کسی کو اگر عزت مل رہی ہے کسی کے لیے خوشیوں اور ترقیوں کے بندوبست ہو رہے ہیں ، ہمارا اس میں کون سا کوئی ذاتی نقصان ہے کہ ہم کسی سے حسد کریں یا احتجاج کریں یا اسے غلط قرار دیں ؟ جنرل عاصم منیر کی اپنی ماتحت حکومت میں اْنہیں فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا اور شہبازا گیا ہے ، وفاقی کابینہ نے بھارت کو ’’شکست فاش‘‘ دینے پر فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو کی ملازمت یعنی’’بادشاہی‘‘ میں بھی توسیع کا فیصلہ کیا ہے ، کم از کم اس فیصلے کو دل سے سراہا جانا چاہیے ، کیونکہ ہندوستان کو ناکوں چنے چبوانے کا اصل کریڈٹ اْنہیں جاتا ہے ، کابینہ نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے دیگر فوجی افسران جوانوں غازیان اور شہداء کو بھی خصوصی ایوارڈ سے نوازا جائے گا ، ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل شریف نے کہا ہے’’شہادت ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے ، دشمن کے سامنے ہم پہلے جھکے نہ اب جھکیں گے‘‘ ، ہماری خواہش اور دعا بھی یہی دشمن ملک بھارت کو جس طرح ہلکی سی جنگ میں سیز فائر کی صورت میں ہم نے عبرت ناک شکست دی ہے اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی ہم اْسے عبرت ناک شکست دیں ، خصوصاً وہ اگر کرپشن اور آئین کی بالادستی میں ہم سے آگے نکلنے کی ہلکی سی کوشش کرے ہم اْسے ناکام بنا دیں کیونکہ یہ ہماری ’’بنیادی شناختیں‘‘ ہیں اور ہم دشمن کو کسی صورت میں اجازت نہیں دے سکتے وہ ہمیں ہماری ان ’’بنیادی شناختوں‘‘ سے محروم کرے ، جنرل عاصم منیر ملکی تاریخ کے دوسرے اور جمہوری دور کے پہلے فیلڈ مارشل ہیں اب اْن کے نام کے ساتھ تاحیات ریٹائرڈ نہیں لکھا جائے گا ، لکھا بھی جاتا اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا کیونکہ ہمارے اکثر جرنیل ریٹائرڈ ہونے کے بعد’’سوا لاکھ‘‘ کے ہو جاتے ہیں ، میں جنرل عاصم منیر کے اس جذبے کی قدر کرتا ہوں اْنہوں نے فرمایاہے’’ملک کے لیے لاکھوں عاصم منیر قربان‘‘ ، ہم خود اْن کے قربان اْنہیں ایسی بات سوچنی بھی نہیں چاہیے ، جب قربان ہونے کے لیے ہم عوام موجود ہیں وہ ایسی منحوس باتیں کیوں سوچتے ہیں ؟ مْلک میں لاکھوں عاصم منیر ہیں بھی نہیں ، عاصم منیر صرف ایک ہیں اور اس وقت وہی سب پر بھاری ہیں ، صدر زرداری کا یہ نعرہ اب بیکار ہو گیا ہے’’ایک زرداری سب پر بھاری‘‘، سب پر بھاری اس مْلک میں اب صرف ایک شخص ہے اور وہ عاصم منیر ہے ، پتہ چلا ہے اْنہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر زرداری سے خصوصی ملاقات کی اور اْنہیں اس ترقی پر اعتماد میں لیا ، اس سے بھی زیادہ ضروری تھا وزیراعظم شہباز شریف اپنے بڑے بھائی میاں محمد نواز شریف کے پاس جاتے اور سب سے پہلے اس ترقی کے حوالے سے اْنہیں اعتماد میں لیتے ، بلکہ اْن سے اس کی باقاعدہ منظوری لیتے ، اس معاملے میں میاں محمد نواز شریف کا کوئی عمل دخل دکھائی نہیں دیتا ، مگر ہم اْمید کرتے ہیں ایک آدھ دن میں اْن کی وزیراعلیٰ صاحبزادی کا یہ بیان سامنے آ جائے گا ’’آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کا فیصلہ میاں محمد نواز شریف کے حکم سے ہوا اور اس کی ساری ’’پلاننگ‘‘ اْنہوں نے ہی کی ہے‘‘ ، جیسے یہ فرما دیا گیا تھا ’’ہندوستان کے ساتھ حالیہ ہلکی سی جنگ کی ساری پلاننگ میاں محمد نواز شریف نے کی تھی‘‘، شکر ہے میاں محمد نواز شریف جنگ لڑنے کے لیے خود میدان میں نہیں اْتر آئے ورنہ آج قوم جنگ جیتنے کی خوشیاں نہ منا رہی ہوتی ، نہ ہی جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دئیے جانے کی نوبت آتی ، وزیراعظم نے تو صدر کو اعتماد میں لے کر آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنا دیا اب دیکھتے ہیں ’’جوابی محبت‘‘ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیراعظم شہباز شریف کو کس بڑے اعزاز سے نوازنے کا اعلان کرتے ہیں ؟ اس جنگ میں شہباز شریف کی خدمات بھی کم نہیں ہیں ، اْنہوں نے خود بتایا ہے’’دوران جنگ وہ سوئمنگ پول میں تھے‘‘ یعنی اپنی طرف سے وہ ’’حالت جنگ‘‘ میں ہی تھے ، فرض کر لیں وہ اْس وقت سو رہے ہوتے اور اْن کا’’کار خاص‘‘ ضیائ، جنرل عاصم منیر سے اْن کی بات نہ کراتا اور سیز فائر کا فیصلہ کرنے میں تاخیرہو جاتی اس کے نتیجے میں ظاہر ہے ہمیں کسی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا ، سو وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ وہ اْس وقت جاگ رہے تھے ، ویسے بھی اْن کی شہرت بہت کم سونے کی ہے ، اس ملک میں آج تک جو ترقی نہیں ہو سکی اس کی وجہ اْن کا کم سوناہی ہے ، اور جتنی ترقی اتفاق سے ہوگئی ہے اس کی وجہ اْن کے بڑے بھائی کا زیادہ سونا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کو سیز فائر کی جنگ جیتنے اور جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کے بدلے میں اگر کسی بڑے اعزاز سے نہ بھی نوازا گیا اْنہیں یہ اعزازہی بخش دیا جائے ’’آئندہ وہ اپنے اختیارات کا خود بھی استعمال کر سکتے ہیں ، بلکہ کچھ ’’اضافی اختیارات‘‘ بھی اْنہیں سونپ دئیے جائیں جس میں ایک اختیار یہ بھی ہو وہ اپنی حکومت میں اپنی مرضی سے مزید پانچ برسوں کا اضافہ کر لیں ، بلکہ خود کو’’تاحیات وزیراعظم‘‘ بنانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیں ، تاکہ تھوڑے تھوڑے عرصے کے لیے جو ’’واہیات وزیراعظم‘‘ آتے ہیں قوم کو اْن سے نجات مل سکے ، اس کے بعد مسئلہ صدر زرداری کا رہ جائے گا ، سیز فائر کی جنگ جیتنے کی خوشی میں اْن کی جو ’’نامعلوم خدمات‘‘ ہیں اْن کے بدلے میں اْنہیں کسی بڑے اعزاز سے نہ بھی نوازا جائے میرے خیال میں اْن کے لیے یہ یقین دہانی ہی کافی ہوگی’’بی بی کے قاتلوں کو کبھی بے نقاب نہیں کیا جائے گا‘‘ ، پیچھے رہ گئے عوام اور میڈیا ، اْن کے بارے میں با امر مجبوری یہ اعتراف کرنا پڑ رہاہے’’جنگ جیتنے میں اْن کا کردار بھی بہت اہم ہے‘‘ ، یہ اعتراف اگر نہ بھی کیا جائے میڈیا اور عوام نے کون سی چوں کرنی ہے ؟ ان دونوں کا کام ہر حال میں تابعداری ہے ، وہ ان سے مفت میں کروا لیں ، اْنہیں چھتر مار کر کروا لیں ، یا پیار محبت سے کچھ دے دلا کر کرا لیں ، ’’حاضر سروس لوگوں‘‘ کے لئے وہ ہر حال میں حاضر ہیں ، کل ایک سادہ لوح پاکستانی مجھ سے پوچھ رہا تھا’’آرمی چیف بڑا ہوتا ہے یا فیلڈ مارشل بڑا ہوتا ہے ؟‘‘ ، میں نے کہا ’’یہ تو مجھے نہیں پتہ ، مجھے صرف یہ پتہ ہے وزیراعظم ان دونوں سے بہت چھوٹا ہوتا ہے‘‘۔