گزشتہ روز میرے بزرگ دوست فاروق لودھی صاحب، ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ جیل، کا فون آیا۔ خیریت دریافت کی تو ایک گہری آہ بھر کر بولے: آصف بیٹا! کیا خیریت ہونی ہے؟ بائی پاس ہو چکا ہے، فالج کا اثر بھی موجود ہے، روزانہ دوائیاں ہیں، فزیوتھراپی ہے، ڈاکٹر ہیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ میں نے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی کہ بڑھاپے میں ایسی مشکلات اکثر لوگوں کو پیش آتی ہیں، مگر جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کا دکھ ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہے۔ وہ اپنی بیماری سے زیادہ پنجاب اور پاکستان کے لاکھوں پنشنرز کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔ فاروق لودھی صاحب کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں گزاری۔ میں انہیں بچپن سے جانتا ہوں۔ جب ملک میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی، تب بھی وہ مسلم لیگ (ن) کے سرگرم حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ دوستوں سے سیاسی بحثیں کرتے، اپنی جماعت کا دفاع کرتے اور اپنے سیاسی نظریات پر ڈٹے رہتے۔ لیکن آج وہ اسی جماعت کی حکومت سے شاکی ہیں۔ ان کا سوال سادہ مگر بنیادی تھا: اگر تشہیری مہمات، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اخراجات کے لیے اربوں روپے موجود ہیں تو ان لوگوں کے لیے مناسب وسائل کیوں نہیں جو اپنی پوری جوانی ریاستی نظام کو چلانے میں صرف کر چکے ہیں؟ ان کے نزدیک پنشن کوئی خیرات نہیں بلکہ ایک ایسا حق ہے جس کی بنیاد ملازمت کے دوران کی جانے والی کٹوتیوں، ادا کیے گئے ٹیکسوں اور برسوں کی خدمات پر قائم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا سرکاری ملازم اپنی ملازمت کے دوران صرف انکم ٹیکس ہی ادا نہیں کرتا بلکہ اس کی تنخواہ سے جنرل پراویڈنٹ فنڈ، کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ، بینیوولنٹ فنڈ، گروپ
انشورنس اور دیگر مدات میں باقاعدہ کٹوتیاں بھی کی جاتی ہیں۔ یہ رقوم دراصل اس کے مستقبل کے تحفظ کے لیے مختص ہوتی ہیں۔ گویا پنشن کسی حکومتی احسان کا نام نہیں بلکہ ملازم کی اپنی سرمایہ کاری کا تسلسل ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ مہنگائی کے دور میں ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی پنشن ایک باوقار زندگی کے لیے کافی ہے؟ بجلی، گیس، ادویات، علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے پنشنرز کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ جب مہنگائی کی شرح دو ہندسوں میں ہو اور پنشن میں اضافہ صرف دو فیصد یا اس کے قریب ہو تو پنشنرز کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یہاں ترقی یافتہ ممالک کا تجربہ ہمارے لیے قابلِ غور ہے۔ برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا اور دیگر فلاحی ریاستوں میں پنشن کو محض ایک مالی ادائیگی نہیں بلکہ سماجی تحفظ کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ کا معروف ٹرپل لاک نظام پنشن میں اضافے کو مہنگائی، اجرتوں میں اضافے یا کم از کم 2.5 فیصد شرح سے منسلک کرتا ہے۔ امریکہ میں سوشل سکیورٹی نظام کے تحت ملازم اور آجر دونوں پنشن فنڈ میں حصہ ڈالتے ہیں، جبکہ یورپی ممالک میں صحت اور ادویات کی اضافی سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں تاکہ بزرگ شہری معاشی دباو¿ کا شکار نہ ہوں۔ اس کے برعکس پاکستان میں پنشن کا معاملہ اکثر سالانہ بجٹ کے اعلانات اور محدود مالی وسائل کی بحث تک محدود رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اپنی زندگی کے اس مرحلے میں غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں جب انہیں سب سے زیادہ تحفظ اور سہارا درکار ہوتا ہے۔ فاروق لودھی صاحب کی گفتگو کا ایک اور پہلو بھی تھا۔ ان کا خیال تھا کہ پنشنرز کے ساتھ ہونے والا یہ رویہ حکومت کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ لاکھوں پنشنرز اور ان کے خاندان ووٹر بھی ہیں۔ لیکن گفتگو کے دوران ایک اور سوال ابھرا: کیا آج بھی سیاست کا فیصلہ صرف ووٹ کرتا ہے؟دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ روایتی سیاسی نظریات، عوامی تحریکیں اور انتخابی مہمات اب سرمایہ، میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور رائے سازی کے جدید ذرائع کے سامنے کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ چند عالمی مالیاتی اور تکنیکی طاقتیں، بڑے سرمایہ دار گروہ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز عوامی رائے پر غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جمہوری عمل پر دولت اور طاقتور مفادات کا اثر پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ووٹ مکمل طور پر بے معنی ہو چکا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جدید دنیا میں رائے عامہ کی تشکیل کے ذرائع بدل چکے ہیں۔ اب عوامی شعور، میڈیا، سرمایہ اور ڈیجیٹل اثرو رسوخ سب مل کر سیاسی نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تاہم اس تمام بحث کا مرکزی نکتہ وہی رہتا ہے جس سے گفتگو کا آغاز ہوا تھا: ریاست اپنے بزرگ شہریوں اور ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے؟ کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی کا معیار بلند عمارتیں، شاہراہیں اور تشہیری مہمات نہیں ہوتیں بلکہ وہ عزت اور تحفظ ہوتا ہے جو وہ اپنی خدمت گزار نسل کو فراہم کرتا ہے۔ پنشنرز کسی قوم پر بوجھ نہیں ہوتے۔ وہ اس قوم کا تجربہ، اس کی یادداشت اور اس کی ادارہ جاتی تاریخ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جوانی، صحت، صلاحیتیں اور زندگی کے بہترین سال ریاست کے نام کیے ہوتے ہیں۔ اگر ان کے بڑھاپے میں انہیں معاشی تحفظ، مناسب صحت کی سہولتیں اور باوقار زندگی میسر نہ ہو تو یہ صرف ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کا سوال بن جاتا ہے۔ آج پاکستان کے لاکھوں پنشنرز یہی سوال کر رہے ہیں: کیا ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کا صلہ صرف چند فیصد اضافہ اور مسلسل معاشی بے یقینی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر ایک فلاحی ریاست اور محض ایک انتظامی ریاست میں فرق کیا رہ جاتا ہے؟یہ سوال صرف پنشنرز کا نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔