Wed, September 16, 2026

پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کے پیچھے کیا ہے

پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کے پیچھے کیا ہے

 پاک سعودی دفاعی معاہدہ دراصل پاک - چین - سعودی دفاعی معاہدہ ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں چین کی دفاعی صلاحیتوں کا ایک پر تو ہی ہیں۔ چین سعودی دفاعی معاہدہ کئی وجوہات کی بنا پر نہیں ہوسکتا تھا اس لئے پاکستان کے فرنٹ پر ہونے کی وجہ سے خلیج بھی پہلی مرتبہ پاکستان کے صدقے چین کی جھولی میں آن گرا ہے۔ اس معاہدے پر کام ایک سال سے ہورہا تھا۔ یہ کوئی ' نی جرک' ایکشن نہیں بلکہ تزویراتی پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ کے لیے بہت بڑا جھٹکا اور بڑی سٹریٹیجک شفٹ ہے کیونکہ چند ہی ہفتوں میں یو اے ای، قطر اور عمان بھی سعودیہ جیسا فیصلہ لینے والے ہیں۔ اسی لئے بہت جلد امریکی ناراضگی بھی نظر آ جائے گی۔ ماضی میں جب بھی مسلم ممالک کے رہنماؤں نے دفاعی اور اقتصادی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی تو اتحاد کے نمایاں رہنماؤں کو نشانہ بنا دیا گیا تاکہ آئندہ کوئی یہودیوں کا مقابلہ کرنے کی جرآت نہ کر سکے۔ 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے قد نکالتے ہوئے رہنماؤں کے انجام کو آپ دیکھ سکتے ہیں۔  
 یہ معاہدہ سعودی ولی عہد محمد کی پرسنل انشورنس ہے۔ شہزادہ محمد کو اگلے چار سے پانچ عشرے حکمران رہنا ہے۔ شہزادہ ٹرمپ کی پچھلی ٹرم سے امریکی دفاعی چھتری کی تلاش میں تھے۔ ان کی ڈیمانڈ واضح تھی کہ یا تو سعودی عرب کو ایٹم بم تک پہنچنے دیا جائے یا ویسا ہی امریکہ سعودیہ دفاعی معاہدہ ہو جیسا جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ ہے۔ شہزادہ محمد کو پانچ سال تک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بعد امریکہ کی طرف سے دونوں معاملات پر ناں ہوگئی۔
ابراہیمی معاہدہ سب سے نمایاں سنگ میل تھا جس کے تحت سعودی عرب کو اسرائیل کو تسلیم کرنا تھا اور جس پر بہت حد تک پیش رفت ہو بھی چکی تھی۔ تاہم شہزادہ محمد کو واضح طور پر نظر آ گیا اور انہوں نے اپنے قریبی حلقوں میں اس پر اظہار خیال بھی کر دیا کہ ان سے لیا جانے والا سب سے بڑا کام اسرائیل کو تسلیم کروانا ہے جس کے بعد وہ ممکنہ طور پر غیر متعلق کر دئے جائیں گے۔ مزید جھانکنے کے لیے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ، اسکے اثرات اور نتائج کو تفصیل سے نظر سے گزاریں تو بات سمجھ میں آ جاتی آتی ہے ۔ اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بعد مصری صدر انور سادات کا منظر سے ہٹا دیا جانا کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی ساری کہانی کا خلاصہ ہے۔
 قطر پر اسرائیلی حملہ وہ آخری ریڈ لائن تھی جو اسرائیل اور امریکہ گٹھ جوڑ نے پار کی۔ اسرائیل کی اس ریاستی بدمعاشی کے پیچھے واضح طور پر ٹرمپ کی منصوبہ بندی اور رضا تھی۔ ٹرمپ نے قطر پر حملہ کرنے سے ایک گھنٹہ 20 منٹ پہلے اسرائیل کو فائنل گرین سگنل دیا۔ ثابت یہ ہوا کہ ٹرمپ کو 6 ٹریلین ڈالرز ڈیفینس ڈیل کے نام پر بھتہ دینے کے باوجود عربوں کے دفاع کی کوئی ضمانت نہیں۔
 اسرائیلی حملہ پن پوائنٹ پریسیڑن کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگوں میں انہیں ایک بندہ مارنا ہو تو گولی اس  تک ہی پہنچتی ہے۔ شہزادہ محمد کو دوحہ حملے کے بعد ایسا ہی منظر دکھائی دے رہا ہے۔ ان کی متبادل انشورنس پالیسی دنیا کی دوسری بڑی دفاعی طاقت چین ہے۔ ساتھ ہی وہ جوہری طاقت جس تک سعودی عرب خود نہیں پہنچ سکا۔ پاکستان کی دفاعی چھتری میں وہی جوہری طاقت انکے ملک کے دفاع کی ضامن بھی بن جاتی ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کو تو دشمنوں سے محفوظ کرتا ہے لیکن اس معاہدے کے پیچھے موجود غیر معمولی شخصیات کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دیتا ہے۔ چنانچہ شہزادہ محمد اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سکیورٹی مزید فول پروف بنانے پر توجہ مرکوز رکھنی ناگزیر ہے۔  
مکہ و مدینہ کی حفاطت پاکستانی فوج کیلئے پہلا مقدس فریضہ ہے۔ پاکستان کا ہر فوجی پاکستان کے ساتھ سعودی سرحدوں کے دفاع کیلئے بھی شہادتِ کی آرزو کرتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ بات پیسے سے زیادہ آئیڈیالوجی کی ہے۔ پاکستان کے سعودیہ کیلئے دفاعی کردار کی بات کریں تو پاکستان کی بدولت ولی عہد محمد کو پاکستان اور چین کی جدید ترین دفاعی صلاحیتوں تک رسائی بھی مل گئی اور ارض پاک کے دشمنوں کے خلاف جوہری طاقت کا ڈراوا بھی دفاع کیلیے سعودیہ کی دسترس میں آگیا۔ امریکہ کو اس معاہدے کے بعد پتہ چلا کہ دونوں ممالک ایک برس سے اس معاہدے پر کام کر رہے تھے۔ ایک برس تک اتنی بڑی خبر کی امریکہ کو بھنک تک نہ پڑنے دینا بھی بہت بڑی خبر ہے۔
 اس معاہدے کی وجہ سے بھارت, امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اچھا خاصا ہاتھ ہوا ہے۔ مئی میں بھارت کے پاکستان پر کئے جانے والے حملے اور اسرائیل کے غزہ و قطر پر حملوں نے دولت مند اور مسکین کزنوں کو رولز رائس کی فرنٹ سیٹوں پر لا بٹھایا ہے۔ عنقریب ریالوں کی برکت سے پاکستان بھارت اور اسرائیل کیلیے ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوگا۔ مئی کے بعد والا پاکستان اوپر والے کے کسی خاص پلان کا حصہ لگتا ہے۔ اسی لیے اب ہوگا پاکستانی، سعودی بھائی بھائی۔
  پاکستان سعودیہ معاہدے میں دیگر خلیجی ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے مابین وسیع تر دفاعی تعلقات رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت اور قطر پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کا اعلان کرنے میں وقت نہیں لگایا۔ اب تک سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک نے اپنے دفاع کیلئے امریکہ کی طرف دیکھا تھا لیکن امریکی رویے کی وجہ سے خلیجی ممالک کو مایوسی ہوئی ہے۔ ٹرمپ عرب اتحادیوں کے ساتھ کئے جانے والے دفاعی وعدے پورے کرنے کو تیار نہیں بلکہ جب بھی اسرائیل اور عرب آمنے سامنے ہوئے امریکہ نے اسرائیل کا ہاتھ تھام لیا۔  
مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی عسکری کارکردگی حیران کن حد تک غیر معمولی تھی جس میں پاکستان نے بھارت کے پرخچے اڑا کر رکھ دیے۔ جس سے ساری دنیا پر یہ واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ پر انحصار انکے لئے ضروری نہیں۔ چینی اسلحہ اور اس کو چلانے والے پاکستانی بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اسرائیل اور ایران کے مابین سیاسی کشمکش کے نتیجے میں بعض عرب ممالک نے اسرائیل اور بعض نے امریکہ کا سہارا لیا۔ ایران سعودیہ صلح اور اسرائیل ایران جنگ کے نتائج کی وجہ سے اب عربوں کو ایران کی طرف سے جارحیت کی فکر نہیں رہی۔ ایران اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کے سر سے ایران کا خوف بھی ختم ہو چکا۔ دوحہ پر اسرائیلی حملے نے خلیجی ممالک کو ناراض کر دیا۔ پاک سعودی معاہدے کے تناظر میں واضح ہوا کہ ہم تنہا نہیں ہمارے ایسے دوست بھی موجود ہیں جنہیں ہماری عسکری صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔ ان مستحکم عرب ممالک کی وجہ سے پاکستان کی اقتصادی پریشانیاں بھی ثیزی سے کم ہوں گی۔ پاک سعودیہ معاہدے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت مضبوط ہونے سے پاکستان اور بھارت کا سفارتی توازن پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو جائے گا کیونکہ بھارت طاقت ہی کی زبان سمجھتا ہے۔

ٹیگز: