ملک گیر عوامی دبائو اور ہنگاموں کے نتیجے میں بھارت نواز شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش ایک بار پھر شدید بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے۔ یہ بحران محض حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کی رسہ کشی تک محدود نہیں بلکہ ریاست، سیاست اور سماج کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ اس بار صورتحال کو فیصلہ کن موڑ پر لانے والا واقعہ طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کا قتل ہے جس نے بنگلہ دیش کے سیاسی, سماجی, ادارہ جاتی تضادات اور خوفناک بھارتی مداخلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی سیاست دہائیوں سے شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ (اے ایل) اور خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہ رقابت بتدریج اصولی اختلاف سے نکل کر انتقامی سیاست میں بدل گئی، جہاں شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء کیلیے بہر صورت اقتدار کا حصول ہی واحد مقصد بن کر رہ گیا۔ بالخصوص شیخ حسینہ کے دور میں انتخابات میں دھاندلی، ووٹروں پر دباؤ اور ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال نے ملک میں جمہوری عمل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ جب عوام کا اعتماد بیلٹ باکس سے اٹھ جائے تو احتجاج، ہڑتالیں اور تشدد فطری ردعمل بن جاتے ہیں۔
شریف عثمان ہادی محض ایک طالب علم رہنما ہی نہیں تھے بلکہ وہ اس نوجوان نسل کی آواز تھے جو شیخ حسینہ کے دور میں پیدا ہونے والی مرکزیت، محدود سیاسی آزادیوں، معاشی جمود اور اظہارِ رائے پر لگی قدغنوں سے نالاں ہے۔ ان کے قتل کے بعد ملک بھر میں احتجاج، میڈیا اداروں پر حملے اور بدامنی نے یہ ثابت کر دیا کہ بنگلہ دیش میں سیاسی برداشت اور مکالمے کی گنجائش خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے اور عوام کی سننے والا کوئی نہیں۔ بدقسمتی سے بھارت کے زیر اثر بنگلہ دیش میں ریاستی ادارے، جنہیں جمہوریت کا محافظ ہونا چاہیے تھا، خود سیاسی جانبداری اور دباؤ کے الزامات کی زد میں رہے۔
عثمان ہادی کے قتل میں بھارت اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ملوث ہونے سے متعلق خبروں اور بیانیوں نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تاریخی بداعتمادی، جذباتی قوم پرستی اور علاقائی سیاست اس داخلی مسئلے کو ایک جیو پولیٹیکل تنازع میں تبدیل کر سکتی ہے، جس کے نتائج نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تقسیم، نوجوانوں میں انکے غیر یقینی مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی، انتخابی شفافیت کی کمی اور میڈیا پر لگی قدغنیں اس عدم استحکام کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بنگلہ دیش کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود روزگار کے مواقع سے محروم ہے۔ معاشی عدم مساوات، مہنگائی اور سیاسی شرکت کے محدود راستوں نے اس طبقے میں شدید مایوسی کو جنم دیا ہے۔ جب نوجوانوں کو فیصلہ سازی سے باہر رکھا جائے تو احتجاج شدت اختیار کر لیتا ہے۔
میڈیا پر دباؤ اور صحافیوں پر حملے معلومات کے خلا کو جنم دیتے ہیں، جسے افواہیں، سازشی نظریات اور شدت پسند بیانیے پْر کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً سماجی انتشار بڑھتا ہے اور ریاستی بیانیہ اپنی ساکھ کھو بیٹھتا ہے۔ یہی کچھ بنگلہ دیش میں ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے. اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری طور پر عثمان ہادی کے قتل کی شفاف، آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات ناگزیر ہیں۔ بنگلہ دیش میں انتخابی اصلاحات، آزاد الیکشن کمیشن، اپوزیشن کے حقوق کا تحفظ، آزاد صحافت اور سیاسی مکالمہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ قومی تعمیر میں نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔
اگر بنگلہ دیش میں موجودہ سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کمزوری اور سیاسی انتقام کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس کے نتائج نہایت سنگین اور طویل المدتی ہوں گے۔ شیخ حسینہ کے طرز حکمرانی سے بدظن عوام کے نزدیک جمہوری نظام محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا، جہاں انتخابات تو ہوں گے مگر عوامی رائے بے معنی ہو گی۔ ایسی صورتحال میں اگر اقتدار کی تبدیلی سڑکوں، احتجاج اور طاقت کے ذریعے ہوگی تو ریاست مستقل بحران میں مبتلا رہے گی۔
یوں سیاسی عدم استحکام براہِ راست معاشی کمزوری کو جنم دے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کار ایسے ملک میں سرمایہ کاری سے گریز کریں گے جہاں پالیسیوں کا تسلسل، قانون کی حکمرانی اور سیاسی استحکام موجود نہ ہو۔ اس کا نتیجہ صنعتی زوال، برآمدات میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ نوجوان، جو پہلے ہی مایوسی کا شکار ہیں، مزید انتہا پسندی یا ہجرت کی طرف مائل ہوں گے. سلامتی کے نقطہ نظر سے بھی صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔ سیاسی خلا اور ادارہ جاتی کمزوری انتہا پسند اور شدت پسند گروہوں کو منظم ہونے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، جو ریاستی رٹ کو مزید کمزور کریں گے۔ یہ نہ صرف داخلی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
علاقائی سطح پر بنگلہ دیش کی بدامنی بھارت، جنوبی ایشیا اور خلیج کے ساتھ اس کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر بھارت کا سلیگوری کوریڈور، جو اس کی شمال مشرقی ریاستوں کی شہ رگ ہے، بنگلہ دیش کی سیاسی کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ سفارتی تناؤ، تجارتی رکاوٹیں اور سکیورٹی خدشات خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
سب سے بڑا نقصان سماجی سطح پر ہوگا۔ جب ریاست مسلسل بحران کا شکار ہو تو عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ قوم تقسیم ہو جاتی ہے جہاں سیاسی شناخت قومی شناخت پر حاوی ہو جاتی ہے۔ یہ عمل ملک کے لیے طویل المدتی تباہی کا پیش خیمہ سکتا ہے۔
تاہم مستقبل مکمل طور پر تاریک نہیں۔ اگر بنگلہ دیش کی سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور سول سوسائٹی اس لمحے کو ایک وارننگ کے طور پر لیں تو اصلاحات، احتساب اور مکالمے کے ذریعے جمہوری تجدید ممکن ہے۔ شریف عثمان ہادی کا قتل ایک المیہ ضرور ہے، مگر یہ ایک موقع بھی بن سکتا ہے… ایسا موقع جس میں ریاست یہ فیصلہ کرے کہ اسے انتقامی سیاست کے دائرے میں رہنا ہے یا جمہوری استحکام کی راہ اختیار کرنا ہے۔
بنگلہ دیش اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ فیصلہ اب یہ نہیں کہ کون حکومت کرے گا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ریاست کس سمت جائے گی… مسلسل بحران، تقسیم اور کمزوری کی طرف، یا اصلاحات، استحکام اور جمہوری بالغ نظری کی جانب۔ یہی فیصلہ بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کرے گا۔