Wed, September 16, 2026

سیلاب اور ہماری ترجیحات!!

سیلاب اور ہماری ترجیحات!!

سیلاب کی تباہ کاریاں ہنوزجاری ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ بیشتر کی عمر بھر کی کمائی پانی میں ڈوب گئی ہے۔جب سے یہ آفت نازل ہوئی ہے حکومت اور انتظامی ادارے سیلاب متاثرین کی امداد اور حفاظت کیلئے مقدور بھر کوششوں میں مصروف ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کی خدمت خلق کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ ریسکیو اہلکاروں کو سلام جو اپنی جان پر کھیل کر پانی میں گھرے علاقوں میں جاتے اور ڈوبے ہووں کو وہاں سے نکال لاتے ہیں۔ کیسے دلخراش مناظر ہیں کہ محفوظ مقامات پر منتقلی کے بعدبہت سے لوگ بے چین ہو کر اس سیلابی پانی میں دوبارہ اترتے اور واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ کسی کو اپنے گھر کو ایک نظر دیکھنا ہے ۔ توکسی کو گھر میں موجود قیمتی سامان واپس لانا ہے۔کیسی بے بسی کا عالم ہے۔اس کسان کی بے چارگی کا اندازہ کیجئے۔ جس نے نہایت محنت اور مشقت سے فصل تیار کی تھی۔ تاہم جب پھل کھانے کا وقت آیا تو اس کی سال بھر کی کمائی پانی کی نذر ہو گئی۔ زراعت کو جو نقصا ن پہنچا ہے اس کا درست تخمینہ سیلاب گزر جانے کے بعد ہی لگ سکے گا۔تاہم اندازہ ہے کہ سیلاب نے ستلج ، راوی اور چناب کے قریب واقع تقریبا 2100 دیہات میں چاول، مکئی، سبزیوں سمیت دیگر تیار کھڑی فصلوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سندھ میں داخل ہونے سے قبل یہ سیلابی پانی سندھ سے متصل جنوبی پنجاب کے علاقوں سے گزرتے وقت کپاس کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ زرعی نقصان کسان، خاص طور پر چھوٹے کاشتکار، کو کتنا متاثر کرئے گا۔ فصلوں کی تباہی سے یقینی طور پر اجناس کی قلت پیدا ہو گی۔ اس سے طلب اور رسد کا نظام متاثر ہوگا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ مہنگائی ، جس نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ رکھی ہے، اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ یعنی اب ہم غربت اور غریبوں کی تعداد میں مزید اضافے کے لئے تیار رہیں۔ اس ساری جمع تفریق کو یکجا کریں تو اس نقصان کی کڑی زد قومی معیشت پر پڑے گی۔ اور پھر حکومت کو مزید قرضوں اور امداد کا سہارا لینا پڑے گا۔ 
اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ اس صورتحال میں بھی ہماری ترجیحات کی سمت درست نہیں ہے۔ہم معمول کے کھیل تماشوں میں الجھے ہوئے ہیں۔مثال کے طور پر قومی سیاست پر نگاہ ڈالیں۔ سیاسی مخالفین حسب معمول باہم دست و گریباں ہیں۔ اگرچہ یہ بات نہایت افسانوی اور گھسی پٹی سی معلوم ہو گی، لیکن کیا سیلابی صورتحال اس با ت کی متقاضی نہیں ہے کہ سیاسی اختلافات اور بغض کو کچھ دن کے لئے پس پشت ڈال دیا جائے۔مخالف سیاست دان رنگ برنگے بیانات داغنے کے بجائے مل جل کر سیلاب زدگان کی امداد کریں۔حکومت اور اپوزیشن دنیا دکھاوے کیلئے ہی سہی، اتفاق اور یکجہتی کا تاثر دیں۔ سیاست دانوں کے اس طرز عمل سے سیلاب متاثرین کو حوصلہ ملے گا ۔ انہیں پیغام جائے گا کہ ہماری مشکل میں سیاسی قیادت ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا ایک بیان میری نگاہ سے گزرا۔ مجھے اس کے سیاق و سباق سے آگہی نہیں ہے۔ غالبا کسی صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کیلئے محنت کر رہی ہیں۔ ہے تو یہ ایک عام سا بیان ہی۔ پھر بھی سن کر اچھا لگا۔کبھی کبھار مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور اراکین کو ایسے کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے اچھے کاموں کی تعریف کرنی چاہیے۔ سیاست دا ن مثبت رویہ اپنائیں گے تو اس کے اثرات ان کے حامیوں اور پیروکاروں پر بھی پڑیں گے۔ کچھ سالوں سے قومی سیاست میں جو تلخی آگئی ہے ، اور بہت سوں نے سیاسی پسند ناپسند کو جس طرح ایمان اور کفر کی جنگ بنا دیا ہے۔ سیاسی قائدین کے مثبت رویے سے یقیناسیاسی نفرت اور تلخی میں کمی واقع ہو گی۔
یہ رویہ بھی بے حد عجیب ہے کہ اکثر صحافتی اور عوامی سطح پر بھی ہر معاملے کو سیاست کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ طے کر لیا گیا ہے کہ جسے آپ پسند نہیں کرتے اس کے ہر کام اور عمل کو ہدف تنقید بنانا ہے۔مثال کے طور پر وزیر اعلیٰ مریم نواز طے شدہ دورے پر جاپان میں تھیں تو اعتراض ہو رہا تھا کہ سیلاب کی صورتحال میں انہیں اپنے صوبے میں موجود ہونا چاہیے۔ جاپان سے واپس آکر وہ سیلا ب زدگان کے درمیان ہیں ، تو انہی ناقدین کا مؤقف اب یہ ہے کہ وہ دکھاوے اور فوٹو شوٹ کے لئے سیلابی علاقوں کے دورے کر رہی ہیں۔نصیحت کی جارہی ہے کہ مریم نواز دفتر بیٹھیں اور انتظامی اداروں کو ان کا کام کرنے دیں۔ وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ کے لیے چین گئے تو ناقدین کو اعتراض تھا کہ وہ چین کیوں گئے۔ انہیں سیلاب متاثرین کے درمیان ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہ چین کے دورے کو کینسل کر دیتے ( جو یقینا نہیں کرنا چاہیے تھا)، تب اعتراض اٹھتا کہ وہ اتنے اہم موقع کو چھوڑ کر فوٹو شوٹ کیلئے یہاں رک گئے ہیں۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان پر کوئی خاتون انڈا پھینک دیتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس واقعہ کے علاوہ بات کرنے کے لئے کوئی دوسرا موضوع ہی نہیں ہے۔ اس جماعت کے حامی چاہتے ہیں کہ ماضی میں جوتا اچھالنے، سیاسی پھینکنے ، اور بستر مرگ پر پڑی بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو ڈرامہ کہنے کے واقعات کو تو بھلا دیا جائے لیکن علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کی مذمت کی جائے ۔ جبکہ جو لوگ اس جماعت کو پسند نہیں کرتے وہ اس افسوس ناک واقعے کی مذمت کرنے کے بجائے اگر مگر میں الجھے ہیں ۔اگرچہ اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے واقعات خواہ کسی کے ساتھ ہوں اس کی مذمت کی جائے، لیکن سیاسی تقسیم کی لکیریں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ ہم اخلاقیات اور اخلاقی تقاضوں کو کم ہی خاطر میں لاتے ہیں۔ 
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس وقت ہمیں بے مقصد بحث اور تنقید کے بجائے مصیبت زدگان کی امداد میں اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالنا چاہیے۔ جو ڈوب رہے ہیں ان لوگوں کو کشتیاں درکار ہیں۔ لائف جیکٹس نہیں مل رہیں۔ کھانے پینے کا سامان موجود نہیں ہے۔زیب تن کرنے کے لئے کپڑے نہیں ہیں ۔صابن نہیں ہیں۔ سر چھپانے کو چھت نہیں ہے۔نقدی، زیورات اور دستاویزات رکھنے کو جگہ نہیں ہے۔بچوں کو دینے کیلئے دودھ نہیں ہے۔یقین جانئے لوگوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ کئی چھوٹے بڑے کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ بطور ذمہ دار شہری ہمیں ان کاموں میں حصہ لینا چاہیے۔ 
لازم ہے کہ ہماری توجہ حکومت کی کارگزاری اور امدادی سرگرمیوں پر مرکوز رہے۔ جہاں امداد نہیں پہنچ رہی، یا جہاں امدادی سامان میں خرد برد ہو رہی ہے، ا ن معاملات کو ضرور سامنے لانا چاہیے۔ حکومت کی گرفت کریں اور اس کا قبلہ درست کریں۔ تاہم جہاں اچھا کام ہو رہا ہے ، اس کی تعریف بھی ہونی چاہیے۔ اس صورتحال میں اولین ذمہ داری متعلقہ حکومتوں اور اداروں پر نافذ ہوتی ہے۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد تب تک جاری رکھیں جب تک وہ واپس اپنے گھروں میں منتقل نہیں ہو جاتے۔ اگرچہ یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا بے حد مشکل۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیلئے لازم ہو چکا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کے بعد ان قدرتی آفات کے اثرات سے بچنے کیلئے باقاعدہ پالیسی سازی کریں۔ پالیسی سازی کو کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے حقیقتاً نافذ کریں اور عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ 

ٹیگز: