی کا اصل تعلق دل سے ہے، تعلقات سے ہے اور اس شکر سے ہے جو انسان اپنے رب کے حضور جھک کر ادا کرتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک مومن اپنی عبادات کے بعد خوشی کو محسوس کرتا ہے مگر اس خوشی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔ مگر آج ہم نے اس تقسیم کو محدود کر دیا ہے، اپنے دروازے بند کر لیے ہیں، اپنے دائرے چھوٹے کر لیے ہیں اور اپنی خوشیوں کو ذاتی بنا لیا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم عید منا رہے ہیں یا پھر صرف ایک روایت کو پورا کر رہے ہیں۔ اگر عید ہمارے رویوں میں تبدیلی نہیں لا رہی، اگر وہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب نہیں لا رہی، اگر وہ ہمارے اندر شکر اور عاجزی کو پیدا نہیں کر رہی تو پھر ہمیں اس بات کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم نے عید کو صرف ایک رسم بنا دیا ہے۔ ایک ایسا عمل جس میں روح کم اور ظاہری پن زیادہ ہے۔ آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم عید منانے کے انداز کو بدلیں بلکہ اس بات کی ہے کہ ہم خود کو بدلیں، اپنی ترجیحات کو درست کریں، اپنے رویوں کو سنواریں اور اپنی خوشیوں کو ان کی اصل جگہ دیں کیونکہ عید نہ تو بازاروں میں ملتی ہے اور نہ ہی تصویروں میں بلکہ یہ دلوں میں جنم لیتی ہے اور جب دل بیدار ہو جائیں تو پھر مہنگائی رکاوٹ بنتی ہے نہ مصروفیات اور نہ ہی فاصلے۔