خوش فہمی اور غلط فہمی کا شکار ہر بندہ ہی ہوتا ہے اور یقینا ہم بھی ہوں گے لیکن زندگی میں کوشش کی ہے کہ ان دونوں سے جس حد تک دور رہا جائے بہتر ہے لیکن آج ہمیں خوش فہم ہونے کا حق ہے اس لئے کہ گذشتہ ہفتہ 17مئی کو شائع ہونے والے کالم میں ہم نے جنرل عاصم منیر کے لئے حکومت سے فیلڈ مارشل کے عہدے کی درخواست کی تھی جس کی تکمیل ہو چکی ہے اور ہم اس لئے خوش فہمی کا شکار ہونا چاہتے ہیں کہ کم از کم ہماری نظر میں یہ بات کسی اور نے نہیں کی تھی ۔ گذشتہ ہفتہ ہم نے اسی عنوان سے لکھے گئے کالم میں حکومت سے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دینے کی درخواست کی تھی ۔ وہ کالم جب لکھا جا رہا تھا تو وہ حکومت سے درخواست تو تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ہماری ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے دلوں کی حسرت اور خواہش بھی تھی لیکن آج جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو ہماری اور پاکستانی عوام کے دلوں کی حسرت اور خواہش ایک حقیقت بن چکی ہے ۔ اس لئے کہ حکومت نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لئے فیلڈ مارشل کے عہدے کا اعلان کر دیا ہے ۔17 مئی کو شائع ہونے والے کالم میں ہم نے عرض کیا تھا کہ ’’ وزیر اعظم محترم میاں شہبازشریف نے بدھ کو مختلف فوجی چھائونیوں کے دور کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہندوستان سے 71کی جنگ کا بدلہ لے لیا ہے ۔ ہم میاں صاحب کی بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور میاں صاحب کو یاد دلاتے ہیں کہ 1971میں ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جو سازش کی تھی اور جس جنگ کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہوا تھا اس جنگ میں انڈین آرمی کی کمان جنرل مانک شاء کر رہے تھے اور ہندوستان نے انھیں اس کارنامہ پر فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا تھا تو آج پاکستان کو اپنے سے دس گنا بڑے ازلی دشمن کے خلاف جو ایک عظیم الشان فتح نصیب ہوئی اور جتنے کم وقت میں ہوئی اس کی مثال کم از کم حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی اور اگر کسی کو کوئی شبہ ہے تو وہ روس اور یوکرین کی جنگ سے اندازہ لگا لے کہ کہاں روس اور کہاں یوکرین لیکن یوکرین صلح پر بھی آمادہ نہیں ہو رہا جبکہ فقط پانچ گھنٹوں میں ہندوستان نے اس طرح گھٹنے ٹیک کر ٹرمپ سے جنگ بندی کی اپیلیں شروع کر دیں کہ اب ہندوستان میں مودی کو نریندر مودی نہیں بلکہ سرینڈر مودی کہا جاتا ہے ۔ آج کی تحریر میں پاک بھارت کشیدگی یا آنے والوں دنوں میں کیا ہونے جا رہا ہے اس پر بات نہیں ہو گی بلکہ اس فتح مبین کے جو ہیروز ہیں ان کے حق کی بات ہو گی اور جو دنیا بھر میں حق دیا جاتا ہے اور اس کا بھی ذکر ہو گا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر جو اس وقت پاکستان کی سب سے ہر دلعزیز شخصیت بن چکے ہیں اور ان کی قیادت میں عسکری قیادت میںہندوستان جو پاکستان سے دس گنا بڑا دشمن ہے کو جس طرح انتہائی مختصر وقت میں جو عظیم الشان فتح ملی اس پر حکومت کو انھیں فیلڈ مارشل کا اعزاز دینا چاہئے ۔ دوسرا اس فتح میں پاکستان کی فضائیہ نے بڑا ہی اہم کردار ادا کیا ہے جس میں ہندوستان کی 26ایئر بیس کو ٹارگٹ کیا گیا جن میں اڑی ، پٹھان کوٹ ، ادھم پور ، آدم پور ، سورت گڑھ ، اونتی پورہ اور راجوری ۔ اس کے علاوہ بیاس اور اونتی پورہ میں براہموس میزائلوں کے اڈوں کو تباہ کیا گیا اور سب سے اہم آدم پور ایئر بیس پر S-400سسٹم کو تباہ کیا گیا جس کے بعد ہندوستان دفاعی لحاظ سے اندھا اور بہرہ ہو گیا ۔ لہٰذا پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کو ’’مارشل آف دی ایئر فورس ‘‘ کے اعزاز سے نوازا جائے ۔ ‘‘
اسی کالم میں آگے چل کر ہم نے کہا تھا کہ ’’ہم نے کوئی انوکھا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے انڈیا نے جنرل مانک شاء کو اور برطانیہ نے برنارڈ منٹگمری کو ، جرمنی نے ایرون رومیل جو ڈیزرٹ فاکس کے نام سے مشہور ہیں انھیں، امریکہ نے ڈگلس میک آرتھر کو اور کئی دیگر کو یہ اعزاز ملا ہے ۔ یہ فتح فقط ایک فتح نہیں ہے بلکہ فتوحات کا مجموعہ ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ جب مودی نے کشمیر کو ہندوستان میں ضم کیا تھا اور پلوامہ کا واقعہ ہوا تھا تو ہمارے ساتھ دنیا کا کوئی ایک ملک بھی کھڑا ہونے کو تیار نہیں تھا لیکن اس بار دنیا کس طرح پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہے کہ ہندوستان نے ترکی اور آذربائیجان کا سیاحتی بائیکاٹ کر دیا ہے اور جو نقد نتیجہ نکلا ہے وہ تو یہ ہے کہ اس خطے سے ہندوستان کی جو جعلی اور خود ساختہ چودھراہٹ تھی اس کا خاتمہ بالخیر ہو گیا ہے ۔ ‘‘
جنرل عاصم منیر کے اس عہدے سے سب سے زیادہ تکلیف ہندوستان کو ہوئی ہے اور اسے ہونی بھی چاہئے اور ہندوستان کی تکلیف اور چیخیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جنرل صاحب کو درست طور پر یہ عہدہ ملا ہے ۔ آخر میں فیلڈ مارشل کے عہدے کے حوالے سے چند الفاظ قارئین کی نذر کرتے ہیں۔ یہ ایک اعلیٰ ترین فوجی عہدے ہوتا ہے جو کسی بھی ملک کی بری فوج میں دیا جاتا ہے ۔ یہ عہدہ جنرل سے بھی اوپر ہوتا ہے اور تا حیات ہوتا ہے ۔ فیلڈ مارشل کا اعزاز مسلح افواج میں غیر معمولی اور مثالی کارکردگی پر دیا جاتا ہے ۔ فیلڈ مارشل فوج میں سب سے سینئر فائیو سٹار جنرل ہوتا ہے۔ خدائے پاک سے دعا ہے کہ پاکستان کو اسی طرح سرخرو کرتا رہے آمین ۔