بے خوف انسان ہی مسلمان کہلانے کا حقدار ہے ، غزہ میں یہودیوں کے خلاف اپنی جان کا نذرانہ دینے والے نوجوان ،عمر رسیدہ لوگ، خواتین، شیر خوار بچے بہادر اور بے خوف مسلمان کہلانے کے حقدار ہیںجہاںا کتوبر 2023 کو تنازع شروع ہونے کے بعد سے شہداء کی تعداد 53,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جن میں تقریباً 18,000 بچے شامل ہیں۔
اس تنازعے کے نتیجے میں 114,000 سے زیادہ زخمی ہوئے اور غزہ کے اندر 1.93 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، جو کہ آبادی کا 85 فیصد سے زیادہ ہیں۔غزہ کے شہداء اسوقت جنت الفردوس کی پرفضا ماحول میں میں دنیا کو دیکھ رہے ہیں کہ شائد ایک دن یہ شہادتیںرک جائیں، ان شہداء نے جنت الفردوس کو خود چنا جبکہ دنیا میںایسے نام نہاد مسلمان بھی ہیں جو اپنا نام مسلمانوں کی طرح رکھ کر اپنے آپ کو عالم فاضل، مفکر کہلاکردوزخ میں جانے کے خواہش مند ہوتے ہیںپڑوس میںرہنے والے ایک نام نہاد مفکر ، شاعر نے فرمایا ہے کہ ’’ اگر مجھے پاکستان یا دوزخ میںجانے کی خواہش ہوئی تو میں دوزخ میں جانا پسند کرونگا ‘‘ اس بے ہودہ انسان کو نہ جانے یہ کیوں نہیں پتہ کہ وہ دوزخ میںہی تو رہ رہا ہے ۔ وہ جس ملک میں رہ رہا ہے وہاںکے مسلمانوں ںکیلئے کوئی چوائس نہیںہے اسلئے وہاں سڑک پر چلنے والے شخص کو ’’پاکستان مردہ باد‘‘ کا نعرہ لگا کر دل کو تسکین پہنچتی ہے ، پڑوس کے حکمرانوںکے خوابوں میں اب صرف پاکستان ہی آتا ہے کسی ملک کا شہری ہونا کوئی بری بات نہیں یہ انکا حق ہے مگر اسکے لئے دوسرے ملک سے بہتر دوزخ کہنا ، انکی منافقت اور خوف کا مظہر ہے بمبئی میں ایک کتاب کی رونمائی کے وقت انہوںنے اس خوف کا اظہارکیا جو وہاںکے مسلمانوںپر طاری کردی گئی انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر انہیں جہنم میں جانے یا پاکستان جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو وہ جہنم کو ترجیح دیں گے۔ موصوف کو لعن طعن اپنے ملک اور بیرونی دنیا میں ان الفاظ پر سننا پڑی ، جبکہ کشادہ دل پاکستانیوںنے ان کو پاکستان کے دورے کے دوران عزت و احترام دیا ، ہمارے شعراء بھی خواہ مخواہ کا کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں کوئی بعید نہیں کہ شام کو جاوید اختر کے ہمراہ ’’چسکی ‘‘لگا کر وہ بھی اس شخص کی ہاںمیںہاں ملاتے ہونگے ، اس شخص نے پاکستان میں بکواس کرتے ہوئے کہا تھا پاکستانیوںمیں نفرت ہے ۔
جاوید اختر نے پاکستان آ کر ہمارے درمیان بیٹھ کر ہمیں برا بھلا کہا ہے اور اس ہال میں بیٹھے کسی بھی پاکستانی کی قومی حمیت اور غیرت نہیں جاگی۔کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ کہتا کہ اگر تمہیں برا لگ رہا ہے کہ ہم نے آج تک لتا منگیشکر کو نہیں بلایا تو تم غیرت کھاتے۔تم کیوں آگئے پاکستان۔ تمہیں اس تقریب کا بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا۔دوسرا کیا جاوید اختر کو یہ علم نہیں کہ پاکستانی فنکاروں کے ساتھ پڑوس میں کیا سلوک کیا گیا ہے۔ کیا شیو سینا کے غنڈوں نے نصرت فتح علی خان کا پروگرام بند نہیں کرایا۔کیا کامیڈی شو میں شکیل صدیقی کی اینٹری بین نہیں کی۔کیا ٹی وی کے میوزک شوز میں نام لے کر راحت فتح علی خان، عاطف اسلم اور علی ظفر سے ہندوستانی فلموں میں گیت گوانے کی مذمت نہیں کی گئی۔اس وقت جاوید اختر کدھر تھے.؟انکی بیگم شبانہ اعظمی کہہ چکی ہیں کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں کرایہ پر گھر کوئی نہیںدیتا ، ایسے بے گھر لوگوںکو ملک میںاپنی پہچان اور موجودگی رکھنے کیلئے یہ الفاظ زیب دیتے ہیں کہ ’’پیا ‘‘خوش رہے ، آج ان مسلمان فنکاروںکو پڑوس میںمشکل وقت دیکھنا پڑ رہا ہے چونکہ وہ جاوید اختر کی طرح ’’اول فول ‘‘بکنے سے قاصر ہیں جس ملک میںاداکار شاہ رخ کے میت پر پڑھ کر پھوکنے کو کہا جائے کہ اس نے میت پر تھوکاہے انکے لئے کیا کہا جائے ، آج پاکستان کے عظیم گلوکاروںکے وہاںگانے چلائے جارہے ہیں مگر نفرت کی بنا گلوکار کو نام تبدیل کردیا ہے ، پڑوس میں ایک اور ’’جنتی ‘‘ مسلمانوں کے سرکاری رہنماء اسدالدین اویسی، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ نے دہشت گردی کو فروغ دینے اور تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لیے اسلام کے استعمال میں پاکستان کے کردار پر مسلسل تنقید کی ہے۔انکے بیانات کو پڑوس کا میڈیا خوب دکھا رہاہے یہ محترم تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ علیحدگی پسند تھا اسلئے ہم نے اسکا ساتھ نہیں دیا ( یہ منہ او رمسور کی دال ) وہ فرماتا ہے پاکستان ایک عالمی خطرہ ہے اویسی نے پاکستان کو ایک ''ناکام ملک'' اور ''عالمی خطرہ'' کے طور پر لیبل کیا ہے، اس کے جوہری ہتھیاروں کو غیر مسلح اور تباہ کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو قرضے فراہم کرنے پر آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے فنڈز عسکریت پسندی کی حمایت کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔وہ پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت کی وجہ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گرے لسٹ میں ڈالنے کی وکالت کر رہا ہے ۔اس نے اپنی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ لشکر طیبہ کی شاخ مزاحمتی محاذ (TRF) کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے پر زور دے۔اسکی بکواس میں دو قومی نظریے پر تنقید بھی شامل ہے ، یہ ہی بکواس کرنے وہ ایک وفدکے ہمراہ مسلمان ملکوںکو دورہ کرنے والے ہیںمگر مسلم دنیا پاکستان کی اسلام کیلئے خدمات سے واقف ہے اور مسلم دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ وہ جس ملک سے آرہا ہے وہاں اسکی حیثیت صرف اتنی ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے
ایجنڈے پر ہے ، اسکے علاوہ افغانستان جسے کئی مرتبہ پاکستان میںدہشت گردی ملوث پایا گیا ہے انکے دہشت گرد رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں وہاں کے ایک وزیر نے بھی چھپ چھپا کر پڑوس کا دورہ کیا ۔ ایسے وقت میں اس کے کیا معنی ؟؟ وزیراعلیٰ بلوچستان نے یونہی نہیں کہا ہے کہ پاکستان مخالف گروپ بھارتی مال و عسکری امداد کے ساتھ افغانستان میں کیمپ چلا رہے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرنے پاکستان آتے ہیں۔افغانی وزیر کا دورہ گنے یا ناریل کی خریداری کیلئے تو ہرگز نہیں ہوگا وہ اسلام آباد آتے اور کم از کم مسلمان ہونے کے ناتے پاکستانیوں کو اپنی بھرپور معاونت کا جھوٹے منہ ہی سہی، یقین دلاتے تو پاکستانیوں کے دل میں بھی افغان پالیسی کے حوالے سے نرمی کی خواہش جنم لیتی۔ حالات بہتر بنانے میں مدد ملتی۔ ایسا نہیں ہوا، اس دورے میں ۔ کچھ نہ کچھ تو کیا، یہاں ساری دال ہی کالی لگ رہی ہے۔ بفضل خدا ہم معرکۂ خیر و شر میں کامیابی حاصل کرنے پر یومِ تشکر منا رہے ہیں۔ ملک بھر میں عوام جوش و خروش سے تقریبات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اللہ پاکستان، پاکستانی افواج کو نظر بد سے بچائے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔