Wed, September 16, 2026

سپریم کورٹ کا بڑا حکم: دہلی اور مضافات کے آوارہ کتوں کا فوری انتظام کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا بڑا حکم: دہلی اور مضافات کے آوارہ کتوں کا فوری انتظام کرنے کا حکم

نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ریبیز کے بڑھتے خطرے کو دیکھتے ہوئے حکام کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ آٹھ ہفتوں کے اندر تمام آوارہ کتوں کو پکڑ کر انہیں خاص جانوروں کی پناہ گاہوں میں منتقل کریں۔

عدالت نے کہا ہے کہ دہلی میں تقریباً دس لاکھ آوارہ کتوں کی موجودگی ہے، جبکہ مضافاتی علاقوں جیسے نوئیڈا، غازی آباد اور گروگرام میں بھی کتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا میں ریبیز سے ہونے والی اموات کا 36 فیصد حصہ بھارت میں ہوتا ہے، جس کی بڑی وجہ آوارہ کتوں کی بے تحاشا تعداد ہے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ہر پناہ گاہ کم از کم 5,000 کتوں کو رکھنے کے قابل ہو، اور وہاں ویکسینیشن، نس بندی کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے جائیں تاکہ ان کتوں کی دیکھ بھال اور نگرانی ہو سکے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ویکسینیشن اور نس بندی کے بعد کتوں کو واپس چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جو کہ پہلے موجودہ قوانین کے تحت ضروری ہوتا تھا۔

ساتھ ہی عدالت نے کتے کے کاٹنے اور ریبیز کے واقعات کی اطلاع کے لیے ایک ہفتے کے اندر ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

دوسری طرف جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس حکم پر تحفظات ظاہر کیے ہیں اور کہا ہے کہ مقرر کردہ وقت میں پناہ گاہیں بنانے اور کتوں کا انتظام کرنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ زیادہ تر شہروں میں کتوں کے لیے جگہ کم ہے۔ پاز نامی تنظیم کے بانی نیلیش بھناگے کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کے بیشتر پناہ گاہوں میں صرف ایک فیصد آوارہ کتوں کو رکھنے کی جگہ دستیاب ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں بھارت میں کتوں کے کاٹنے کے 37 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ٹیگز: