Wed, September 16, 2026

ٹرمپ سرکار کا خودکش حملہ

ٹرمپ سرکار کا خودکش حملہ

غزہ، یوکرین، ایران اور ٹیرف کے بعد تکبر میں ڈوبے اور بڑی عالمی طاقت ہونے کے نشے میں دھت امریکی صدر کو پانچویں شکست کا سامنا ہے جبکہ ابھی ایران پر نیا حملہ کرنے کے بعد اس طاقت کا کیا حشر ہوتا ہے، دنیا یہ دیکھنے کی منتظر ہے۔ امریکی صدر کو یہ شکست امریکی سپریم کورٹ کے ہاتھوں ہوئی ہے جس کے معزز جج صاحبان نے چھ کی اکثریت سے یہ فیصلہ سنایا ہے جس کے نتیجے میں امریکی صدر کی طرف سے مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ٹیرف کی حمایت میں تین جج صاحبان نظر آئے۔
امریکی صدر اس فیصلے کے بعد بھنائے نظر آئے، انہوں نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ججوں پر شدید تنقید کی۔ امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بعض دوسرے فیصلوں کی طرح دنیا بھر میں طویل عرصہ تک موضوع بحث رہے گا۔ فیصلے کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے معزز جج صاحبان کو اور ان کے فیصلے کو ’’ڈس گریس‘‘ کہہ کر اپنے لئے ایک مشکل پیدا کر لی ہے، ان کے خلاف جب بھی مختلف الزامات کے تحت تحریک عدم اعتماد آئی اس میں اعلیٰ ترین عدلیہ کی تضحیک کرنے کا ذکر ضرور ہو گا۔ اس سے قبل وہ جیفری ایپسٹین سے اپنے تعلق کو چھپانے نظر آئے لیکن ایپسٹین فائلز اب جن کے قبضے میں ہیں وہ مختلف وقفوں سے ان کے پول کھول رہے ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ججوں کے پینل میں ان کے اپنے مقرر کردہ جج بھی شامل تھے، انہوں نے بھی امریکی صدر کے خلاف فیصلہ دیا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ پرامید تھی کہ پینل میں حکومت کے لئے نرم گوشہ رکھنے والوں کی اکثریت ہے۔ ٹرمپ نے فیصلہ سننے کے بعد شدید غصے کے عالم میں پہلے مزید دس فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بعدازاں انہوں نے اسے پندرہ فیصد تک بڑھا دیا۔ اس عمل سے انہوں نے امریکی نظام و قانون کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ سب مل کر بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ امریکی سپریم کورٹ کے خلاف اس قسم کا طرزعمل آج تک کسی صدر نے اختیار نہیں کیا۔ یہ وہی سپریم کورٹ ہے جس نے اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اہم معاملے میں جان بخشی کرتے ہوئے انہیں نااہل ہونے سے بچایا تھا۔ اس وقت امریکی صدر امریکی سپریم کورٹ کے گن گاتے نظر آئے، ان کا طرزعمل تیسری دنیا کے کرپٹ حکمرانوں سا ہے جو اپنے حق میں آنے والے فیصلوں کو انصاف و قانون کی جیت جبکہ خلاف آنے والے فیصلوں کو غیبی ہاتھوں کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ ایشیا میں ایسے درجنوں مقدمات ہیں جہاں دودھ میں پانی ملا کر صاحبان اقتدار کو معزول کرنے کی راہ ہموار کی گئی لیکن مہذب ممالک، یورپ اور خصوصاً امریکہ ، برطانیہ میں عدالتیں بلاخوف میرٹ پر فیصلے سناتی ہیں۔
امریکی عدالت کے تازہ ترین فیصلے نے ’’غزہ امن بورڈ‘‘ میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے متوقع جشن کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے کیرئیر اور ذاتی زندگی کے حوالے سے تفصیلات دستیاب نہیں لیکن ایک بات یقینی ہے کہ ٹرمپ کے خلاف فیصلہ سنانے والے کبھی جیفری ایپسٹین کے جزیرے پر نہ گئے۔ ان میں سے کوئی بھی کسی ادارہ، رقاصہ یا گلوکارہ کا پارٹ ٹائم خاوند نہ تھا۔ کسی کی بھی نازیبا ویڈیو نہ مل سکی حتیٰ کہ ایسی آڈیو بھی نہ ملی جس میں وہ کسی اہم شخصیت سے پوچھتے کہ کس مقدمے میں کس کو کتنی سزا دینی ہے۔ یہ جج اتنے سیدھے اور دیانتدار تھے کہ کسی کا کوئی خفیہ غیر ملکی اکائونٹ نہ نکلا نہ ہی ان کے اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ پائے گئے، ان کے بیٹوں، بھانجوں یا دامادوں کے قانونی چیمبرز بھی نہیں تھے، جن کی جانچ پھٹک کر کے معلوم کیا جا سکتا کہ انہوں نے کہاں کہاں کس کس مقدمے میں چیمبر کو فائدہ پہنچایا، ان کی سادگی کی انتہا دیکھئے ان میں کوئی بھی ٹیکس چور نہ نکلا۔
امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ٹیرف کا نفاذ غیرقانونی قرار دیا جا چکا ہے لیکن بات 
یہاں ختم نہیں ہوتی۔ آج تک امریکی حکومت نے قریباً قریباً ایک سو چالیس ملین ڈالر ٹیرف کی مد میں کاروباری کمپنیوں اور مختلف شخصیات سے وصول کئے جو اب انہیں لوٹانے پڑیں گے۔ اب آئیے اس دھماکہ خیز خبر کی طرف جو ٹرمپ حکومت میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دے گی اور اس کی بچی کھچی ساکھ کو مٹی میں ملا دے گی۔ ٹرمپ جس وقت ٹیرف کے حوالے سے دھڑا دھڑ فیصلے کر رہے تھے تو ان کے قریبی دوست خوب جانتے تھے کہ ٹرمپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ غیرقانونی ہے۔ ٹرمپ سے قربت کے سبب انہیں ہر فیصلے کی اطلاع قبل از وقت ہوتی تھی، جس کی روشنی میں وہ اپنی کاروباری حکمت عملی ترتیب دیتے تھے۔ انہی دوستوں کی ایک کمپنی ٹرمپ ٹیرف کے خلاف بعض دیگر کمپنیوں کے ساتھ عدالت میں چلی گئی لیکن اس سے پہلے انہوں نے ان تمام کاروباری شخصیات اور کمپنیوں سے رابطہ کیا اور ان سے ٹیرف ختم ہونے کی صورت میں ’’ان کے ری فنڈ اثاثے‘‘ چونی کے بھائو خرید لئے۔ ٹیرف کی زد میں آئے سرمایہ داروں کو یقین تھا کہ جب تک ٹرمپ اقتدار میں ہیں ٹیرف ختم ہو گا نہ اس کے ری فنڈ کی کوئی صورت نکلے گی پس انہوں نے سوچا کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی اگر ہاتھ آرہی ہے تو اسے ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے، انہوں نے اپنے اثاثوں کا سودا اونے پونے کر دیا۔ آئندہ چند روز میں یہ سوال اٹھے گا کہ سارا کھیل ڈونلڈ ٹرمپ ان کے قریبی عزیزوں یا رشتہ داروں کی ملی بھگت سے تو نہیں ہو رہا تھا کیا اس سارے معاملے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار مشکوک نہیں ہو جائے گا کہ وہ اس سارے کمائی پروگرام کا حصہ تھے، بالکل ویسے جیسے ان کے داماد ایک اہم حیثیت میں غزہ امن بورڈ میں شامل کئے گئے ہیں، جن کی پہلی اور آخری کوالیفیکیشن ٹرمپ دامادی کے سوا کچھ نہیں۔ کہتے ہیں چیونٹی کی موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں۔ گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے اور سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستے میں آبیٹھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہر چھلانگ جان لیوا ثابت ہوئی ہے۔ ٹرمپ سرکار کی جان کب اور کیسے نکلتی ہے یا اس کی جان بچانے کے لئے امریکی محکمہ زراعت اپنا مکروہ کردار کیسے ادا کرتا ہے جلد سامنے آجائے گا۔ ٹرمپ سرکار پر جان کنی کا عالم ہے، انہوں نے خود پر ایٹمی حملہ کیا ہے۔

ٹیگز: