Wed, September 16, 2026

بھارت کا پانی کی سیاست میں نیا موڑ؟ معاہدے کی معطلی پر عالمی تشویش

بھارت کا پانی کی سیاست میں نیا موڑ؟ معاہدے کی معطلی پر عالمی تشویش

اسلام آباد:بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا عندیہ دینا بظاہر ایک سیاسی چال نظر آتا ہے، مگر اس کا اثر صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ انڈس واٹر ٹریٹی ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے، جس میں عالمی بینک ضامن ہے، اور اس کی کوئی ایسی شق موجود نہیں جو بھارت کو اسے یکطرفہ طور پر ختم یا معطل کرنے کی اجازت دے۔

اس اقدام سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پانی کے تنازع میں شدت آ سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بھارت ایسا کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ ایک ایسا خطرناک نظیر قائم کرے گا جسے کل کو چین برہمپترا دریا پر بھارت کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔

اس معاہدے کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کئی جنگوں، کشیدگیوں اور سیاسی بحرانوں کے باوجود قائم رہا۔ اس معاہدے کو توڑنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی سطح پر بھی بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ٹیگز: