برکینوناسو براعظم افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے، آبادی دو کروڑ چاروں طرف خشکی میں گھرا ہوا ایک لینڈ لاک ملک ہے۔ عموماً افریقی ممالک بھوک، افلاس، غربت، جہالت کا شکار ہیں اگرچہ ان ممالک میں بے شمار معدنیات موجود ہیں مگر ان معدنیات پر غیر ملکیوں کا کنٹرول ہے۔ بالخصوص سونے، پٹرول کے ذخائر یورپی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ اگر بحیثیت مجموعی غور کریں تو تیسری دنیا کے اکثر و بیشتر ممالک انہی حالات سے دوچار ہیں، قدرتی وسائل سے مالامال ممالک کے عوام بھی ثمرات سے محروم ہیں، ایسے ممالک کرپٹ اشرافیہ، مافیاز کے زیر تسلط زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں، انہیں ایسے ایسے قوانین کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے جس کا کسی بھی مہذب ملک میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔
آج سے 34برس قبل برکینوفاسو میں ایک بچہ پیدا ہوا، بچے کا باپ ایک غریب مزدور تھا جو کہ ایک سونے کی کان میں مزدوری کیا کرتا تھا، کان میں اچانک دھماکا ہوا اور وہ مزدور جاں بحق ہو گیا، متوفی کا بیٹا جو ابھی چند سال کا تھا، اس کے سامنے اس کے باپ نے جس کرب اور اذیب میں تڑپ، تڑپ کر جان دی۔ اس نے اس بچے کے ذہن میں گہرے اثرات مرتب کیے۔ بچپن کی یتیمی نے اس کی سوچ و فکر کو وہ جلا بخشی جس نے آنے والا سارا منظرنامہ ہی تبدیل کر دیا۔ وہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھتا گیا، اس کے ذہن پر اپنے ملک کی غربت، کارکنوں کے کام کے حالات اور قابض مغربی ممالک کی کمپنیوں کا بوجھ تھا۔ اس نے ملٹری جوائن کرنے کا فیصلہ کیا، ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے کیپٹن کے رینک تک پہنچ گیا اگرچہ رینک کے لحاظ سے یہ کوئی بہت بڑا عہدہ نہیں تھا مگر جب عزم پختہ ہو تو انسان تلوار کے وار کو بھی اپنے ہاتھ سے روک لیتا ہے۔
نوجوان کیپٹن نے اپنے قابل اعتماد ساتھیوں کے ساتھ ہم مشورہ ہو کر حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ قبضہ کسی ذاتی خواہش یا ہوس اقتدار کا نتیجہ ہرگز ہرگز نہ تھا بلکہ ایک اعلیٰ ترین نصب العین کیلئے تھا۔ اس نے ملک سے کرپشن، خیانت، بددیانتی، غربت، جہالت اور ان کی سرپرستی کرنے والے ’’مافیاز‘‘ کی سرکوبی کا فیصلہ کیا،
تمام بڑی بڑی کمپنیوں کو نیشنلائز کر لیا۔ سونے اور پٹرول کی معدنیات کو اپنے کنٹرول میں لے کر اپنے عوام کو غربت، جہالت کی دلدل سے باہر نکالا۔ زرعی شعبے میں اصلاحات متعارف کرائیں۔ ٹریکٹر، زرعی آلات کاشتکاروں میں تقسیم کیے گئے تاکہ ان کا معیار زندگی بلند ہو۔ عوام الناس کیلئے موبائل ہسپتال قائم کیے جو بڑی بڑی گاڑیوں پر مشتمل اور عوام کو ان کے گھروں میں جا کر صحت کی سہولیات فراہم کرتے، صرف تین سال کی قلیل مدت میں اس نے اپنے ملک کی کایا پلٹ دی، صرف یہی نہیں بیرونی قرضوں میں جکڑے ہوئے ملک کا 5 ارب ڈالر قرضہ واپس کر کے اپنے ملک کو آزادی دی تاکہ صحت مند ماحول میں معیشت برق رفتار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
اللہ رب العزت نے اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا۔ وہ بڑی مدلل، پُرمغز، فی البدیہ گفتگو کرتا ہے، طبیعت انتہائی سادہ، عجز و انکساری کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ برکینو فاسو میں اس نے غیر ملکی ایئرلائن کا ٹکٹ خریدا، عموماً اس فلائٹ میں بڑے امیر لوگ سفر کرتے ہیں، جہاز میں سوار ہونے کیلئے مسافر اپنا ٹکٹ دکھا کر داخل ہو رہے تھے کہ ایک سادہ لباس بظاہر غریب شخص نے اپنا ٹکٹ دکھایا، ایئرہوسٹس نے ٹکٹ دیکھا تو اس نے گمان کیا کہ ٹکٹ جعلی ہے کیونکہ پیش کرنے والے شخص کا لباس و حلیہ ایسا نہ تھا۔ اس نے مسافر کو سوار ہونے سے روک دیا۔ اس نے کہا میرے پاس ٹکٹ ہے تو ایئر ہوسٹس نے کہا کہ تم سوار نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ صرف ایلیٹ لوگوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس پر کافی تکرار ہوئی، مسافر بڑے ادب و احترام اور سادگی، صبر و تحمل سے بار بار کہتا کہ جب میرے پاس ٹکٹ موجود ہے تو پھر مجھے کیوں سوار نہیں ہونے دیا جا رہا تاہم ٹکٹ کی تصدیق کرائی جو کہ درست ثابت ہوئی۔ بادل نخواستہ اسے سوار کر دیا گیا۔ دوران سفر ایئر ہوسٹس کا رویہ انتہائی تضحیک آمیز تھا۔ اس نے تمام مسافروں کو اچھے طریقے سے سرو (Serve) کیا مگر جب ’’ابراہیم ترورے‘‘ کے پاس آئی تو بدتمیزی اور غصے سے ڈیل کرتی۔ جہاز میں سوار ایک مسافر نے محسوس کیا تو اس نے ایئر ہوسٹس کو بلایا اور کہا کہ جب مسافر نے ٹکٹ خریدا ہوا ہے تو تم اس کے ساتھ کیوں بدتمیزی کرتی ہو۔ محض اس لیے کہ اس کا لباس عام سادہ ہے اور وہ کوئی امیر کبیر شخص نہ ہے۔
کہانی اس وقت بہت دلچسپ ہوئی جب جہاز نے لینڈ کیا تو نیچے اس مسافر کیلئے ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا۔ پروٹوکول کیلئے باوردی افسران و دیگر موجود تھے۔ سب لوگ حیران تھے کہ کون شخص ہے جس کے استقبال کے لیے پروٹوکول موجود ہے۔ ابراہیم ترورے جہاز سے نیچے اترے تو سب لوگ معہ ایئر ہوسٹس، پائلٹ کو معلوم ہوا کہ جس شخص کو وہ جہاز میں سوار نہیں ہونے دے رہے تھے، وہ ملک کا صدر ہے۔ پروٹوکول عملے کو جب جہاز میں ہونے والے واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے ایئر ہوسٹس اور پائلٹ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا مگر ابراہیم ترورے کی دانشمندی کا ملاحظہ کریں اس نے ناصرف فوراً منع کر دیا بلکہ کہا، کسی ایک فرد کو سزا دینے سے نہیں، پوری قوم کی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، غلام قوموں کا رویہ ایسے ہی ہوتا ہے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنے ہاں دورہ کی دعوت دی، اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔ صدر ٹرمپ جس کو ملنے کیلئے بڑے بڑے حکمران لائن میں لگے ہوتے ہیں، اسے اپنی توہین محسوس ہوئی۔ اس نے کہا میں اپنی فوجوں کو حکم دوں گا کہ وہ تمہیں گرفتار کر کے لائیں۔ اس نے پھر انکار کر دیا۔ روس کے صدر نے اپنے ہاں دورے کی دعوت دی تو اس نے کہا کہ وہ ایک عام پرواز سے آئیں گے، روسی صدر نے کہا کہ نہیں وہ اپنا ذاتی جہاز بھجوائیں گے۔ ماسکو میں فقید المثال استقبال ہوا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ سعودی عرب نے پیشکش کی کہ ہم آپ کو 300 مساجد کی تعمیر کیلئے فنڈ مہیا کرنا چاہتے ہیں تو اس نے کہا ہماری ضرورت کے مطابق مساجد موجود ہیں۔ آپ اگر مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سکول بنوا دیں تاکہ ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اس ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ صرف چند سال میں اس ملک کو جو غربت، جہالت، افلاس کا شکار تھا، جہاں کرپٹ اشرافیہ نے پورے سسٹم کو ہائی جیک کیا ہوا تھا۔ ایسی انقلابی تبدیلیاں کیں کہ دنیا حیران و ششدر رہ گئی۔
تاریخ کا یہ سبق ہے کہ اگر لیڈر، سچا، کھرا، ایماندار، دیانتدار، سادہ مزاج، قابل ترین ہو تو وہ پھر تین سال میں بھی قوم کا مقدر بدل سکتا ہے۔ ان تمام خوبیوں کے حامل شخص کا نام ابراہیم ’’ترورے‘‘ ہے۔