پاکستان کی ملکی سیاسی و عسکری قیادت ایک مرتبہ پھر عالمی شہ سرخیوں میں ہے۔ ہر کوئی تعریف پر مجبور ہے ، ہر کوئی یہ جان چکا ہے کہ پاکستان خطے کا اہم ترین ملک ہے۔ اس ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت دنیا بھر میں راج کر رہی ہے۔ امریکی صدر اور شہباز شریف کی ملاقات اور سرگوشیوں کی فوٹیج یہ واضح کررہی ہے کہ پاکستان عالمی امور میں مسلسل کلیدی کردار نبھا رہا ہے۔ یہ ایک اہم سنگ میل ہے جو برسوں بعد پاکستان کو حاصل ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کو اتنی اہمیت ملنا کوئی آسان نہیں تھا۔ ماضی میں جس طرح ملک کا تشخص خراب کرنے کی سازشیں کی گئیں اس کا اثر زائل ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ ان حالات میں جب پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی خبروں میں ان ہے ، ایک مرتبہ پھر اپنی اہمیت دنیا کو دکھا رہا ہے ایسے میں بھارتی چالوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک ایک ایسی سیاسی جماعت بھی ہے جو مسلسل زہر اگلنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تحریکِ انصاف کی جانب سے “بورڈ آف پیس” کے حوالے سے دیا گیا حالیہ بیان ایک سنجیدہ قومی معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں صرف پی ٹی آئی کی روایت بنتی جا رہی ہے کہ حکومت کا ہر اقدام، چاہے وہ آئینی ہو، قانونی ہو یا ریاستی مفاد میں ہو، اسے محض اس بنیاد پر مشکوک بنا دیا جاتا ہے کہ وہ اقدام حکومت نے کیا ہے۔ یہی رویہ اس معاملے میں بھی سامنے آیا، جہاں دلیل، اصول اور آئینی حقائق کے بجائے جذباتی نعروں اور گمراہ کن بیانیے کو ترجیح دی گئی۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اس کی خارجہ پالیسی آئین کے تحت منتخب حکومت کا اختیار ہے۔ دنیا بھر میں خارجہ تعلقات، سفارتی فورمز میں شمولیت اور بین الاقوامی روابط کے فیصلے ایگزیکٹو سطح پر کیے جاتے ہیں۔ نہ تو ہر فیصلے پر عوامی ریفرنڈم کرایا جاتا ہے اور نہ ہی ہر سفارتی قدم کو پارلیمنٹ کے طویل مباحثے کا پابند بنایا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کا کوئی بھی ملک مو¿ثر خارجہ پالیسی تشکیل ہی نہ دے پاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں جب تحریکِ انصاف خود اقتدار میں تھی تو اس نے بھی متعدد خارجہ فیصلے اسی طریقے سے کیے، مگر اس وقت نہ شفافیت کا شور تھا اور نہ آئین یاد آتا تھا۔یہ کہنا کہ موجودہ پارلیمنٹ غیر قانونی یا جعلی ہے، ایک سیاسی دعویٰ تو ہو سکتا ہے مگر آئینی حقیقت نہیں۔ پاکستان میں پارلیمنٹ آئین کے تحت قائم ہے، ملک کا نظام چلا رہی ہے اور تمام ریاستی فیصلے اسی فریم ورک کے اندر ہو رہے ہیں۔ آج تک کسی عدالت نے پارلیمنٹ کو غیر آئینی قرار نہیں دیا۔ سیاسی اختلاف یا انتخابی نتائج پر ناراضی ریاستی اداروں کی قانونی حیثیت ختم نہیں کر دیتی۔ اگر کل کو ہر ہارنے والی جماعت پارلیمنٹ کو جعلی کہنا شروع کر دے تو ریاستی نظام مفلوج ہو جائے، اور شاید یہی وہ انتشار ہے جس کی جھلک ہمیں اس بیانیے میں نظر آتی ہے۔یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ اس فیصلے پر پارلیمنٹ میں بحث لازمی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ “بورڈ آف پیس” میں شمولیت کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں بلکہ ایک سفارتی فورم میں شمولیت ہے۔ ایسے فورمز میں شمولیت یا عدم شمولیت حکومتیں اپنی خارجہ ترجیحات، علاقائی صورتحال اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہیں۔ بحث نہ ہونا کسی فیصلے کو غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں بنا دیتا۔ آئین نے واضح طور پر ایگزیکٹو کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ خارجہ امور میں بروقت فیصلے کرے۔ایک اور گمراہ کن تاثر یہ دیا گیا کہ یہ فورم اقوام متحدہ کے خلاف یا اس کا متبادل ہے۔ یہ دعویٰ بھی حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان بدستور اقوام متحدہ کا رکن ہے، اس کے چارٹر کا پابند ہے اور عالمی سطح پر اسی نظام کے تحت اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ “بورڈ آف پیس” کوئی متبادل عالمی ادارہ نہیں بلکہ ایک اضافی سفارتی پلیٹ فارم ہے، جہاں مختلف ممالک امن، مکالمے اور تعاون کے امکانات پر بات کر سکتے ہیں۔ دنیا میں درجنوں ایسے فورمز موجود ہیں، اور کسی ایک میں شرکت اقوام متحدہ سے لاتعلقی کا اعلان نہیں ہوتی۔تحریکِ انصاف کے بیانیے میں یہ تاثر بھی نمایاں ہے کہ صرف ایک شخصیت ہی قومی اتفاقِ رائے کی نمائندہ ہے۔ یہ سوچ جمہوری اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔ ریاست افراد سے نہیں بلکہ اداروں سے چلتی ہے۔ کوئی سابق وزیر اعظم، چاہے وہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو، خارجہ پالیسی پر ویٹو اختیار نہیں رکھتا، خاص طور پر جب عدالتیں اسے مجرم قرار دے چکی ہوں۔ قومی فیصلے فردِ واحد کی خواہش یا ناراضی کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے بلکہ ریاستی ادارے، آئین اور قومی مفاد ان کی بنیاد ہوتے ہیں۔فلسطین کے معاملے پر جذبات بھڑکانے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ کہنا کہ اس فورم میں شمولیت فلسطین سے غداری ہے، نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان کا فلسطین پر مو¿قف دہائیوں سے واضح، مضبوط اور غیر متبدل ہے۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے حق میں ہے اور اس مو¿قف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کسی سفارتی فورم میں شمولیت کا مطلب اصولی مو¿قف سے دستبرداری نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اس فورم میں پاکستان اکیلا نہیں، دنیا کے آٹھ بڑے مسلم ممالک بھی اس کا حصہ ہیں۔ اگر یہ شمولیت غداری ہے تو
پھر کیا پوری مسلم دنیا کو ایک فرد کی خواہش کے لیے غلط قرار دیا جائے؟خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم کا مطالبہ شاید اس بحث کا سب سے کمزور نکتہ ہے۔ دنیا کا کوئی ملک خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم نہیں کراتا۔ ریفرنڈم آئینی ترامیم، علاقائی معاملات یا غیر معمولی قومی فیصلوں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ روزمرہ سفارتی حکمتِ عملی کے لیے۔ یہ مطالبہ آئینی سے زیادہ جذباتی اور بچگانہ لگتا ہے، جس کا مقصد صرف عوامی جذبات کو بھڑکانا ہے۔آخر میں یہ دعویٰ کہ صرف تحریکِ انصاف ہی وقار اور امن کی علمبردار ہے، سیاسی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں۔اگر بیانیے کی بات ہی لینی ہے تو وزیراعلیٰ کے پی کو لے لیں جو سرعام دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں ، سرعام افغان دہشت گردوں کے حق میں بیان دیتے ہوئے ریاست پاکستان سے ان کی جانب سے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت مانگ رہے ہیں۔ یہ بیانیہ پوری قوم نے دیکھ لیا ہے کہ تحریک انصاف صرف انتشار کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ، اس کے مرکزی قائدین کا ایجنڈا صرف ہر اس اچھے کام کی مخالفت ہے جو ملک کے مفاد میں ہے۔ یقینی طور پر پی ٹی آئی کا یہ گمراہ کن ایجنڈا ملکی مفادات کو ٹھیس پہنچا رہا ہے۔