ایران اسرائیل جنگ کے گیارہویں دن صورتحال پہلے دن سے قدرے مختلف نظر آرہی ہے۔ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل اور اسرائیلی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی دفاعی صلاحیت وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔ اسرائیلی اخبارات اور ترجمانوں کے بیانات اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ جارحیت میں پہل کرنے والا اسرائیل جنگ کی طوالت سے خوفزدہ ہے۔ اس کے اسلحہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں لگتا ہے وہ جنگ جلد ختم کرنا چاہتا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مزید دس بارہ روز میں جنگ ختم نہ ہوئی اور ایران کے حملوں میں شدت اسی طرح برقرار رہی تو اسے امریکا کی فوری مدد درکار ہوگی۔ جس کا مقصد بقول مشاہد حسین سید ”نیو کلیئر بہانہ انقلاب نشانہ“ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اتنی مہنگی ہے کہ اسرائیل زیادہ دیر تک اپنی معیشت کی تباہی برداشت نہیں کرسکے گا۔ ایک رات کے میزائل حملوں پر ایک ارب شیکل (اسرائیلی کرنسی) یعنی 285 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ تل ابیب، یروشلم، حیفہ اور دیگر شہروں میں رہنے والے 98 لاکھ یہودی اس صورتحال سے خوفزدہ اور پریشان ہیں۔ ان میں سے 30 ہزار کشیوں اور دیگر ذرائع سے فرار ہوچکے ہیں باقی بنکرز میں چھپے ہیں۔ یہودیوں کی اکثریت احتجاجی مظاہروں پر اتر آئی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جنگ ختم کر کے انہیں غزہ جیسی صورتحال سے بچایا جائے۔ اس کے برعکس ایران طویل جنگ کا ماہر ہے۔ عراق میں 8سال تک فضول جنگ لڑ چکا ہے۔ وہ اپنے میزائل اور دیگر خفیہ ہتھیار انتہائی احتیاط سے استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل سمیت مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اب تک اس کے میزائلوں اور خوفناک ہتھیاروں کی تعداد کا پتا نہیں لگا سکیں، ان کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس 2 ہزار میزائل تھے امریکی خفیہ اداروں نے تعداد 4 ہزار بتائی ان میں سے 4 سو فائر کرچکا ہے۔ تاہم اس کے پاس اب بھی نصف سے زیادہ یا نامعلوم تعداد میں ہتھیار موجود ہیں۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل نے ایران کے 14 سائنسدانوں اور چاہ بہار میں موجود بھارت اور یہودی ایجنٹوں (جن کے بارے میں پاکستان ایران کو خبردار کرتا رہا کہ یہ آستین کے سانپ موقع آنے پر اسے ڈس لیں گے) کے خفیہ سینٹر کی نشاندہی پر پوری ایرانی فوجی قیادت کو شہید کردیا۔ قم، مشہد، تبریز، اصفہان اور تہران میں تنصیات، اسپتالوں اور شہری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا لیکن ایران کے تابڑ توڑ میزائل حملوں سے حال ہی میں کلیئر میزائل حملہ سے تل ابیب، حیفہ اور دیگر شہروں میں اس کے فوجی ہیڈ کوارٹر، آئل ریفائنری، آئرن ڈوم اور متعدد عمارتوں سے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ رپورٹس کے مطابق اب تک یہودی ریاست کی 80 سے زائد عمارتیں تباہ اور 22 ناقابل رہائش قرار دی جاچکی ہیں۔ تل ابیب کی سانسیں رک رہی ہیں۔ حیفہ میزائلوں سے لز رہا ہے جنگ ڈیجیٹل مراکز تک پہنچ رہی یا پہنچ چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ کا بڑا ”کھلاڑی“ ایران کے نت نئے خفیہ میزائلوں اور کلسٹر میزائل کے خوف سے چاروں شانے چت پڑا ہے اور اس کا وزیر اعظم رحم طلب نگاہوں سے امریکا کو جلد ہی جنگ میں کودنے کے بیانات دے رہا ہے۔ امریکا اسرائیل کا سب سے بڑا حامی اور ٹرمپ کو اسرائیل کی حالت زار کا مکمل ادراک جنگ میں پورے ہاتھ پاﺅں اور ایٹمی قوت سے کودنے کے لیے پر تول رہا تھا مگر ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جو امریکا کی 250 ویں فوجی پریڈ دیکھنے سرکاری دعوت پر وہاں موجود تھے جنگ کی بازی پلٹ دی۔ فاتح ہند فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت سے چار روزہ جنگ جیت کر عالمی منظر ناموں میں پاکستان کے بنیادی کردار کا تعین کردیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور کابینہ سے مشاورت کے بعد امریکی دورے پر واشنگٹن پہنچے۔ پریڈ کا معائنہ کیا صدر ٹرمپ نے سارے پروٹوکول توڑ کر انہیں وہائٹ ہاﺅس بلایا۔ کیبنٹ روم میں مقررہ ڈیڑھ گھنٹے کی بجائے دو گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ فیلڈ مارشل سے ملاقات میرے لیے بڑا اعزاز ہے وہ مجھ سے زیادہ ایران کو جانتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے ٹرمپ کو سمجھایا کہ پاک بھارت جنگ رکوا کر آپ نے پورے خطے کو تباہی سے بچا لیا۔ اسرائیل ایران جنگ میں امریکہ کی شمولیت تیسری عالمی ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور امریکہ 52 اسلامی ممالک کی حمایت کھو بیٹھے گا اگر آپ اس جنگ کو روکنے میں کامیاب ہوگئے تو بلا شبہ آپ نوبل پرائز کے حقدار قرار پائیں گے۔ فیلڈ مارشل نے انہیں پاکستان کی معدنیات اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری پر بھی آمادہ کرلیا۔ یہ پاکستان کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے کہ تینوں سپر پاورز چین روس اور امریکا پاکستان کو با اعتماد دوست سمجھنے لگے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں خان کا کردار افسوسناک ہے۔ جیل سے باہر پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور دیگر رہنماﺅں نے اسرائیلی حملہ کی مذمت کی لیکن جیل کے اندر خان نے مذمت سے انکار کرتے ہوئے قوم کو متحد ہونے کا بھاشن دیا۔ مذمت نہ کرنے کی وجہ سمجھ میںآتی ہے ان کے بیٹے اور بیٹی یہودیوں کی گود میں پروان چڑھے ہیں محسنوں کی مذمت کیوں کریں۔
گزشتہ دو ہفتوں سے عید الاضحیٰ کے موقع پر کامران شاہد کے عید پروگرام پر لکھنے کا ارادہ تھا لیکن اسرائیل کے حملے نے حالات بدل دیے۔ اداکار شاہد کے صاحبزادے کامران شاہد کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ بھانڈوں کے پروگرام میں مجیب الرحمان شامی جیسے شریف انسان سینئر ترین صحافی موجودہ کھیپ کے استاد اور ہمارے ہم عصر اور محترم و مکرم کالم نگار، تجزیہ کار اور سب کو بے نقط سنانے والی مقبول ترین شخصیت سہیل وڑائچ، با عزت خاندان کے فرد انجینئر جواد احمد اور سنجیدہ مزاح کے بانی سہیل احمد کو مدعوکر کے انہیں ارشاد بھٹی اور فضہ علی کے آگے ڈال دیں اور ان کی عزت کے پرخچے اڑائیں، اداکارہ کا ان قبیلہ سے تعلق ہے جو ماﺅں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں اور اگر کسی شریف خاندان کی اولاد ہوں تو ان کے باپ بیٹی کا نام لینے سے کتراتے ہیں ارشاد بھٹی چینلز پر بہت پرانے ہوچکے انہیں سینئرز کے بارے میں احترام کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ پروگرام ریکارڈ تھا تو فضہ علی کے ریمارکس اور چاچا کے الفاظ ڈیلیٹ کیے جاسکتے ہیں۔ مجیب الرحمان شامی اور سہیل وڑائچ ما شاءاللہ شہرت کی معراج پر ہیں۔ انہیں بھی بھانڈوں کے پروگراموں میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہےے۔