Wed, September 16, 2026

معرکہ سمبڑیال اور تحریک انصاف میں اکھاڑ پچھاڑ

معرکہ سمبڑیال اور تحریک انصاف میں اکھاڑ پچھاڑ

پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا شخص لیڈر یا پیشوا پیدا نہیں ہوا۔ پاکستان کے تمام میڈیا ہاؤسز اور اخبارات میں خبریں عمران خان کے نام سے شروع ہوتی ہوں اور اسی نام پر خاتمہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ سیشن کورٹ یہاں ہر کورٹ میں عمران خان اور اس کی پارٹی کے کارکنوں رہنماؤں کے خلاف کیس سنے جا رہے ہیں ضمانتیں ہو رہی ہیں تاریخیں ڈالی جا رہی ہیں لیکن قصہ مختصر کہ ہر محفل حتیٰ کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ جو کہ لیہ شہر میں بچوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب بھی کریں تو وہ عمران خان کے خلاف جب تک بات نہ کریں بچوں کے لیے تقریر پوری نہیں ہوتی۔ میرے دیکھنے میں ہے کہ تحریک انصاف میں آج کل اکھاڑ پچھاڑ جاری ہے اور اس میں بھی حکمرانوں کی شوخیاں چالاکیاں اور غیر اخلاقی کہانیاں منظر بنا رہی ہیں تحریک انصاف میں کچھ لوگ جو کہ صرف اور صرف حکمرانوں کے پروردہ ہیں ان کو عہدوں پر بٹھا دیا گیا ہے اور وہ آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی چول مارتے ہیں کہ جس کی بنیاد پر تحریک انصاف کے مرکزی قیادت کو عہدے داروں کو تبدیل کرنا پڑتا ہے جیسے کہ پنجاب کی چیف کوآرڈینیٹر عالیہ حمزہ کو چند ماہ قبل نامزد کیا گیا جب کہ اب چار رکنی کمیٹی جن میں سلمان اکرم راجہ عمر ایوب احمد خان بھجر اور اکرم عثمان شامل ہیں پنجاب کے تمام معاملات دیکھنے کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے حالانکہ عالیہ حمزہ کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیے تھا دیکھیے ممکن ہے عمران خان عالیہ حمزہ کو اس کمیٹی میں شامل کر دیں کیونکہ جب تک کوئی بھی لیڈر پنجاب میں مسلسل کام نہیں کریں گے مریم نواز شریف کی حکومت انہیں کمزور سمجھ کر ہر محاذ پر مقابل ہوں گی اس لیے ضروری ہے کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنا قد کاٹھ بنانے کے لیے اور اپنے ورکروں کو اکٹھا رکھنے کے لیے قیادت لانگ ٹرم ہونی چاہیے۔ ڈے ٹو ڈے پنجاب اور لاہور کے صدور بدلنے سے کارکن بددل ہوتے ہیں اور پارٹی میں گروپ بندی کا بھی احتمال ہوتا ہے میرے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ تحریک انصاف ان لوگوں جن کو پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے وہ ٹی وی چینلوں کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں اور ہر روز ان کو مختلف پروگراموں میں بلا کر کے تحریک انصاف کے خلاف باتیں اگلوانے کی کوشش کی جاتی ہے تو میں یہاں پہ کہوں گا کہ اگر حکمرانوں میں ہمت ہے طاقت ہے کہ عوام نے عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہیں تو خدارا جلد از جلد بلدیاتی الیکشن کرائیں تا کہ آپ کا غرور سامنے آ سکے ابھی ایک معرکہ سمبڑیال کی سیٹ پر ہو رہا ہے جس میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ساتھ پیپلز پارٹی نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں تمام سیاسی اندازوں کے مطابق اس حلقہ میں جیت تحریک انصاف کی ہو گی۔ یہ حقیقت پر مبنی ہے جبکہ انتظامیہ اور حکمران طبقے کے تمام تر انتظامات یہ بتاتے ہیں کہ سمبڑیال کی سیٹ پر ہمیں ہر حال میں قبضہ کرنا ہے بہرحال یہ الیکشن کا رزلٹ بتائے گا کہ سمبڑیال ایک ٹیسٹ کیس ہے فری اینڈ فیئر الیکشن ہو گئے اور عوام نے اعتماد کیا تو یہ حکمرانوں کی اور تحریک انصاف کی جیت ہو گی۔ اس سے قبل ضلع سیالکوٹ کے ڈسکہ میں بھی عمران خان کی حکومت میں قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن ہوا تھا جس میں مسلم لیگ ن جیت گئی تھی تو دیکھیے یہ ضلع سیالکوٹ ہے وہ سمبڑیال کا الیکشن ہے اس میں رزلٹس کیا آتے ہیں پاکستان کو اللہ تعالی نے جس طرح ہندوستان کے خلاف جنگ میں برتری دی ہے اس پر ساری قوم خوش ہے لیکن حکمرانوں نے پاکستان تحریک انصاف کو اس خوشی کے موقع پر بھی غم دینے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ لاہور میں تحریک انصاف کے صدر امتیاز محمود شیخ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے پتلا جلانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا تو میں اپنے حکمرانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ یہ بتائیں مریم نواز شریف کی بیٹی کی شادی پر کیا ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی تشریف لائے تھے پاکستان کے کسی بھی شخص یا خاندان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ بھارتی وزیر ان کی بیٹی کی شادی پر بغیر ویزے اور متعدد را کے ایجنٹوں کو ساتھ لے کر افغانستان سے واپسی پر لاہور کے ایئرپورٹ پر اترے اور جاتی عمرہ منعقدہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی پوتی کی شادی میں شرکت کریں اور واپس دہلی چلے جائیں۔ 

ٹیگز: