Wed, September 16, 2026

دنیا کی آنکھوں میں دھول

دنیا کی آنکھوں میں دھول


چند روز قبل ایک کالم میں لکھا تھا امن معاہدہ اس بیل کی مانند ہے جو مڈھنے کے باوجود چڑھتی نظر نہیں آتی۔ وہی ہوا امن معاہدے پر دستخطوں کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی اسرائیل نے اس کے پرخچے اڑا دیئے۔ امریکہ سمیت کوئی اسے نہ روک سکا۔ اس سے چند روز قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نیتن یاہو کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اگر میں اسرائیل کا صدر یا وزیراعظم ہوتا تو اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کی بات مان کر اس کے کہنے پر چلتا پھر اس کے بعد ایک موقع پر امریکی صدر نے نسبتاً سخت زبان میں وارننگ کے انداز میں اپنے قریبی ساتھی اور ”دائیں ہاتھ“ اسرائیلی وزیراعظم کو سمجھایا کہ آج دنیا میں صرف امریکہ ہی ان کی پشت پر کھڑا ہے۔ اگر وہ ان کا ساتھ نہ دیتا تو اسرائیلی وزیراعظم کا اقتدار ختم ہو چکا ہوتا اور وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔ امریکی صدر اور نائب صدر کی طرف سے دو ٹوک پیغامات کے بعد دنیا سوچ رہی تھی کہ اب اسرائیل راہ راست پر آجائے گا اور حقیقی معنوں میں جنگ بندی ہو جائے گی لیکن ایسا نہ ہوا اسرائیل نے لبنان پر ایک بڑا حملہ کر کے امن معاہدے کی دھجیاں اڑا دیں اور کسی قسم کے تاسف کے اظہار کی بجائے ڈھٹائی پر مبنی موقف اختیار کرتے ہوئے لبنان پر یلغار جاری رکھنے کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ معاہدہ منظور نہیں۔
ثالثی کا عمل شروع ہونے سے قبل یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ایران پر حملہ صرف امریکہ نے نہیں کیا۔ اس میں اسرائیل برابر کا شریک تھا لہٰذا امن معاہدے کے حوالے سے اسرائیل کو اس میں شریک کیا جانا ضروری ہے لیکن مصالحت کار اور امن کیلئے سہولت کار اس نکتے کو نظرانداز کئے ہوئے ہیں لہٰذا دی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ امن معاہدے پر دستخط کے حوالے سے ایم او یو پر دھوم دھڑکے سے دستخط ہو گئے۔ اسرائیل نے اسے تسلیم کیا نہ اس پر دستخط کرنے کیلئے اسے کسی نے کہا لہٰذا اس نے وہی کیا جو اس کا ایجنڈا ہے جو اس کے ایجنڈے سے واقف نہیں وہ جان لیں کہ اسرائیل کا نصف صدی پرانا ایجنڈا آس پاس کے مسلمان ممالک کی زمین اور وسائل پر قبضہ کر کے اسرائیل نامی ریاست کے 
قیام کو عمل میں لانا ہے، جس زمین پر وہ قبضہ کر چکے ہیں۔ اسے وہ اپنے لئے ناکافی سمجھتے ہیں لہٰذا ریاستی حدود کو وسعت دینے کے لئے مختلف سوانگ رچائے جاتے رہے ہیں جن میں امریکہ اس کا سب سے بڑا مددگار ہے جس نے اسرائیل کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے وہاں جدید اسلحہ کے ڈھیر لگا دیئے تاکہ وہ جب چاہے جہاں چاہے کشت و خون شروع کر دے اور وہاں مقیم مسلمان کو وہاں سے باہر دھکیل دے حالیہ جنگ میں حملے سے قبل ہی اسرائیل کو معلوم تھا کہ وہ تنہا ایران کے مقابل کھڑا نہ ہو سکے گا لہٰذا اس کی فرمائش پر امریکہ اس جنگ میں آیا اور اس نے 2015ءکے ایران کے ساتھ معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرتے ہوئے اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا اور جنگ میں اسرائیل کے ساتھ ہر محاذ پر شامل ہو کر بین الاقوامی قوانین کو روندتا ہوا تباہی مچاتا رہا۔ یاد کیجئے اس جنگ کے دوران امریکی صدر نے کہا وہ دنیا کے کسی قانون کو نہیں مانتے بلکہ جو وہ کہتے ہیں وہی قانون ہے وہ اس کے مطابق چلتے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ فقرہ امریکی طرز حکومت اس کی غاصبانہ پالیسی اور مکروہ جمہوریت کا پول کھولنے کے لئے کافی ہے۔
دنیا کے مہذب ملک اور خصوصاً اسلامی ممالک کے سیاسی اقتصادی اور کاروباری دماغ ایک نکتے کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں جس پر تھوڑا سا بھی دماغ خرچ کر لیا جائے تو رچایا گیا تمام کھیل سمجھ میں آسکتا ہے۔ مغربی ایشیا کا ملک اسرائیل یہودی اکثریت کا ملک ہے، اس کی آبادی دس ملین رقبہ بائیس ہزار مربع کلومیٹر مجموعی ملکی پیداوار 540 ارب ڈالر دنیا بھر میں اہم صنعتوں اور اہم کاروبار کو بالواسطہ یا بلاواسطہ کنٹرول کرنے والا ملک جانا جانے والا ملک کسی بھی جنگ میں امریکی اسلحے پر انحصار کئے بغیر کوئی بھی جنگ چھیڑنے کی جرا¿ت و حوصلہ نہیں رکھتا پھر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے تابع ہے جو اسرائیل اور اسرائیلی وزیراعظم یا اسرائیلی حکومت کی مرضی کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھا سکتا بس یہی وہ سموک سکرین ہے جسے مٹا کر معاملے کو دیکھیں تو تمام ابہام ختم ہو جاتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کا رچایا گیا کھیل سمجھ میں آجاتا ہے۔ پچاس ریاستوں پر مشتمل تین سو چالیس ملین آبادی اور 9,867,000 مربع کلومیٹر رقبے اور تیس ٹریلین ڈالر سے زیادہ ملکی پیداوار رکھنے والا دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور فوجی قوت رکھنے والا ملک اسرائیل کے تابع کیسے ہو سکتا ہے۔ معاملہ اس کے الٹ ہے۔ اسرائیل امریکہ کا پالا ہوا وہ بدمعاش ہے جو اس کے اشاروں پر چلتا ہے۔ اسے ایسی جگہ گاڑا گیا ہے جہاں سے وہ پورے عالم اسلام پر نظر رکھنے کے علاوہ ان ممالک کے وسائل پر رکھتا ہے جہاں مستقبل کی ضرورت کا سامان نظر آتا ہے وہاں امریکہ اس بدمعاش کو اشارہ کرتا ہے۔ یہ اس ملک پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ پشت پر رہ کر امریکہ اس کی بھرپور مدد کرتا ہے۔ طریقہ واردات کیا ہے، پہلے اسرائیل اسلامی ممالک پر حملہ کرتا ہے، انہیں کمزور کرتا ہے پھر جب وسائل پر قبضے کا مرحلہ آتا ہے تو امریکہ براہ راست اٹیک کرتا ہے۔ کبھی وہ نیٹو فورسز کو کھینچ لاتا ہے، کبھی اپنے دیگر اتحادیوں کو جو نیٹو ممبر نہیں ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ میں بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا لیکن ہر بڑی شکست کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی نیّا ڈولتی ہوئی نظر آنے لگی تو اس نے جنگ سے نکلنے کے راستے ڈھونڈنے شروع کر دیئے۔ اب وہ آبنائے ہرمز کا بلاکیڈ ختم کرنے ایران کو مرضی کے مطابق گزرگاہ سے فیس لینے کے ساتھ ساتھ اسے بیلاسٹک میزائل رکھنے کے حق میں بیان دے رہا ہے۔ وہ اس کے منجمد اثاثے واپس کرنے کے لئے راہ ہموار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ دولت ان ہی کی تھی۔ اگر کوئی اسے لوٹ کر لے جائے تو یہ دولت اس کی تو نہیں ہو سکتی آج وہ سب کچھ ایران کو دے کر اسے خوش کر کے مڈٹرم الیکشن میں اترنا چاہتا ہے جہاں شکست پر پھیلائے کھڑی ہے لیکن وہ میدان خالی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں پس اس نے اپنے لے پالک بیٹے اور بدمعاش کو اشارہ کر رکھا ہے کہ میں تمہیں مذاکرات یا معاہدے پر دستخط کر کے پابند نہیں بناﺅں گا۔ تم اپنی شرانگیزیاں جاری رکھو۔ میں مڈٹرم الیکشن جیتنے کے بعد تم سے آن ملوں گا پھر ہم ایک مرتبہ پھر مسلمان ملکوں کے وسائل پر قبضے اور اسرائیل کی حدود بڑھانے کے لئے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ نیتن یاہو اس منصوبے کے مطابق چل رہا ہے۔ امریکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔

ٹیگز: