Wed, September 16, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت انسانی بحران اور غربت کی بڑھتی ہوئی صورتِ حال

افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت انسانی بحران اور غربت کی بڑھتی ہوئی صورتِ حال

نیویارک : افغانستان میں طالبان کی حکومت نے ملک میں غربت، بھوک اور افلاس کی صورتِ حال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ عام شہریوں کے لیے بنیادی زندگی گزارنا بھی اب بہت مشکل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، طالبان کی حکومت نے دہشت گردی کے فروغ اور ناقص حکمرانی کے ذریعے افغان عوام کو شدید انسانی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت، بھوک اور افلاس کا شکار ہیں، اور انہیں موسمِ سرما گزارنے میں انتہائی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ گزشتہ دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں دو سال سے کم عمر کے تقریباً 90 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جو ایک سنگین انسانی بحران ہے۔ اس کے علاوہ، افغانستان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو گئے ہیں اور لوگوں کی آمدنی کے ذرائع کم ہو چکے ہیں، جس کے باعث لاکھوں خاندان اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں بھی ناکام ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، طالبان حکمران بدعنوانی اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ رقوم پر عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ عام افغان شہری خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکمرانی کی بدولت افغان عوام بھوک، افلاس اور بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں۔

ٹیگز: