لاہور: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ قیادت امن و امان کے حوالے سے ایک اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں ریاستی رِٹ اور قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
پنجاب حکومت نے لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کو مزید سخت کرنے اور اس کا مکمل نفاذ یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہر ضلع میں وِسل بلور سیل قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ فوری طور پر غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
پنجاب حکومت نے انتہا پسند گروپوں اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف پنجاب پولیس ہیلپ لائن 15 پر ایک خصوصی سیل قائم کرنے کا اعلان کیا۔ عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر 15 پر کال کرکے ان کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔
انتہا پسند گروپوں کے تشہیراتی مواد، تصاویر اور پلے کارڈز پر سخت پابندی عائد کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا جائے گا اور مافیا کلچر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پنجاب حکومت نے امن کمیٹیوں کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ جاری آپریشنز میں مکمل طور پر شریک ہوں اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے کام کریں۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب میں ہر شہری کے دروازے تک موبائل پولیس اسٹیشن کی خدمات فراہم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کومبنگ آپریشنز صرف انتہا پسند گروپوں اور ان کے حامیوں کے خلاف ہوں گے، کسی مذہب یا فرقے کے خلاف نہیں۔
پنجاب کی تمام ضلعی انتظامیہ کو روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی بین الاقوامی رہائشیوں کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو یہ بتانا بھی ضروری ہوگا کہ کتنے غیر قانونی رہائشی مختلف کاروبار سے منسلک ہیں اور کتنے افراد کو ڈی پورٹیشن کے لیے بھیجا گیا۔
پنجاب حکومت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی رہائشیوں کو مکان یا دکان کرائے پر نہ دیں، ورنہ کرایہ داری ایکٹ اور پاسپورٹ ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف پییکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پنجاب میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف صفر برداشت پالیسی نافذ کی جا چکی ہے۔