لاہور : پنجاب حکومت نے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے فاریسٹ ترمیمی ایکٹ 2025 نافذ کر دیا ہے۔ اس نئے قانون کی توثیق گورنر پنجاب نے کی ہے جس کے ذریعے جنگلات کی حفاظت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے محکمہ جنگلات کے اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
نیا فاریسٹ ترمیمی ایکٹ جنگلات کے قدرتی وسائل کی بہتر حفاظت اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت محکمہ جنگلات کو ایک مکمل فورس کا درجہ دیا گیا ہے، جس سے اسے جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے زیادہ طاقتور اور خود مختار بنایا گیا ہے۔
اس ایکٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صوبے بھر میں فاریسٹ پروٹیکشن سنٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان مراکز کا مقصد جنگلات کے مختلف علاقوں میں موجود قدرتی وسائل کی بہتر نگرانی اور حفاظت کرنا ہے۔ ان سنٹرز کی مدد سے جنگلات کی کٹائی، تجاوزات اور ماحولیاتی جرائم کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
اس نئے قانون کے تحت ایس ڈی او، ڈی ایف او اور بلاک آفیسرز کی نئی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اب ان افسران کو اضافی اختیارات دیے گئے ہیں جن کے تحت وہ خود ایف آئی آر درج کر سکیں گے، ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا اختیار حاصل کریں گے۔ اس سے ان افسران کو اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا کرنے کا موقع ملے گا اور وہ غیر قانونی کٹائی، تجاوزات اور ماحولیاتی جرائم کے خلاف فوری کارروائی کر سکیں گے۔
ایکٹ میں غیر قانونی کٹائی اور تجاوزات کے خلاف سخت جرمانے متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ جنگلات کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ نئے قانون میں یہ تجویز بھی شامل کی گئی ہے کہ جنگلات کے ماحولیاتی نقصان کے ذمہ دار افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی تاکہ آئندہ اس قسم کی سرگرمیاں روکنے میں مدد مل سکے۔
گورنر پنجاب نے اس ایکٹ کی توثیق کے بعد فوری طور پر اس پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو اس عمل میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے تاکہ جنگلات کے قدرتی وسائل کا تحفظ فوراً یقینی بنایا جا سکے۔ گورنر نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے یہ ایک سنگ میل ثابت ہو گا اور اس سے پنجاب کی ماحولیاتی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جنگلات کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف آگاہی پروگرامز اور مہمات شروع کی جائیں گی تاکہ عوام کو جنگلات کے تحفظ کی اہمیت اور اس کے فوائد کے بارے میں بتایا جا سکے۔