لاہور: نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) نے ملک کے بجلی ترسیلی نظام کی بہتری اور زمین کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے لمز (LUMS) میں اپنی نوعیت کی پہلی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ تقریب کا بنیادی مقصد پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں "رائٹ آف وے" (ROW) سے متعلق قانونی اور آپریشنل چیلنجز کا حل تلاش کرنا تھا۔
ورکشاپ کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں بجلی کے بحران اور ترسیلی نظام میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ 1894 کا لینڈ ایکوزیشن ایکٹ ہے، جو نوآبادیاتی دور کی یادگار ہونے کے باعث موجودہ دور کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ماہرین کے مطابق زمین کے حصول میں تاخیر نہ صرف منصوبوں کی لاگت بڑھاتی ہے بلکہ عوام تک سستی بجلی کی فراہمی میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری (چیئرمین این جی سی بورڈ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدیوں پرانے قانونی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ہمیں نظام کو جدید بنا کر ایسے فریم ورک تشکیل دینے ہوں گے جو آج کی ترقیاتی ضروریات کے مطابق ہوں۔
عرفان علی (چیئرمین سی پی پی اے-جی)نے زور دیا کہ زمین مالکان کے ساتھ منصفانہ برتاؤ نہ صرف قانونی بلکہ ایک عملی ضرورت ہے، تاکہ قانونی تنازعات کم ہوں اور منصوبے وقت پر مکمل کیے جا سکیں۔
مس ماریہ رفیق (چیف لا آفیسر این جی سی) نے ورکشاپ کا آغاز کرتے ہوئے اسے مؤثر گورننس ماڈل کی تشکیل کے لیے ایک منظم کوشش قرار دیا۔ڈاکٹر داؤد منیر (قانونی مشیر)نے بین الاقوامی مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ ایک جدید "رائٹ آف وے" فریم ورک کس طرح عوامی مفاد اور شہری حقوق میں توازن پیدا کر کے حکومتی اہداف حاصل کر سکتا ہے۔
ورکشاپ کے اختتام پر این جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک نے داخلی اصلاحات اور قانون سازی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض قانون کی تبدیلی کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنے داخلی نظام، منصوبہ بندی اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ براہِ راست رابطوں کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
اس ورکشاپ میں عالمی بینک، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA)، ڈپٹی کمشنر آفس لاہور، اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی اور بجلی کے منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔