رمضان المبارک کا 20واں روزہ اور اوپر سے جمعتہ المبارک کا دن، یہ خبر آ گئی کہ پاکستان نے نیوزی لینڈ کو تیسرے T-20میچ میں ہرا دیا ہے۔ اس خبر کے اندر دو خبریں تھیں۔ ایک خبر کہ پاکستان جیت گیا یعنی ہماری ٹیم پر شکست کا جو جمود تھا وہ ٹوٹ گیا، ہارتے ہارتے ہم نے ایک میچ آخرکار ایک فتح ہمارے کھاتے میں آ گئی۔ دل کرتا ہے کہ ’’شکر دے لڈو ونڈا‘‘ دوسرا یہ ہوا کہ ہمارے سامنے اچانک ایک نئے لڑکے حسن نواز کا نام آتا ہے۔ اس نے پاکستان کو دیئے گئے ٹارگٹ 205رنز وہ بھی T-20یعنی بیس اوورز میں حسن نواز نے 44گیندوں پر 105رنز جڑ دیئے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ نوجوان ابھرتا کھلاڑی حسن نواز وہ آیا، وہ کھیلا اور وہ چھا گیا کی مثال بھی بن جائے گا۔ آج پاکستان کیوں جیتا، کس طرح جیتا، یہ میرا موضوع نہیں۔ میری دلچسپی صرف اور صرف حسن نواز پر ہے جس نے ملکی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جو بابراعظم نے بنایا تھا، وہ توڑ دیا۔ حسن نواز کے 105رنز میں دس چوکے اور چھ چھکے شامل تھے اور یہ پہلی ملکی تیز ترین سنچری تھی۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ حسن نواز کون ہے؟ یہ حسن نواز ’’پنجاب دھرتی‘‘ کے ایک خوبصورت شہر لیہ کا شیر بچہ ہے جس کو کرکٹ کے جنون نے ایک طرح کا پاگل کر دیا تھا۔ صبح کرکٹ، دوپہر کرکٹ، شام کرکٹ اور پھر خدا تعالیٰ نے اس بچے کی سن لی اور اس کو دورہ نیوزی لینڈ کے لئے منتخب کر لیا گیا اور اس سیریز میں اپنے ابتدائی دو T-20میچوں میں وہ کامیاب نہ ہو سکا تو دل توڑ بیٹھا۔ اس پر کپتان شاداب نے اسے کہا، ایسا ہوتا رہتا ہے۔ پھر تیسرے میچ میں اس نے نیوزی لینڈ کے بالرز کی لائن اینڈ لینتھ بھلا دی اور چوکوں، چھکوں کی برسات لگاتے ہوئے سو کا فگر اور اپنے تیسرے میچ میں سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کر دیا…
پاکستان کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ پاکستان دنیا کا غالباً میں لفظ غالباً لکھ رہا ہوں کسی کو شک ہو تو وہ دور کرے جس کے پاس ہر میدان کے لئے ٹیلنٹ موجود ہے اور اس کا اعتراف دنیا کرتی ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے کلچر میں سفارش، پرچی اور بغیر میرٹ کے سلیکشن ہے۔ ایک مثال پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ بزدار کی دی جا سکتی ہے کہ اس کو پیرنی کی سفارش پر پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ دے دیا گیا اور اس سفارشی نے جو تباہی کی اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ اسی طرح ہمارے کھیل کے میدان میں ایک نہیں سینکڑوں بزدار سلیکٹ کئے گئے۔ سینکڑوں بزداروں کے پاس نہ علم، نہ تجربہ، نہ ہنر اور وہ بن گئے ہماری شکستوں کے ذمہ دار۔ آپ کو ذرا ماضی کی طرف لے کر چلوں گا۔ پاکستان کی کرکٹ کے ادوار میں ایک دور ایسا بھی گزرا جس میں کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں دی جانے والی پرفارمنس، دوسرا لاہور کراچی میں دو بڑے کوچنگ کیمپ لگا کرتے تھے اور دونوں کیمپوں کے روح رواں فضل محمود اور خان محمد تھے۔ انہی کیمپوں سے آپ کو بڑے سپر سٹارز ملے۔ ان دنوں کراچی لاہور کرکٹ پر بڑے سوالیہ نشان اٹھ رہے تھے کہ کیا انہی دو شہروں کے کھلاڑیوں کو بڑی کرکٹ میں جگہ دی جائے گی۔ اس پر بہت شور و غل ہوا۔ انہی دنوں ملتان سے وقار یونس، شیخوپورہ سے عاقب جاوید اور ملتان ہی سے شاید مشتاق محمد لاہور میں کوچنگ کیمپ میں لائے گئے اور پھر ان کا انتخاب میرٹ پر ہوا۔ یوں علاقائی کرکٹ کا حصہ بھی ڈال دیا گیا اور ان تینوں کھلاڑیوں نے ناصرف حق ادا کیا بلکہ انہوں نے پاکستانی کرکٹ کو بام عروج پر پہنچان۔ میں بڑا کردار ادا کیا۔
اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
کوئی بولے تو برا لگتا ہے
آپ یقین کریں کہ حسن نواز کوئی اچانک نمودار نہیں ہوا۔ ہمارے پاس ایک نہیں ہزاروں حسن نواز جنہوں نے شوق کی خاطر سب کچھ لٹایا، ان کے پاس کھیل تھا، ان کے پاس اپنا ہنر تھا، ان کے پاس چوکے اور چھکے تھے۔ ان کے پاس بہترین پرفارمنس تھی۔ اگر نہیں تھی تو کسی پیرنی کی سفارش، کسی پیرنی کی پرچی، کسی پیرنی کی فون کال اور وہ کسی سیاسی بڑے کا منظور نظر نہیں تھا۔ وہ نہ کسی کرکٹ کیمپ میں آ سکتا تھا، نہ کرکٹ بورڈ کے اس پر دروازے کھلتے تھے۔ میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری کرکٹ ٹیم میں زیادہ تر وہ کھلاڑی آئے جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ نہیں تو کھیل نہیں۔ پھر ایسے ہی ہونہاروں اور ستاروں کو ہم نے اپنے ہی ہاتھوں کیسے کھیل بدر کیا۔ اس کی تاریخ کھلی کتاب کی طرح موجود ہے۔ آپ نے سفارشیوں کو جگہ دے کر سرعام میرٹ کا قتل عام کیا۔ آج بھی آپ کے اردگرد ایک نہیں سینکڑوں حسن نواز موجود ہیں جن کی مائیں ان کو کھیلتے نہیں دیکھتی ہیں کہ ان کی ماں کی نظر نہ لگ جائے اور جن کی نظر ایسے حسن نوازوں پر پڑنی چاہئے انہوں نے اپنی آنکھیں ہی بند کر رکھی ہیں۔ وہ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی آج بھی ان کو نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔ وہ آج بھی ان ہونہاروں کے لئے کرکٹ کے دروازے نہیں کھول رہے۔ آج بھی ہمارے پاس بابراعظم اور رضوان، شاداب، نسیم شاہ اور شاہین جیسے چہروں کے پیچھے پاکستان کو بڑا نام دینے والے چہرے موجود ہیں۔ حسن نواز پر مسرور انور کا یہ گیت یاد آ رہا ہے۔
اپنی جان نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مجاہد تجھے کیا پیش کروں
حسن نواز کا تعلق اس شہر سے ہے جس کو ہم دیہاتی شہر تصور کرتے ہیں۔ یہ بات میں لاہور شہر کی صورت میں کر رہا ہوں جہاں قدم قدم پر سہولیات اور لیہ جیسے شہروں میں نہ میدان، نہ سہولیات اور نہ مقابلوں کے رحجانات ایسے ہیں۔ حسن نواز کا اسلام آباد چلے جانا اپنے کھیل کے شوق میں گھر بار چھوڑنا اور پھر بہن نے اپنے دلارے بھائی کے شوق کو پورا کرنے کی خاطر سب کچھ نچھاور کر دیا اور قوم کو حسن نواز دیا۔ حسن نواز پاکستان کو وہ ہیرا ملا ہے اور مجھے ڈر ہے، مجھے خوف ہے کہ کہیں اس کے ساتھ بھی ہمارے مہربان سلیکٹرز وہ حشر نشر نہ کر دیں جو دوسروں کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ ڈر اس بات کا ہے کہ وہ ٹیم میں اپنی پرفارمنس پر آ تو گیا اور اس نے اپنی سلیکشن کا حق بھی ادا کر دیا اور وہ اپنے کیریئر کے تیسرے میچ ہی میں میچ ونر بھی بن گیا۔ کہیں وہ کسی سلیکٹر کی بد نظر کا شکار نہ ہو جائے کہ ہم نے اپنی انائوں، ضدوں اور اقرباء پروری میں کئی حسن نواز کرکٹ کے میدان کی بھینٹ چڑھا دیئے۔ حسن نواز جیسے نایاب ہیرے قسمت سے ملتے ہیں۔
اور آخری بات…
اگر خدا تعالیٰ نے ایک بہن کی وساطت سے قوم کو حسن نواز دیا ہے تو خدارا اس کو ضائع نہ کریں۔ یہ وہ ہیرا ملا ہے جس کو مزید تراشیں گے تو اس کی چمک کرکٹ کو اندھیروں سے نکال دے گی۔