اسلام آباد: پارلیمنٹ نے ڈومیسٹک وائلنس پریوینشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2025 منظور کر لیا ہے، جو خواتین، مرد، خواجہ سرا، بچوں اور دیگر کمزور افراد کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرے گا۔ ایکٹ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
نئے قانون میں گھریلو تشدد کی جامع تعریف شامل کی گئی ہے، جس میں جسمانی، نفسیاتی، جذباتی، جنسی اور معاشی تشدد شامل ہیں۔ جسمانی تشدد میں مارپیٹ اور پینل کوڈ کے تحت جرائم، نفسیاتی تشدد میں تذلیل، دھمکیاں، خوف میں مبتلا کرنا اور جھوٹے الزامات شامل ہیں۔ معاشی تشدد میں مالی وسائل روکنا اور کنٹرول کرنا جبکہ جنسی تشدد میں عزتِ نفس کو مجروح کرنے والے اعمال جرم تصور ہوں گے۔
گھریلو تشدد ثابت ہونے پر 6 ماہ سے 3 سال تک قید ہو سکتی ہے۔متاثرہ فرد کو کم از کم 20 ہزار روپے ہرجانہ دلانے کی عدالت کو اجازت ہوگی، اور عدم ادائیگی پر 3 ماہ اضافی قید ہو سکتی ہے۔تشدد میں معاونت کرنے والا بھی شریک جرم ہوگا۔
عدالت ملزم کو متاثرہ فرد سے رابطے سے روک سکتی ہے اور سنگین صورت میں اسے گھر خالی کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔متاثرہ فرد شیلٹر ہوم میں رہائش، مالی امداد اور نان نفقہ حاصل کر سکے گا۔عدالت بچوں اور بالغ متاثرہ افراد کی عارضی تحویل بھی دے سکتی ہے۔تحفظی احکامات کی خلاف ورزی پر ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جو متاثرہ فرد کو دیا جائے گا۔عدالت کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے، جس کا فیصلہ 60 دن میں ہوگا۔