Wed, September 16, 2026

ایران کا آبدی ہرمز کو بند کرنے اور امریکہ کے خلاف سخت جوابی کارروائی کا اعلان

ایران کا آبدی ہرمز کو بند کرنے اور امریکہ کے خلاف سخت جوابی کارروائی کا اعلان

تہران : ایران نے امریکی حملوں کے بعد نہ صرف ان کی تصدیق کی ہے بلکہ آبدی ہرمز کو بند کرنے اور سخت جوابی کارروائی کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس حملے کا حساب دینا ہوگا، اور ایران اس کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہے۔ پاسداران انقلاب نے بیان دیا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اور اثاثے اپنے حملوں کا ہدف بنائے گا۔ ساتھ ہی، ایران نے دھمکی دی ہے کہ یورپ کی طرف کوئی بھی بحری بیڑہ نہیں پہنچ سکے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ جنگ میں اپنے نقصان کے لیے خود داخل ہوگیا ہے اور ایران کے نقصانات امریکہ سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ ایران نے اس بات کا عندیہ دیا کہ اگر امریکہ نے اپنی جارحیت بند نہ کی، تو اس کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے امریکی حملوں کو "سنگین" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے طویل المدتی اثرات ہوں گے اور یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے امریکی حملوں کو "وحشیانہ" قرار دیتے ہوئے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ اس معاملے میں ایجنسی نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔

ایران نے واضح کیا کہ حملے کے دوران جوہری تنصیبات میں کوئی تابکاری اخراج نہیں ہوا۔ فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری سائٹس پر کیے گئے حملوں میں کوئی جوہری مواد نقصان سے بچا رہا۔ ایران نے تصدیق کی کہ قم اور اردگرد کے علاقوں میں کوئی خطرہ نہیں تھا، اور جوہری تنصیبات کے ارد گرد تابکاری کا کوئی شواہد نہیں ملے۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور ایران کی جائز پوزیشن کی حمایت کرے۔ ایران نے یقین دہانی کرائی کہ امریکی حملوں کے باوجود اس کی جوہری صنعت کی ترقی کا عمل جاری رہے گا اور ایرانی ماہرین اس شعبے میں مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔

ٹیگز: