Wed, September 16, 2026

غزہ امن منصوبے کا اگلا مرحلہ و پاکستان

غزہ امن منصوبے کا اگلا مرحلہ و پاکستان


غزہ امن منصوبہ: عرب اور مسلمان ریاستوں کے حکمرانوں کے ساتھ مشاورت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29ستمبر 2025ءوائٹ ہاﺅس میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں اس منصوبے کا اعلان کیا۔ اس وقت اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی موجود تھے۔ 9 اکتوبر 2025کو اس معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ فرانس، جرمنی، روس، اٹلی، سپین، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی، قطر، اردن،انڈونیشیا، پاکستان، کینیڈا اور برطانیہ نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں جنگ رک گئی، وگرنہ اسرائیل تو غزہ کی ساری زمین کھنڈر بنانے اور تمام فلسطینیوں کو ختم کرنے پر تلا بیٹھا تھا۔ امریکی و مغربی ممالک کے آشیرباد اور مسلم ممالک کی بزدلی کے باعث اسے اپنے ظالمانہ منصوبے پر عمل پیرا ہونے میں رکاوٹ نہیں تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نقاطی غزہ امن منصوبے کے باعث دو سالہ جنگ وقتی طور پر رک گئی۔ اس منصوبے میں کچھ لو اور کچھ دو کا اصول کار فرما تھا/ہے ہنوز اس منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے۔ اس منصوبے میں لکھا ہوا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان باہم مل جل کر رہنے کے لئے آمادہ کرنے کے لئے مذاکرات کا اہتمام کرے گا۔ امریکی صدر کی طرف سے قائم /اعلان کردہ امن بورڈ اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ پاکستان غزہ امن منصوبے پر دستخط کر چکا ہے اور اس کام میں پاکستان اکیلا نہیں ہے۔ ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ عرب، اسرائیل تنازع کی تاریخ کے مطالعے کے دوران ایک بات سامنے آئی ہے کہ فلسطینی اور عرب اس معاملے میں خسارے کا شکار رہے ہیں، اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ، ہر بات پر نہ کہنے اور معاملات طے کرنے کی بجائے انکار کی پالیسی کا بڑا عمل دخل رہا ہے جبکہ صہیونی قیادت اقوام عالم کی رائے کو موافق بنانے اور اسے قبول کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر عظیم اسرائیل کے قیام کی طرف پیش قدمی کرتی نظر آتی ہے۔ صہیونی تعداد میں قلیل ہونے کے باوجود اپنی عقل و دانش اور شاطرانہ طرز فکر و عمل کے باعث عالمی سیاست، صحافت اور معیشت پر گرفت رکھتے ہیں۔ ریاست اسرائیل ننھی منی سی اور عرب ممالک کے درمیان گھری ہوئی ہے لیکن اس نے عربوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ مذہبی طور پر عیسائی، یہودیوں کے دشمن ہیں۔ یہودی صدیوں سے عیسائیوں کی نفرتیں اور ظلم و ستم کا شکار رہے ہیں۔ وہ انہیں قاتلان مسیح ابن مریم سمجھتے ہیں۔ یہودی عیسیٰ ابن مریم کو مسیحا نہیں مانتے ہیں، اس کے باوجود آج صورتحال یہ ہے کہ عیسائی دنیا یہودیوں کی ریاست اسرائیل کی حامی ہی نہیں بلکہ ممد و معاون بنی ہوئی ہے۔ عیسائی دنیا عربوں و فلسطینیوں کے خلاف ریاست اسرائیل کی معاونت کرتی ہے، اسے اسلحہ فراہم کرتی ہے۔ عالمی فورموں پر اس کی حمایت کرتی ہے۔ عظیم اسرائیل کے قیام میں بھی اس کی مدد کرتی ہے۔ اسرائیل کی صہیونی قیادت عربوں/مسلمانوں کی ہر اس طاقت کا خاتمہ چاہتی ہے جو اسے چیلنج کر سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں فکری و نظری طور پر اخوان المسلمین ایک طاقت تھی۔ صہیونیوں نے بعثی عرب قیادت کے ساتھ مل کر ان کا خاتمہ کیا۔ حماس اس کی بقایا جات ہے، جس کا خاتمہ کرنے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ مصر، عراق اور شام کے عسکری دانت توڑ دیئے گئے ہیں۔ حزب اللہ کہاں ہے؟ غرض خطے میں کوئی بھی عسکری قوت رہنے نہیں دی گئی ہے جو صہیونی ریاست کو للکار سکے۔ مسجد اقصیٰ کی بنیادوں پر تیسرا ہیکل تعمیر کرنے کی راہ میں کھڑی ہو سکے۔ عظیم اسرائیل کے قیام کو چیلنج کر سکے۔
عربوں کی حربی و ضربی طاقت ختم کرنے کی کاوشیں جاری ہیں لیکن کچھ مثبت باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب کا پاکستان سے دفاعی معاہدہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان کی عسکری رسائی اسرائیلی سرحدوں تک ہو چکی ہے۔ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر اور پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ سمجھا جانے کا مطلب کیا ہے۔ پاک فوج سعودی ، اسرائیل سرحد تک پہنچی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل ہندوستان کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف سازش کرتا تھا۔ اب ہم خود اس کی سرحدوں تک آن پہنچے ہیں۔ ٹرمپ کے امن بورڈ میں صہیونی قیادت کو پاکستانی قیادت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بورڈ میں ایٹمی ملک کی قیادت، فلسطینی موقف کا دفاع کرتی نظر آئے گی۔ اسرئیل اس سے پہلے کمزور عرب قائدین کے مقابل بیٹھ کر معاہدے کرتا رہا ہے۔ حربی و ضربی طور پر کمزور عرب ریاستوں کے ساتھ جنگیں کرتا رہا ہے۔ اب پاکستان مدمقابل ہے جس کی حربی و ضربی طاقت کے بارے میں پوری دنیا معترف ہے۔ دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہو گی۔ حماس نے دو سال تک جس جرا¿ت و پامردی کے ساتھ اسرائیل کا مقابلہ کیا ہے، اس نے بھی اسرائیل کی دہشت و وحشت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ حماس کی حربی و ضربی طاقت قائم ہے۔ اسرائیل حماس کو ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر ختم کرنے میں قطعاً کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کسی ایسی فوج کا حصہ نہیں بنے گا جو حماس کو تنہا کرنے کے مشن پر ہو۔ ہاں غزہ میں امن قائم رکھنے کے لئے اقوام متحدہ کی کاوشوں کو کامیاب بنانے کے لئے تعاون کیا جائے گا، چاہے اس کے لئے ہمیں فوج ہی کیوں نہ بھیجنی پڑے۔

ٹیگز: