Wed, September 16, 2026

الوداعی رسومات کا آغاز، انجام کی دستک

الوداعی رسومات کا آغاز، انجام کی دستک

نوازشریف ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ان کے زیر سایہ میاں شہبازشریف کو بطور وزیراعلیٰ، اب تک کے بہترین وزرا اعلیٰ گنے جاتے ہیں، کو جب پنجاب دیا گیا تو وفاق اپنا تھا۔ ملک میں دہشت گردی کے بعد ڈکیتی، قتل اور راہزنی جیسے جرائم عام تھے۔ جرائم میں سندھ کی حالت ایم کیو ایم کی بدولت بہت بُری تھی پھر وڈیرہ شاہی اور ڈاکو راج بھی لہٰذا انتظامی اعتبار سے شہبازشریف کی حکومت بہتر تھی دوسرا سندھ میں پیپلز پارٹی تشہیری مہم نہ کرتی اور اپنی اعلیٰ کارکردگی کو عام نہ کر سکی۔ اب میاں شہبازشریف وزیراعظم ہیں، ابتری کے دور میں وزیراعلیٰ پنجاب تھے جس کی وجہ سے ڈی ایم جی گروپ اور پولیس کے ذریعے صوبہ چلایا، وفاق میں بڑے بھائی تھے لہٰذا فکر کاہے کا نہ تھا۔ ان میاں شہبازشریف ڈی ایم جی گروپ اور پولیس کو ہی کارآمد اور کامیاب ہتھیار سمجھتے ہیں لہٰذا ہر محکمہ میں کھپائے چلے جا رہے ہیں۔ جس کی مثال ملک کے مالی معاملات اور ریڑھ کی ہڈی ادارہ ایف بی آر ہے۔ اس میں کلیدی آسامیاں جیسے چیئرمین ڈی ایم جی گروپ سے ہے جبکہ سول سروس کے لیے مہارت اور دیگر خوبیاں درکار ہیں۔
ایف بی آر میں رائج نئی پالیسیوں اور تجربوں کا انجام دستک دے چکا۔ چیئرمین ایف بی آر رشید محمود لنگڑیال کے دور کو پاکستان کے ٹیکس نظام کے لیے ایک کڑا امتحان کہا جا سکتا ہے۔ ان کے دور میں کئی اصلاحاتی دعوے کیے گئے، ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا، اور محصولات میں اضافے کے لیے نئی حکمتِ عملیاں پیش کی گئیں، لیکن ان سب کے باوجود محصولات کا ہدف پورا نہ ہو سکا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام تک ایف بی آر کو تقریباً 3659 ارب جبکہ 2024-25 کے ابتدائی دس ماہ میں ہی محصولات کا شارٹ فال 815 ارب روپے تک جا پہنچا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحات صرف کاغذی تھیں، ان پر عملدرآمد کمزور تھا۔ چیئرمین لنگڑیال کی زیر قیادت فیس لیس کسٹمز نظام کو نئے سرے سے متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد کلیئرنس کے عمل کو شفاف، خودکار اور غیر جانب دار بنانا تھا لیکن عملی سطح پر یہ نظام کئی تکنیکی و عملی خامیوں کا شکار نکلا۔ درآمدات کی غلط تشخیص، کم قیمت پر اشیا ظاہر کرنا اور کسٹمز کیٹیگریز کی دانستہ غلط درجہ بندی نے حکومت کو کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں تقریباً 1,20,01,500 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ نظام کرپشن ختم کرنے کی نیت سے متعارف کرایا گیا تھا، مگر نتائج برعکس نکلے اور تاجر برادری کے اندر عدم اعتماد نے جنم لیا۔ ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے چند اقدامات کیے گئے، فائلرز کی تعداد بڑھی، کچھ نئے شعبے نیٹ میں آئے، لیکن یہ اقدامات ناپائیدار نکلے۔ سب سے بڑا مسئلہ وہی رہا جس کا عشروں سے سامنا ہے: پاکستان کا امیر ترین طبقہ، جو ملک کے 1 فیصد سے بھی کم افراد پر مشتمل ہے، ابھی تک باقاعدہ ٹیکس نہیں دیتا۔ چیئرمین لنگڑیال کی ٹیم اس طبقے کی نشاندہی تو کر سکی، مگر ان سے محصولات حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہی۔ اسی طرح، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب جو آئی ایم ایف کی توقعات کے مطابق کم از کم 14 فیصد ہونا چاہیے تھا، صرف 10.3 فیصد رہا۔ یہ شرح نہ صرف خطے کے دیگر ممالک سے کم بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ معیشت کا بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی اور ٹیکس سے باہر ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور خودکار نظام کی باتیں اپنی جگہ، لیکن ان پر عملدرآمد کی کمی، افسران کی تربیت کا فقدان اور سسٹم کی تکنیکی خامیوں نے ان دعووں کو بے معنی کر دیا۔ WeBOC اور PRAL جیسے پلیٹ فارمز اکثر سست روی، ڈائون اور تکنیکی خرابیوں کا شکار رہتے ہیں۔ تاجر برادری کے بارہا مطالبے اور احتجاجی بیانات کے باوجود ایف بی آر شکایات کے ازالے کا کوئی مؤثر نظام فراہم نہ کر سکا۔ ان تمام عوامل کے باوجود چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا، لیکن نیت کے ساتھ ساتھ عمل، اہلیت اور قیادت کا وژن بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس قیادت نے اصلاحات تو متعارف کرائیں، مگر ان کی بنیاد کمزور، نفاذ غیر مربوط، اور نتیجہ مایوس کن نکلا۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے ایف بی آر کو اپنی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ افسران کی تربیت، ماہرین کی تعیناتی اور ایک شفاف احتسابی نظام ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ساتھ ساتھ انسانی نگرانی اور احتیاطی چیکس بھی ضروری ہیں تاکہ جعلی امپورٹس اور ٹیکس چوری پر قابو پایا جا سکے۔ چیئرمین لنگڑیال اور ان کی ٹیم اصلاحات کے عزم کے باوجود قومی محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ ناکامی صرف مالیاتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی اور حکمتِ عملی کی سطح پر بھی ہے۔ 
یاد رہے بار بار دہرا چکا کہ روس کے ٹوٹنے کی بنیادی وجہ اہم اسامیوں پر نااہل یا غیر متعلقہ، غیر تجربہ کار لوگوں کو تعینات کرنا جبکہ سنگاپور کی ترقی میرٹ، ملٹی کلچرل ازم اور موٹیویشن پر تھی۔ مگر ہمارے ہاں ایک کسٹم آفیسر جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے اپریز منٹ کو اپاہج کرتا ہے، ایگزامینیشن کو اپاہج کرتا ہے۔ جس کے زیرسایہ 2017 سے 2019 تک لاہور کے سڑک چھاپ ڈالروں میں ارب پتی ہو گئے۔ اب اس کو وفاق میں ذمہ داری ملی، کراچی وغیرہ میں فیس لیس سسٹم کے ذریعے وہ تباہی مچائی گئی ہے، الاماں۔
آئین و قانون سے وفاداری، صلاحیت،  ذمہ داری، دیانت داری، جوابدہی (Accountability)، شفافیت (Transparency)، غیر جانبداری، نظم و ضبط، حق کہنے کی جرأت اور قومی تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا و بہتر بناتے رہنا ایک سرکاری آفیسر کی بنیادی خصوصیات ہونی چاہئیں۔
سب سے پہلے ٹی وائٹنر کی دودھ کے نام پر کلیئرنس بند کرائیں۔ نئی متعارف کرائی جانے والی سکیموں FFS، EOU، DTRE کا آڈٹ کرائیں جو گھپلے نکلیں گے وہ دنیا کو حیران کر دیں گے۔ اگر چیئرمین اور ان کی ٹیم اس کا تدارک نہ کر سکے تو سمجھیں کہ الوداعی رسومات شروع ہو چکیں اور انجام دستک دے چکا۔ محض کسی احسان مندی کا بدلہ چکانے کے لیے پھسڈی، ضدی اور نا اہل آفیسر تعینات کرنا ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہے جو وزیراعظم کے بعد چیئرمین بھی کر رہے ہیں۔

ٹیگز: