Wed, September 16, 2026

غزہ میں شدید قحط پھیل رہا ہے: 100 سے زائد امدادی تنظیموں کا انتباہ

غزہ میں شدید قحط پھیل رہا ہے: 100 سے زائد امدادی تنظیموں کا انتباہ

غزہ : غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور 100 سے زائد امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ وہاں شدید قحط پھیل رہا ہے۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، سیو دی چلڈرن اور آکسفیم سمیت مختلف تنظیموں نے کہا ہے کہ نہ صرف عام لوگ بھوک سے بے حال ہیں بلکہ امدادی کارکن بھی خوراک لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں جہاں ان کی جان کو خطرہ ہے۔

ان تنظیموں نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام زمینی راستے کھولے جائیں تاکہ امدادی سامان بغیر رکاوٹ غزہ پہنچ سکے۔ غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے سربراہ نے بتایا کہ پچھلے چند دنوں میں بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے 21 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق مئی کے بعد سے اب تک ہزاروں فلسطینی امدادی سرگرمیوں کے دوران اسرائیلی فوج کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ امدادی سامان کے کئی ٹن غزہ اور سرحدوں پر پڑا ہوا ہے لیکن اسے پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

غزہ کے لوگ ایک مشکل صورتحال میں پھنسے ہیں جہاں نہ تو انہیں مکمل امداد مل رہی ہے اور نہ ہی جنگ بندی کا کوئی امید افزا حل نظر آ رہا ہے۔ یہ جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ ذہنی اذیت کا بھی سبب بن رہا ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے ایک ہسپتال میں چھ ہفتے کے بچے یوسف کی لاش پڑی تھی، جو بھوک کی وجہ سے فوت ہوا۔ اس کے چچا نے بتایا کہ انہیں بچے کا دودھ بھی نہیں مل رہا کیونکہ دستیاب دودھ بہت مہنگا ہے۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 60 ہزار فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن کی بڑی تعداد فضائی حملوں اور گولہ باری میں جان بحق ہوئی ہے۔ غزہ کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور انسانی مدد کی اشد ضرورت ہے۔

ٹیگز: