واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیوں کا طوفان جاری ہے۔ آرمی چیف کی حالیہ برطرفی کے بعد اب وزیرِ بحریہ جان سی فیلن کو بھی ان کے عہدے سے اچانک ہٹا دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے جان سی فیلن سے فوری طور پر استعفیٰ طلب کیا گیا، تاہم اس غیر متوقع فیصلے کی کوئی باقاعدہ وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔ دفاعی ماہرین اسے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عسکری ڈھانچے کی نئی تشکیل کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
وزیرِ بحریہ کی برطرفی کے بعد فوری طور پر متبادل انتظامات کر دیے گئے ہیں۔انڈر سیکرٹری ہنگ کاؤ کو عارضی طور پر وزیرِ بحریہ کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ ایک کے بعد ایک اعلیٰ ترین دفاعی حکام کی برطرفی نے واشنگٹن کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی آرمی چیف کو بھی حال ہی میں ان کے عہدے سے فارغ کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں امریکی دفاعی پالیسیوں میں کسی بڑے ممکنہ بدلاؤ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔