Wed, September 16, 2026

قانون کی آنکھیں بند کیوں ہیں

قانون کی آنکھیں بند کیوں ہیں

کہا جاتا ہے کہ ریاست کی بنیاد تلوار پر نہیں بلکہ قانون پر استوار ہوتی ہے مگر جب قانون خود بے آسرا ہو جائے ، جب انصاف کی دیوی آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائے تو ایسے میں جرم نظام کا حصہ بن جاتاہے اور مظلوم صرف تماشائی ۔پاکستان کا قانون آج ایک ایسی چیخ ہے جس کی گونج سنائی تو دیتی ہے مگر سمجھی نہیں جاتی۔آئین کے اوراق میں درج شقیں خواب کی مانند حسین تو ہیں مگر ویسے ہی غیر حقیقی بھی ہیں ۔دنیا کے وہ ممالک جہاں ریاست ، قانون کے ستونوں پر استوار ہوتی ہے وہاں ہر شہری کو ایک مساوی عدالتی تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ مگر ہمارے ملک میں قانون کی عدم فراہمی ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکی ہے جو صرف فرد کے حقوق پر ضرب نہیں لگا رہا بلکہ پورے معاشرتی نظام کو گھن کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ یہاں قانون موجود ضرور ہے مگر کتابوں میں ،یا پھر ان تقریروں میں جو طاقت کے ایوانوں میں گونجتی ہیں ۔ قانون کی عدم فراہمی کوئی حادثاتی مظہر نہیں بلکہ ایک منظم رویہ ہے جو ہمارے نظامِ عدل ، ہمارے قانون نافد کرنے والے ادارے اور ہمارے بیوروکریٹک ڈھانچے کی سوچ میں پیوست ہو چکا ہے ۔ یہاں انصاف خریدنا پڑتا ہے ، سچ بولنے والوںکی آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور مظلوم صرف وقت ضائع کرنے کے کے لیے عدالتوں کا چکر لگاتا ہے ۔یہاں ’قانون اندھا ‘صرف اس لیے نہیں کہا جاتا کہ قانون سب کو برابر دیکھتا ہے بلکہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ قانون نے ظلم کے خلاف ، طاقت کے سامنے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ جس معاشرے میں قانون کی کرسی خالی ہو وہاں انصاف کے تاج ان لوگوں کو پہنا دیے جاتے ہیں جنہیں قانون کا مطلب ہی نہیں آتا ۔ تھانے سفارش کے بغیر حرکت نہیں کرتے ، عدالتیں تاریخ پر تاریخ دیتی ہیں ۔انصاف کا حصول یہاں سب سے مشکل ،سب سے مہنگا اورسب سے غیر یقینی عمل ہے ۔ قانون کی غیر موجودگی صرف مجرم کو مضبوط نہیں کرتی بلکہ پورے معاشرے کو خوف ، بے یقینی اور خود احتسابی کے بحران میں دھکیل دیتی ہے ۔ جب ریاست شہری کی حفاظت سے دستبردار ہو جائے تو پھر ہرفرد کو یاتو بندوق اٹھانی پڑتی ہے یا ہجرت کرنی پڑتی ہے۔ 
یہاں تھانے کے دروازے صرف ان کے لیے کھلتے ہیں جن کے پاس تعلقات کی چابی ہو ۔ ایک عام شخص کی ایف آئی آر درج ہونا ، سورج کے مغرب سے نکلنے جتنا محال ہو چکا ہے ۔ مقدمات کے فیصلے نسلیں کھا جاتے ہیں ۔یہ وہ ریاست ہے جہاں مظلوم کو صبر کامشورہ دیا جاتا ہے ۔انصاف مانگنے والا یہاں گستاخ اور ظالم سے سوال کرنے والا باغی کہلاتا ہے ۔قانون کی غیر موجودگی صرف عدالت کے کمرے تک محدود نہیںبلکہ ہمارے اسکول ،اسپتال ، میڈیا اور مسجد تک سرایت کر چکی ہے ۔کہیں جعلی ادویات فروخت ہو رہی ہیں ، کہیں جعلی ڈگریاں ۔جب ریاست قانون کے نفاذ سے دستبردار ہو جائے تو پھر ہر ضمیر نیلام ہو جاتا ہے اور انصاف ہر دکان پر بکتاہے ۔ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انصاف تحریری ہوتا ہے عملی نہیں ،فیصلے سنائے تو جاتے ہیں مگر نافذ نہیں کیے جاتے ۔عدالتیں موجود ہیں مگر عدل مفقود ہے اور یہی وہ سچ ہے جو ہمیں بار بار جھنجھوڑتا ہے ۔نظامِ عدل کی عمارت وہ درخت بن چکی ہے جس کے سائے میں صرف طاقتور آرام کرتے ہیں ۔جہاں غریب کے مقدمے برسوں کھٹائی میں پڑے رہتے ہیں اور صاحبِ اختیار کے لیے انکے در کھلے رہتے ہیں ۔انصاف میں تاخیر انصاف کے انکار کے مترادف ہے ، ہماری عدالتوں میں آج بھی لاکھوں مقدمات التوا کا شکار ہیں ، ایک مقدمہ کئی سال تک چلتا ہے گواہ مر جاتے ہیں ، ثبوت مٹ جاتے ہیں لیکن انصاف کا جنازہ پھر بھی پوری شان سے اٹھتا ہے ۔قانون ایک ترازو نہیں ایک خواب تھا جو کسی دور میں کسی درویش نے انسانیت کی آنکھوں میں بسایا تھا ۔مگر اب وہ خواب ٹوٹ چکا ہے اور اس کی کرچیاں ہمارے معاشرے کی رگوں میں چبھ رہی ہیں ۔ریاستیں توپ و تفنگ سے نہیں قانون کی حاکمیت سے قائم رہتی ہیں اور جب قانون کمزور کی لاش پر چپ سادھ لے اور طاقتور کے ہاتھ میں تلوار کی طرح لہرانے لگے تو وہ قانون نہیں رہتا ظلم کا آئینی لبادہ بن جاتا ہے ۔بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں چور کو برا نہیں سمجھا جاتا صرف کمزور چور کو سزا دی جاتی ہے ، جہاں لوگ رشوت کو برا نہیں کہتے۔قانون معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے ، وہی آنکھ جو جرم کو پہچانے ، مظلوم کو دیکھے اور ظالم کو بے نقاب کرے ۔ مگر جب یہی آنکھ خود اندھیرے سے مصالحت کر لے تو جرم بڑھتے ہیں، انصاف مرتا ہے اور معاشرہ تماشائی بن جاتا ہے ۔۔خلیفہ دوم کے دور میں ایک چرواہے کی بکری اگر دریائے فرات کے کنارے پیاس سے مر جاتی ، تو وہ خود کو ذمہ دار ٹھہراتے۔۔ اور یہاں؟یہاں اگر کوئی مظلوم تھانے کے دروازے پر انصاف مانگتے مانگتے دم توڑ دے تو سب تحقیقات کے سائے میں سو جاتے ہیں ۔شومئی قسمت کہ ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں قانون محض کمزوروں پر نافذ کیا جاتا ہے اور طاقتوروں کے لیے اسے معطل رکھا جاتا ہے ۔یہاں زمینوں پر قبضے کے مقدمے برسوں عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں مگر بادشاہ گر ایک ٹیلی فون کال پر زمین بھی لے لیتے ہیں ، اس پر پلازہ بھی کھڑا کر لیتے ہیں اور ہمارا قانون کربلا کے بے بس تماشائی کی طرح خاموش کھڑا تکتا رہتا ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے : 
’انصاف پر قائم رہو ، خواہ وہ تمھارے خلاف ہی کیوں نا ہو‘ ۔ مگر ہماری عدالتوں میں انصاف کا ترازو اکثر مفاد کی ہتھیلی پر تولا جاتا ہے ،یہاں سچ بولنا خطرہ اور جھوٹ بولنا مہارت بن چکا ہے ۔پاکستان میں انصاف کا تصور اکثر کاغذی طور پر مکمل دکھائی دیتا ہے آئین موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں ، دفعات اور ضوابط موجود ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب موجود ہونا ہی کافی ہے؟ قانون کے نفاذ میںصرف لکھا ہوا قانون نہیں، اس کی نیت ، ترجیح اور اس کی عملداری سب معنی رکھتی ہے۔ہمارا نظامِ انصاف عملاً دو رخ رکھتا ہے ، ایک وہ جو کتابوں میں تحریر ہے اور دوسرا وہ جو عوام کو روزمرہ زندگی میں درپیش ہوتا ہے ۔ آئین کہتا ہے کہ سب شہری برابر ہیں مگر عملی تجربہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف بھی طبقاتی عینک سے دیکھتا ہے یہی وہ امتیاز ہے جو قانون کی بصارت پر دھند ڈال چکا ہے ۔جو قومیں وقت کی جدت اور ضرورت کے ساتھ خود کو تبدیل نہیں کرتیں وہ تاریخ کے اوراق سے مٹا دی جاتی ہیں ۔ ہمارے ہاں بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں ترمیم اور عدالتی نظام کو مزید فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون سازی کے عمل کو غیر جانبدار بنایا جائے ، تا کہ سیاسی مداخلت اور ذاتی مفادات کے بجائے عوامی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے ۔

ٹیگز: