بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی پراکسیز بلوچ یک جہتی کمیٹی(بی وائی سی)،پانک اور بی ڈبلیو ایف کی جانب سے ”لاپتا افراد“کا ایک بیانیہ تشکیل دےکرایک طرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک منفی پراپیگنڈا کرنے کی کوشش کی گئی تو دوسری جانب محرومیوں اور ریاستی ناانصافیوں کی من گھڑت کہانیاں سنا کر پڑھے لکھے بلوچ نوجوان اور خواتین کو گمراہ کیا گیا۔ان تنظیموں نے بلوچ آزادی کے جذباتی نعروں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں انتشار پیدا کیا ،انہیں ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا اور اپنے مفادات کی خاطر انہیںدہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔جبکہ حقیقت تو یہ ہے اس بیانیے کے پیچھے ایک بہت خطرناک سازش چھپی ہوئی ہے اور وہ سازش ہے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا ،واضح رہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھارت نے بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ،اپنی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کی بنیاد رکھی اور پھر انہیں اسلحہ ، تربیت اور پیسہ فراہم کیا ۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اعتراف نے بھارت کے مکروہ چہرے کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا۔واضح رہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)کے معاہدے پر سب سے زیادہ تکلیف کا شکار بھارت تھا۔اس کو معلوم تھا کہ (سی پیک)کی تکمیل کے بعد پاکستان ہر لحاظ سے اس سے کئی گناہ زیادہ مضبوط ہوجائے گا ،اسی خوف کی وجہ سے راءنے کالعدم تنظیموں کو سرپرستی اور معاونت فراہم کرکے ان منصوبوں پر اور ان پر کام کرنے والے چینی اور پاکستانی انجینئرز پر حملے کرائے گئے ۔مقصد پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنا تھا ،مگر افواج پاکستان ،سکیورٹی فورسز اور عوام نے قربانیاں دیکر ترقی کے اس سفر کو جاری رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان کے عوام جان چکے ہیں کہ بلوچ حقوق کی نام نہاددعویدار یہ تنظیمیں بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کی اصل دشمن ہیں جبکہ ریاست ہی ان کی محافظ ہے ۔ اس وقت فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیموں نے ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی پراکسی ،سیاسی ونگ بلوچ یک جہتی کمیٹی(بی وائی سی)کے ذریعے ”لاپتا افراد اور جبری گمشدہ“ کے نام پر رچائے جانے والے ڈرامے کو طول دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ اور فنڈنگ حاصل کی جا سکے اور دہشت گردی کو مزاحمت قرار دیکر اسے جواز فراہم کیا جا سکے۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئی ایک شخص بھی جبری گمشدہ نہیں ہے۔ دہشت گردوں کو ”لاپتا افراد“ کا ٹائٹل دیکر ان کے جرائم پر پردہ ڈال کر انہیں معصوم اور بے گناہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ماضی میں کریم جان، عبدالوادود، طیب بلوچ جیسے درجنوں نوجوانوں کو بی وائی سی، پانک اور بی ڈبلیو ایف نے ”مسنگ پرسن“ بنا کر ریاست کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈا کیا، مگر وہی ”لاپتا افراد“ دہشت گردی میں شامل نکلے اور خود کش حملہ آور تھے۔ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ بلوچستان میں پختون، ہزارہ اور دیگر قومیں آباد ہیں مگر ان میں سے آج تک کوئی شخص بھی ”لاپتا“ نہیں ہوا پھر چند لوگ ہی مسنگ پرسن کیوں؟ اور اگر واقعی کوئی جبری گمشدہ ہے تو بی وائی سی اور اس کی نام نہاد لیڈر ماہ رنگ بلوچ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مسنگ پرسنز کے حوالے سے بننے والے کمیشن کے ساتھ تعاون کیوں نہ کیا؟ سوال تو بنتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں ان نام نہاد مسنگ پرسنز کی حقیقت: بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عادل نامی ایک نوجوان کو 9نومبر 2024کوجبری گمشدہ قرار دیکر اس کا الزام ریاست پر لگایا تھا، جو درحقیقت 2024ءمیں ہی بی وائی سی کے دھرنے کے ذریعے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شامل ہوا، جس کو بی ایل اے نے خود تسلیم کیا۔ یہی لاپتا عادل 16 فروری 2026 کو آواران میں دہشت گردی کرتے ہوئے جہنم واصل ہوا۔ اسی طرح 4 جون 2026 کو زبیر بلوچ اور شکر اللہ کو چاغی سے ،12جون 2026کو مراد جان کو تربت سے، 29 مئی 2026 کو حبیب اللہ کو کیچ سے، 17جنوری 2026کو عمران کو پنجگور سے،اویس قمبرانی اور محمد عارف کو خاران سے، 26 ستمبر 2025 کو سراج بلوچ کو کیچ سے، 27 ستمبر 2025 کو عبدالحکیم اور الطاف ہیبتان کو کیچ سے لاپتہ قرار دیا گیا جب کہ یہ سبھی نوجوان بی وائی سی کے برین واشنگ کے ذریعے گمراہ ہو کر پہاڑوں پر موجود کالعدم تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ٹھکانوں پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ چند مثالیں کافی ہیں مسنگ پرسنز کے ڈرامے کو بے نقاب کرنے کے لیے۔ اس بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو اپنے دام فریب میں لاکر انہیں مجرم بنادیا ،ان کی دنیا وآخرت تباہ کر دی، بوڑھے والدین سے ان کے سہارے چھین لیے اور انہیں معاشرے میں جینے کے قابل نہیں چھوڑا ۔سکیورٹی فورسز نے 30 نومبر 2025 کو پنجگور کے علاقے گوارگو میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بی ایل اے اور بی ایل ایف کے سرگرم کارکن اور سہولت کار ساجد احمد کو اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل کے دوران گرفتار کر لیا۔تحقیقات کے مطابق ساجد احمد جنوری 2025 میں فتنہ الہندوستان کی پراکسی بی وائی سی سے منسلک ہوا۔ وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے زریاب نیٹ ورک سے وابستہ رہا اور مبینہ طور پر طلبہ کو کالعدم تنظیموں کے لیے بھرتی کرنے میں کردار ادا کرتا رہا۔ اسے لندن سے بھارتی سپانسرڈ بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے خودکش حملے کے لیے گاڑی تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا، جبکہ مالی معاونت حوالہ ہنڈی کے ذریعے فراہم کی جاتی رہی۔ساجد احمد کے قبضے سے بیرونی ساخت کا جدید اسلحہ اور بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ اس مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی عدالت تربت کے سپیشل جج نے ملزم ساجد احمد ولد احمد کو جرم ثابت ہونے پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت چودہ (14) سال قید جبکہ بلوچستان آرمز ایکٹ کے تحت بھی ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سات (7) سال قید کی سزا سنائی اور جرمانہ بھی عائد کیا، مجموعی طور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں 21سال پانچ ماہ کی قید سنائی گئی۔ ساجد احمد کی گرفتاری نے ایک بار پھر بی وائی سی اور کالعدم تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔