Wed, September 16, 2026

آوارہ گرد تخلیق کار کی نصیحت

آوارہ گرد تخلیق کار کی نصیحت

میں ایک آوارہ طبیعت کا انسان ہوں اور اپنے جیسوں کو خوب پہچانتا ہوں۔ بستی بستی، نگر نگر، قریہ قریہ، شہر شہر اور ملکوں کی سیاحت اور وہاں بسنے والوں کے طرز زندگی بارے جاننے کا جنون یا پاگل پن نہ جانے کب اور کیسے میرے ذوقِ جمالیات کا حصہ بنا مجھے معلوم نہیں، لیکن کچھ ہوش سنبھالا تو میں حالت ِسفر میں تھا۔ ایک دلچسپ اور ناقابل فراموش سفر۔ اتنا طویل سفر کے باقی ماند ہ زندگی میں لکھنا یا سنانا شروع کروں تو یقینا جزئیات ہی بیان کر پا¶ں گا۔ میں رنگ رنگ کے لوگوں ہی نہیں عقائد سے بھی ملا ہوں۔ میری ملاقات صرف ایک نہیں ان گنت خدا¶ں کی کہانیوں سے ہوئی ہے۔ فنون ِلطیفہ کی ایسی ایسی اقسام دیکھنے کو ملی ہیں کہ ابھی انسان اُس کی دریافت نہیں کر پایا۔ میری تصوراتی دنیا نے میرے حواسِ خمسہ پر پڑنے والے ہر تجربے اور مشاہدے کو میرے علم کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہ خود نمائی نہیں ایک حقیقی سفر کی داستان ہے۔ ایک ایسا سفر جو ساٹھ سال میں کبھی براق اور کبھی کچھوے کی رفتار سے طے ہوتا رہا۔ میں نے بھانت بھانت کی بولیاں اور موسیقی سنی ہے، ادب پڑھا بھی ہے اور دور دراز کے علاقائی ادب کو سنا بھی ہے جو ابھی تک ادب کی کتابوں اور تنقید نگاروں سے اوجھل ہے۔ میں نے رقص کرتی فطرت کو اُس کے آنگ بھا¶ کی کتھا سے سمجھا ہے۔ میں بسنت اور بہار راگ کے مشل میل کو سن کر ایک دوسرے سے الگ کر سکتا ہوں چہ جائیکہ میں کسی سمپورن راگ کے اوقات اور اُس کے کومل تیور سُروں پر عامیانہ سی بحث لے کر بیٹھ جا¶ں۔ دوستو! آپ کو عجیب لگے گا لیکن خدا جانتا ہے کہ میں طاق اور جفت ردم کو انگلیوں پر گن سکتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جفت ردم دھا سے دھا تک ہوتا ہے جبکہ طاق ردم میں اگلا سم خود لینا ہوتا ہے۔ میں کیروا اور مغلئی گت سے انجان نہیں ہوں۔ مجھے تورا بولتا استاد اور رقص کرتی رقاصہ یا رقاص کے آنگ بھا¶ سے کتھک رقص کی ساری کتھا سمجھ آتی ہے۔ میں یہاں اپنا شاہ نامہ نہیں سنانا چاہتا صرف اپنے موضوع پر حاصل شدہ استدلال کیلئے ایسی سیکڑوں باتیں لکھ کر لا سکتا تھا لیکن تنگی وقت ہے کہ وصل کی رات کا گمان ہردم، کبھی مقابل اورکبھی تعاقب میں رہتا ہے۔ مجھے لکھنے دیجئے کہ شاعری اور الحان ایک ہی اصول پر نازل ہوتے ہیں۔ شاعر ی کا 
لطف صرف لفظ آشنا اٹھا سکتا ہے اور موسیقی سے صرف وہ کان مستفید ہوتے ہیں جو بارہ سُروں اور ردم کی مختلف اشکال سے آشنا ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ شاعری سن کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے موسیقی کا لطف اٹھا لیا جس سے میں متفق نہیں ہوں کیونکہ دنیا میں آرٹ کے قوانین الگ الگ ہو سکتے ہیں لیکن سائنس کے قوانین اس زمین پر کہیں بھی متضاد یا متصادم نہیں ہیں اور موسیقی سیکھنے میں سائنس اورسننے سنانے میں آرٹ ہے۔
لکھا ہوا لفظ اُس وقت معنی دیتا ہے جب پڑھنے یا سننے والے کے ذہن میں اُس کی کوئی تصویر موجود ہو۔ کیونکہ جانداروں کا ذہن بنانے والے نے اسے تصویری بنایا ہے حروفی نہیں۔ اس لیے لفظِ شیر کہنے سے ہمارے دماغوں میں شیرکی تصویر ابھرتی ہے کیونکہ ہم شیر کی تصویر اپنے دماغ میں پہلے سے رکھتے ہیں لیکن لفظ خدا ’اللہ‘ ایشور یا گاڈ کہنے سے ہمارے دماغوں میں کوئی تصویر نہیں بنتی کیونکہ ہمارے ذہن میں اُس کی کوئی متفقہ تصویر موجود ہی نہیں ہے۔ یعنی یہ تصویر ہمارے فریم آف ریفرنس میں موجود ہی نہیں سو یہی وجہ ہے کہ اس زمین سے خدا کی لڑائی ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی ختم ہو گی جبکہ ہر وہ شے جو تصویر رکھتی ہے اُس پر کسی دو افراد کا کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ ہمارے عہد میں فنون لطیفہ کی جو بے قدری ہو رہی ہے یا پھر فنون لطیفہ کی کسی بھی شاخ سے وابستہ تخلیق کار کو جس ہزیمت، شرمندگی یا معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ اصل میں اس فن سے لاعلمی کی وجہ سے ہے اور جب کوئی آپ کو فنون ِ لطیفہ کی قدر کرتا نظر آئے تو جان لیں کہ اُس انسان کی تخلیق ہی انسانوں کی تخلیق کے بعد بچ جانے والی تخلیقی مٹی سے ہوئی ہے اُس کی مجسمہ سازی میں کوئی دوسری مٹی استعمال کرنے سے اُس کے خالق نے اجتناب برتا ہے۔
میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرنےوالوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اب آپ خود ہی ملاخطہ فرمائیں کہ ہم اپنے رویوں میں کتنے سنگدل ہو چکے ہیں کہ تحسین بھی خراج میں دیتے ہیں حالانکہ اسے لگان میں دینا چاہیے۔ بہرحال جذبات کو پیش کرنے کیلئے شاید الفاظ کا دامن کبھی کشادہ نہیں ہو گا۔ تحقیق یعنی ریسرچ میرا ذریعہ روزگار ہے اب ممکن ہے کہ میرا نقطہ نظر آپ کو پسند نہ ہو یا آپ کی طبع ِ نازک پر گراں گزرے مگر مجھے تو اپنی بات کہنی ہے اور میں اسی لیے اس دنیا میں آیا ہوں۔ عزیزو! اس کائنات میں جاری فطرت کا خود کار نظام میں نے بہت قریب سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اب کو ششیں ناکام بھی ہو جاتی ہیں لیکن زندگی میں کامیابی اور ناکامی دونوں ہی آپ کو کچھ نہ کچھ سکھا کر ضرور جاتی ہیں اور شاید ہماری تخلیق کا مقصد بھی یہی ہے کہ ”اگر جانتے ہو تو بتا¶ اور اگر نہیں جانتے تو پوچھو!“ اور جس انسان کی زندگی سے سیکھنے کا عمل نکل جائے اُس خود ہی اپنی موت کا اعلان کر دینا چاہیے چہ جائیکہ لوگ مساجد کے سپیکروں، گرجاگھروں اورمندر کے گھنٹیوں سے مستفید ہوتے پھریں۔ زندگی کے کسی جبر سے وقتی شکست کا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں لیکن اپنے خواب کی تکمیل کیلئے دوبارہ اٹھنا اور اُسے تعبیرمیں بدلنا بہت بڑی بات ہوتی ہے۔
دوستو! ہم سب کتاب فطرت کے قاری ہیں اس کے مصنف نہیں اورجو کچھ ہم تخلیق کرتے ہیں وہ فطرت سے ہی مستعار لیتے ہیں۔ میں انتہائی ذمہ داری سے آپ کے ساتھ اشتراک کر رہا ہوں کہ میں نے دنیا کو جتنا دیکھا ہے، جتنا آج تک مجھے سمجھ آیا ہے۔ میں اسی نتیجہ پہنچا ہوں کہ کوئی بہت بڑا تخلیق کار کہیں بیٹھا کائنات میں ہونے والی ہر شے کو لکھ رہا ہے۔ وہ ذوق جمالیات کا مارا، آوارہ گرد اپنے مکمل حسن کے ساتھ اس کائنات میں جاری و ساری ہے۔ آپ اُسی تخلیق کار کے حقیقی نمائندے ہیں جن کو کسی دنیاوی بادشاہت یا کسی آئین سے کسی سند کی ضرورت نہیں۔ پاکستان ہماری آخری پناہ گاہ ہے۔ ہم امن پسند شہری ہیں کسی سے جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی پاکستان کے خلاف جارحیت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم اس جعرافیے کے پھول تو دور اس کے کانٹوں کو بھی کسی کو بُری نظر سے نہیں دیکھنے دیں گے۔ اس کیلئے ہمیں اپنے لوگوں میں اخوت، بھائی چارہ، محبت، امن اور پیار پیدا کرنے کیلئے اپنے نوجوانوں کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنا ہو گا تاکہ اُن میں احترام آدمیت اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پرورش کی جا سکے۔ اس کے بعد ہمیں کبھی نوجوان ووٹرز کے بارے میں عمر کو زیادہ کرنے کیلئے قانون سازی نہیں کرنا پڑے گی۔ یاد رکھیں! جبر صرف جبر کو جنم دیتا ہے۔

ٹیگز: