بھارت نے معرکہ حق ”آپریشن بنیان مرصوص“ میں افواج پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھا نے کے بعد اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے بلوچستان میں اپنی پروردہ کالعدم تنظیموں کو بھاری فنڈنگ فراہم کر کے دہشت گردانہ کارروائیوں کو تیز کیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو ختم کرنے کے لیے فتنہ الخوارج کے سابق ترجمان کی خدمات حاصل کی تھیں۔ احسان اللہ احسان نے بھارتی اخبار ”دی سنڈے گارڈین“ جو خفیہ ایجنسی ”را“ کی فنڈنگ سے شائع ہوتا ہے، میں ایک مضمون لکھا جس میں بے بنیاد دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اندر مزید دو دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا میں اس طرح کی جھوٹی خبروں کا مقصد اپنی ذلت آمیز شکست کو چھپانا ہے کیونکہ دنیا یہ بخوبی جان چکی ہے کہ ”پہگام حملہ“ بھارت نے اپنی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے خود کرایا ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں لاکھ کوششیں کر لیں، وہ دنیا کو یہ دھوکہ نہیں دے سکتیں کہ وہ دہشت گردوں کی حمایت اور فنڈنگ نہیں کر رہیں۔ دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ بھارت دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرتا ہے، اور اب اس حقیقت کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ بھارت اس وقت منظم منصوبہ بندی کے ساتھ سپانسرڈ دہشت گردوں سے بلوچستان میں حملے کرا رہا ہے، غیر مقامی افراد خصوصاً پنجابی مزدوروںکا ناحق قتل، حالیہ دلخراش واقعے میں لورالائی اور موسیٰ خیل کے درمیان قومی شاہراہ، سرہ ڈاکہ کے مقام پر دہشت گردوں کا پنجابی مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں گولیاں مار کر شہید کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ فتنة الہندوستان کالعدم تنظیم بی ایل ایف نے بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنے کے لیے بھارت سے بھاری فنڈنگ لی اور پھر اپنی بزدلانہ کارروائیوں کو ”آپریشن بام“ کا نام دیکر ایک بار پھر بلوچ عوام اور عوامی ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، مگر سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مو¿ثر جوابی کارروائیوں نے اس ”بام“ کو دہشت گردوں کی شام اور اختتام میں بدل دیا۔ کالعدم تنظیم بی ایل ایف نے اپنے ہندو بھگوانوں کو خوش کرنے، پہلی فنڈنگ کو ہضم کرنے اور مزید رقم بٹورنے کرنے کے لیے ریاستی اداروں پر حملے کرنے، ناکہ بندیوں اور علاقوں پر قبضہ کرنے جیسے جھوٹے دعوﺅں کے انبار لگا دئیے، ان جعلی ناکہ بندیوں اور قابض ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ بزدل دہشت گرد چند منٹوں کے لیے سڑکوں پر آ کر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ فلاں، فلاں علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں، اور پھر فوراً وہاں سے دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں، یہ فوٹو شوٹ محض تین سے چار منٹ پر محیط ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ان کالعدم تنظیموں کے دعوے من گھڑت اور بے بنیاد ہوتے ہیں، بی ایل ایف کی طرف سے جن حملوں کی فہرست جاری کی گئی ہے وہ مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ ہے۔ دہشت گرد اپنی ناکامیوں کا بدلہ لینے کے لیے عوام کو سہولت فراہم کرنے والے نجی بینک، تفریحی پارک، مواصلاتی ٹاورز، مشینری اور مقامی تاجروں کی اشیائے خور و نوش سے بھری گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان سب میں نقصان صرف بلوچ عوام کا ہوا ہے۔ ان واقعات کو بھارت سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس پر بھر پور کوریج دی گئی۔ یاد رہے کہ فتنة الہندوستان کے ہر حملے کے بعد بھارتی میڈیا اسے خوب اچھالتا ہے، جس کا ثبوت جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد انڈین میڈیا نے جعلی اور AI ویڈیوز تک چلائیں۔ بھارت ان کالعدم تنظیموں کی معمولی سے معمولی کارروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور دہشت گردوں کے بیانیے کو سپورٹ کرتا ہے۔ بھارت اپنی دہشت گرد پراکسیز فتنة الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے ذریعے خطے اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ دو ماہ قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے پریزنٹیشن کے ذریعے 20 سال سے بھارتی
سرپرستی میں جاری دہشت گردی سے متعلق حقائق میڈیا کے سامنے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے اب تک بھارت کی دہشت گردی جاری ہے۔ 1947ءمیں دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی وجود میں آئی۔ بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی کے لیے یہ تنظیم قائم کی اور یہ سلسلہ جاری رہا۔ مزید انہوں نے کہا کہ 2009 میں حکومت پاکستان نے شرم الشیخ میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم کو ناقابل تردید ثبوت کے ساتھ ڈوزیئر حوالے کیا تھا۔ یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ 2010 میں دستاویزی ثبوت جاری کیے گئے۔ 2015 میں پاکستان نے پھر اقوام متحدہ میں بھارتی دہشت گردی سے متعلق ایک ڈوزیئر پیش کیا۔ 2016 میں بھارت کی سرپرستی میں بلوچستان میں دہشت گردی کو بے نقاب کیا گیا۔ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا۔ اس نے اپنی گھناﺅنی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور بھارتی حکومت کی سرپرستی اور فنڈز کی فراہمی سے متعلق اعتراف کیا۔ 2019ءمیں ایک مرتبہ پھر ٹھوس شواہد کے ڈوزیئر اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔ حال ہی میں میڈیا نے دیکھا کہ فتنة الہندوستان کے درجنوں دہشت گردوں نے سرینڈر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کس طرح بلوچستان میں فتنة الہندوستان کی سرپرستی، فنڈر کی فراہمی اور منصوبہ بندی کر رہا ہے۔“ قارئین کو یاد ہو گا کہ چند ماہ قبل کالعدم تنظیم بی آر پی کا اہم کمانڈر نجیب اللہ جب قومی دھارے میں شامل ہوا، تو اس نے تہلکہ خیز انکشافات کیے تھے۔ نجیب اللہ نے بتایا کہ اس نے زندگی کے اہم 19سال دہشت گردوں کے ساتھ گزارے، دہشت گرد تنظیموں نے نوجوانوں کی ذہن سازی کی اور بلوچ نوجوانوں کو دہشت گردی میں جھونکا۔ مزید بتایا کہ پڑوسی ملک (بھارت) کے ہینڈلرز کے عزائم دیکھ کر میری آنکھوں سے نام نہاد آزادی کی پٹی کھل گئی، میری ملاقات بھارتی ایجنسی را کے لوگوں سے ہوئی تو انہوں نے صاف کہا کہ ہمیں تمہاری آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم تو صرف پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ہم تمہاری سپورٹ کریں گے۔ ان حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بھارت بلوچستان میں تمام کالعدم تنظیموں کو ہتھیار، مالی سپورٹ اور ٹریننگ فراہم کر رہا ہے ۔ مگر بھارت پاکستان سے ہر محاذ پر ذلت آمیز شکست اٹھا رہا ہے۔