کیف : یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ روس کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن صرف اسی صورت میں جب جنگ بند ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد یوکرین ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے، چاہے وہ جس فارمیٹ میں ہوں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین میں جاری جنگ نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے اور دنیا بھر میں اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر لندن میں یورپی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں یوکرینی مسئلے پر بات کی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم امریکہ کی طرف سے خصوصی مندوب کیتھ کیلوگ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہے، اور امید ہے کہ یوکرین کے اتحادی ممالک اس بارے میں سنجیدہ گفتگو کریں گے۔ ادھر روسی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ معاملہ بہت پیچیدہ ہے اور فوری جنگ بندی ممکن نہیں لگتی۔