Wed, September 16, 2026

ڈبل ایکشن سیاسی راہنما!

ڈبل ایکشن سیاسی راہنما!

ایک کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد حکومت سے آئوٹ کیا ہونا تھا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا ۔ اگرچہ بعض تجزیہ کارں اور پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کا خیال ہے کہ یہ سیاسی پارٹی ملک کی مقبول ترین جماعت ہے اور اگر آج بھی حقیقی معنوں میں صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانا انتخابات کرا دیئے جائیں تو ان کی جماعت یقینی طور پر واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اگر تو ان تجزیوں اور خیالات کی بنیاد بڑھک بازی، جھوٹ ، یو ٹرن، پراپیگنڈا اور لوٹا کریسی ہے تو پھر تو یقینا ان تجزیوں کو درست مان لینا چاہیے لیکن اگر ایک حقیقی جائزہ لیا جائے تو اس قسم کی صورتحال کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ 
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین صاحب تو خیر سے کرپشن، ہیر اپھیری اور اداروں پر حملہ کرنے اور ان کے خلاف منظم مہم چلانے جیسے مقدمات میں جیل میں ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے باہر آنے کے کوئی امکانات بھی نظر نہیں آتے۔ اگرچہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے انہیں رہا کرا لینے کے لیے مختلف دعوے اور ٹائم فریم سامنے آتے رہتے ہیں لیکن یہ سب باتیں بھی اسی طرح غلط اور جھوٹ ثابت ہوئی ہیں جس طرح عوام کو لاکھوں مکانات، کروڑوں نوکریاں فراہم کرنے، بے شمار ڈیمز تعمیر کرنے، اربوں درخت لگانے، وقتاً فوقتا اپنے مخالفین کی حکومت کی چھٹی کروا دینے یااپنے ہی ملک کی اقتصادی صورتحال کو ناکامی سے دوچار کرا دینے کے دعووں کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ چکی ہے۔ 
ایک طرف تو پی ٹی آئی اس قسم کی صورتحال سے پریشانی سے دوچار ہے تو دوسری طرف کسی کو بھی یہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ اعلیٰ قیادت میں سے کون اصلی ہے اور کون جعلی، کون پارٹی اور عمران خان کا حقیقی وفادار ہے اور کون وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہا ہے غرض عجیب مخمصے کی صورتحال ہے۔ ویسے تو پی ٹی آئی کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مسٹر عمران خان کا خاندان سیاسی عمل کا حصہ نہیں لیکن اس کے باوجود پارٹی امور میں نندوں اور بھابی کی گروپ بندی اور لابنگ ایک سو اسی ڈگری پر ایک دوسرے کے مخالف سمت میں چلتی ہے۔ایک طرف تو پارٹی کی مین قیادت نووارد بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے تو دوسری طرف علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر خان جیسے لوگوں پر وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کے سنجیدہ الزامات ہیں۔ 
وزیر اعلیٰ بننے کے بعد علی امین نے جو جو قلابازیاں لگائیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔جلسے جلوسوں اور اخباری بیانات میں فل بڑھک بازیاں اور دھمکیاں دینے کے بعد یہ صاحب وفاق اور اداروں کے ساتھ میٹنگز میں وہ مکمل گڈ بوائے بن کر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس ڈبل ایکشن پالٹکس کے ساتھ ساتھ لگتا ہے کوئی سلمانی ٹوپی بھی ان کے ہاتھ لگی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی تو وہ کئی کئی دن کے لیے غائب ہو جاتے ہیں، کبھی پیدل ہی بھوکے پیاسے کئی کئی اضلاع کا سفر کر ڈالتے ہیں اور کبھی تمام تر دعوں اور بڑھک بازی کو بھولتے ہوئے اپنے قائد کی بیوی کو بے یارومددگار چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر جاتے ہیں۔ گنڈا پور کی سرگرمیوں میں مشکوکیت جب حد سے بڑھی تو ان کے قائد عمران خان نے مرحلہ وار انہیں سائیڈ لائن کرنے کا فیصلہ کیا اور پہلے مرحلہ میں ان سے خیبر پختونخوا میں پارٹی کی صوبائی صدارت واپس لے کر ان کے مخالف دھڑے سے تعلق رکھنے والے جنید اکبر کو اس عہدہ پر نامزد کر دیاگیا۔  پی ٹی آئی چونکہ ایک ون مین شو ہے اور صرف فرد واحد کی خوشنودی ہی کسی بھی قسم کا عہدہ یا پارٹی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے درکار ہے۔ ممکن ہے جنید اکبر اور اس کے گروپ نے مسٹر عمران خان کو اپنی وفاداری کا بھر پور یقین دلایا ہولیکن لگتا نہیں ’ دوسری سائیڈ‘ یعنی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی اس کی وفاداری پر کوئی شک ہے۔ 
قومی اسمبلی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین ایک انتہائی حساس عہدہ ہے۔ چونکہ اس عہدہ پر کسی اپوزیشن رکن نے ہی نامزد ہونا ہوتا ہے لیکن اس نامزدی کے لیے حکومت کی منشا بھی ضروری ہے۔ اسی کشمکش کی وجہ سے کئی ماہ تک اس عہدہ کے لیے کسی بھی رکن اسمبلی کو منتخب نہ کیا جا سکا لیکن جب بات جنید اکبر کی آئی تو ان کی نامزدگی متفقہ طور پر کر دی گئی۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ جنید اکبر کا نام حکومت کی طرف سے ہی تجویز کیا گیا تھا۔ لگتا ہے کہ جنید اکبر بھی اچھے خاصے گھاگ سیاستدان ہیں اسی لیے وہ بیان بازی کی حد تک تو بھر پور انداز میں حکومت کوآڑے ہاتھوں لیتے ہیں لیکن جب ’ان کی جانب سے‘ کوئی ڈیوٹی لگ جائے تو اسے بھی بھر پور انداز میں نبھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔ 
سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد حکومت کی جانب سے پہلے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی بات ہوئی ۔ لیکن پی ٹی آئی کے وتیرہ کے پیش نظر اسے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس قسم کے اجلاس کی ضرورت تھی کہ اس کے نتیجہ میں کوئی متفقہ قرارداد منظور کی جاتی۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پی ٹی آئی اور عمران خان کا موقف تو بالکل واضح ہے اسی لیے حکومت کو یقین تھا کہ پی ٹی آئی کی موجودگی میں متفقہ قرارداد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 
ابتدائی طور پر تو حکومت کا خیال تھا کہ حسب روائت پی ٹی آئی اس اجلاس میں شرکت سے انکار کر کے اس کا بائیکاٹ کر دے گی لیکن غیر متوقع طور پر ناصرف انہوں نے دعوت نامہ قبول کر لیا بلکہ اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے اراکین کی فہرست بھی بھجوا دی۔ حکومت کی اس پریشانی کا حل جنید اکبر کی صورت میں سامنے آیا جنہوں نے پارٹی کی تمام مین قیادت کی رائے کے برعکس یہ موقف اپنایا کہ بانی چیئرمین کی منظوری کے بغیر پی ٹی آئی کو ایسی کسی بھی میٹنگ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے اور ان کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ان سے ملاقات ہونا انتہائی ضروری ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام کارروائی میٹنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل رات گئے عمل میں آئی۔ 
یقینا جنید اکبر نے ایک ایسا نقطہ اٹھا دیا تھا کہ جس کی مخالفت کرنا پی ٹی آئی کے کسی بھی رکن کے لیے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ ان کی بات پراتفاق رائے ہوا اور رات گئے پارٹی کا اعلانیہ جاری ہو گیا کہ حکومت اگر فوری طور پر بانی صاحب سے ملاقات نہیں کرائے گی تو پی ٹی آئی کا وفد مذکورہ اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اجلاس سے باہر رکھنے کے لیے معاملہ چونکہ پری پلان تھا اس لیے ملاقات کی اجازت دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بس اس طرح سے حکومت کی خواہش بھی پوری ہو گئی اور پی ٹی آئی کی اکڑ بھی قائم رہی، لیکن ہمارے جنید اکبر صاحب کی دونوں طرف سے بلے بلے ہوگئی۔

ٹیگز: