Wed, September 16, 2026

عالم کفرکاایک ہی علاج

عالم کفرکاایک ہی علاج

پشتوکامشہورمقولہ ہے(بداروراپہ بداورزبہ پہ کارراشی)برے بھائی برے دن ہی کام آجائو گے۔ اپنوں کوچھوڑکرغیروں کی محبت میں مست وپاگل بننے والے ایرانیوں سے کوئی پوچھے کہ برے دنوں میں کون کام آتے ہیں۔اپنے یا بیگانے۔؟ ویسے جوبات پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک برسوں سے ایران کوسمجھانہیں سکے امیدہے کہ اسرائیلی جارحیت کے بعداب وہ بات نہ صرف ایران کو سمجھ آئی ہوگی بلکہ ان کے دل ودماغ میں بھی بیٹھ گئی ہو گی۔ دن کی روشنی میں ایران پراسرائیلی جارحیت، غنڈہ گردی اوراوپرسے اسرائیل کی اس بدمعاشی پرایران کے بھارت جیسے قریبی دوستوں کی خاموشی اوراندراندرسے اسرائیل کے لئے تالیاں بجانے کے عمل نے نہ صرف ایرانی حکمرانوں بلکہ ایران کے ان غیرملکی ایجنٹوں کی آنکھیں بھی کھول دی ہوں گی جوانڈیاسمیت دیگراسلام ومسلم دشمن قوتوں سے دوستیاں بڑھا کرمسلم ممالک کوکمزورکرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ پراکسیزوارمیں ہم نے اپنے کئی بے گناہوں کے جنازے اٹھائے، ہماری کئی مائیں ممتاسے محروم ہوئیں۔ہمارے گھرمحفوظ رہے نہ ہی ہماری مسجدیں۔کلبھوشن جیسے انسانیت کے قاتلوں کو ایران میں سایہ نہ ملتاتوہمیں بھی اتنے زخم نہ لگتے۔ہم مودی کے یاروں اوردین کے 
غداروں سے ایران کو خبردار کرتے رہے لیکن ہماری آوازپرتوجہ نہیں دی گئی۔مودی کے انہی یاروں اوردین کے غداروں نے پھرایران کے ساتھ وہی کیا جوایران نے کبھی سوچابھی نہ تھا۔مودی کے یاراوراسلام کے غدارایران کوخالہ جی کاگھرنہ بناتے توکیاایران کے اتنے  اعلیٰ فوجی افسر  اور  ٹاپ  کے سائنسدان اس طرح لمحوں میں دشمن کانشانہ بنتے۔؟ محض چند گھنٹوں اور جھٹکوں میں ٹاپ سائنسدانوں اور فوجی افسروں کانشانہ بننایہ کوئی عام اورمعمولی بات نہیں۔ایسے واقعات اور معاملات وہاں ہوتے ہیں جہاں غدار اندر چھپے بیٹھے ہوں۔ ایران کواتنانقصان اسرائیل نے نہیں پہنچایا ہو گا جتنا نقصان اسے آستین میں چھپے ان غداروں اور غیروں کے سہولت کاروں نے پہنچایا۔ وہ بھارت جس پرایران تکیہ کئے بیٹھا تھا وقت اورمشکل آنے پراس نے ایسی آنکھیں پھیر دیں کہ جیسے انڈیاکاایران کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہ ہو۔مودی کوتوایران پراسرائیلی جارحیت اوربربریت کی مذمت کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوئی۔ آج ایران کے ساتھ پاکستان سمیت وہی برے بھائی کھڑے ہیں جن پرایران نے غیروں اوربیگانوں کوترجیح دی۔ آج اسلامی ممالک کے مسلمان ہاتھ اٹھا کر ایران کی سلامتی، بقا اور حفاظت کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ پاکستان اورسعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک ایران کی حمایت اوراسرائیلی جارحیت کی مذمت میں کھل کرسامنے آگئے ہیں۔سعودی عرب نے ایرانی حجاج کوشاہی مہمانوںکادرجہ دے دیا ہے۔ ہرمسلمان اس جنگ میں ایران کی کامیابی اور اسرائیل کی تباہی کے لئے دعاگوہے۔عرصہ دراز سے فلسطین میں بے گناہ اورنہتے مسلمانوں کاخون چوسنے والے اسرائیل نے ایران پرحملہ کرکے امت مسلمہ کے اتحادکی راہ پھرہموارکردی ہے۔یہ اب ایران پرہے کہ وہ برے نہیں بڑے بھائیوں کو سینے سے لگا کر اتحاد امت کے لئے کردار ادا کرتا ہے یاپھرروایت سے مجبورہوکرایک بار پھر بھارت جیسے غیروں اوربیگانوں کواپنوں پرترجیح دیتا ہے۔ ویسے ایران کی بقاء اورفلاح اسی میں ہے کہ یہ اپنوں اور غیروں میں اب ایک واضح لکیرکھینچ کراسلامی ممالک اورمسلمانوں کوغیروں کے اشاروں پرکمزورکرنے سے توبہ کریں کیونکہ اللہ نہ کرے پاکستان سمیت دیگراسلامی ممالک اگرکمزورہوگئے توپھرایران کااپناوجودبھی خطرے میں رہے گا کیونکہ یہودہوںیاہنودان کی توازل سے یہ کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح نہ صرف ایران اورپاکستان بلکہ ہراسلامی ملک کو ٹارگٹ کرکے دنیاکے نقشے سے ہی مٹادیاجائے۔ اس مقصدکے لئے انہوں نے عراق، شام، لیبیا، افغانستان اور فلسطین میں کیاکچھ نہیں کیا۔اس لئے ایران سمیت تمام اسلامی ممالک اورمسلمانوں کوآپس کے چھوٹے موٹے اختلافات بھلا کر یہود و ہنود کے خلاف متحد ہونا چاہئے تاکہ کل کوایران کی طرح کوئی اوراسلامی ملک عالم کفرکانشانہ نہ بنیں۔ 

ٹیگز: