Wed, September 16, 2026

پنجاب میں تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی شرط

پنجاب میں تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی شرط

لاہور:  پنجاب اسمبلی نے "پنجاب تھیلیسیمیا پریوینشن ایکٹ 2025" منظور کر لیا ہے، جس کے مطابق پنجاب بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں داخلے کے وقت تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہو گا۔ اس نئے قانون کے تحت، طلبہ کو داخلے کے فارم کے ساتھ ٹیسٹ کی رپورٹ جمع کرانی ہوگی، اور اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک ایڈوائزری کونسل تشکیل دی جائے گی۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) ٹیسٹ کے نتائج کا ڈیٹا بیس مرتب کرے گا، اور اس کی خفیہ معلومات کے تحفظ کے لیے سخت سزائیں ہوں گی۔ مزید یہ کہ غریب خاندانوں کے لیے مفت ٹیسٹنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور نادرا کے ساتھ مریضوں کی خصوصی رجسٹریشن اور مالی امداد کی اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق، تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا جیسے جینیاتی امراض عموماً کزن میرج سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں، اور ان کی روک تھام کے لیے ٹیسٹ ضروری ہیں۔

یہ قانون فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے اور پنجاب کے تمام تعلیمی اداروں میں لاگو ہوگا۔ بل حتمی منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو بھیجا جائے گا۔

ٹیگز: