Wed, September 16, 2026

نشانہ بازی فوجی تربیت کا ایک لازمی حصہ ہونی چاہیے، جو جسمانی اور ذہنی مہارتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے،فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر

نشانہ بازی فوجی تربیت کا ایک لازمی حصہ ہونی چاہیے، جو جسمانی اور ذہنی مہارتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے،فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر

راولپنڈی : پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ نشانہ بازی فوجی تربیت کا ایک لازمی حصہ ہونی چاہیے، جو فوجیوں کی جسمانی اور ذہنی مہارتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ یہ بات انہوں نے 45ویں پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن سینٹرل میٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

جہلم میں منعقدہ اس مقابلے میں پاک فوج کے علاوہ فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز اور صوبائی ٹیموں نے بھی بھرپور حصہ لیا، اور دو ہزار سے زائد شوٹرز نے اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ پاک فوج نے اس سال کی تینوں اہم شوٹنگ چیمپئن شپ جیت کر نمایاں کامیابی حاصل کی۔ پنجاب رجمنٹ نے یونٹ فائرنگ پروفیشنسی میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ سپاہی محمد عرفان کو ماسٹر ایٹ آرمز اور نائب صوبیدار عمر فاروق کو آرمی ہنڈرڈ رائفل میچ ٹرافی سے نوازا گیا۔

آرمی چیف نے ان کامیابیوں پر شرکاء کو سراہتے ہوئے کہا کہ "نشانہ بازی میں مہارت فوجی تربیت کا بنیادی جزو ہونی چاہیے کیونکہ یہ ہماری فوجیوں کی جسمانی و ذہنی آمادگی کو بڑھاتا ہے اور انہیں جنگی میدان میں زیادہ موثر بناتا ہے۔"

اس کے علاوہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملٹری کالج جہلم کی سو سالہ تقریبات میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کالج کی تاریخی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور سینٹینری یادگار اور کالج میوزیم کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ملٹری کالج جہلم نے ہمیشہ قیادت، نظم و ضبط اور حب الوطنی کی اعلیٰ روایات کو فروغ دیا ہے۔"تقریب کے اختتام پر، آرمی چیف کی آمد پر کور کمانڈر راولپنڈی اور آئی جی ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن نے ان کا استقبال کیا۔

ٹیگز: