Wed, September 16, 2026

افغانستان کی کانیں اور خطے کا عدم استحکام

افغانستان کی کانیں اور خطے کا عدم استحکام

افغانستان میں معدنی وسائل کی سیاست کو اگر محض داخلی جبر یا طالبان کی معاشی حکمتِ عملی تک محدود سمجھا جائے تو تصویر ادھوری رہتی ہے۔ اگست 2021 کے بعد کان کنی کا شعبہ جس تیزی سے عسکری کنٹرولڈ ریونیو ماڈل میں بدل گیا، اس نے نہ صرف افغان سماج کو تقسیم کیا بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نیا سلامتی بحران بھی پیدا کر دیا۔ سونا، جو ریاستوں کے لیے ترقی اور استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے، افغانستان میں ایک غیر ریاستی معیشت کا ستون بن چکا ہے جو جبر، عدم شفافیت اور تشدد پر قائم ہے۔
بدخشاں اور تخار میں 2023 اور 2024 کے دوران پیش آنے والے واقعات اس تبدیلی کی واضح مثال ہیں۔ تخار کے چاہ آب اور بدخشاں کے آویزہئی پنج مر میں مقامی کان کنوں کو طاقت کے ذریعے بے دخل کیا گیا، جس کے بعد احتجاج پھوٹ پڑے۔ اقوام متحدہ کے فیلڈ مشنز اور آزاد ذرائع کے مطابق مظاہروں پر فائرنگ ہوئی، شہری ہلاکتیں اور املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ سب اس بیانیے کو کمزور کرتے ہیں کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں نظم و نسق یا معاشی استحکام قائم ہو گیا ہے۔ کان کنی کسی عوامی پالیسی کے تحت نہیں بلکہ طاقت کے توازن کے مطابق چل رہی ہے۔
اس نظام کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ان کرداروں پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو اس کے مرکز میں ہیں۔ بشیر حاجی نورزی، جو ماضی میں عالمی منشیات سمگلنگ نیٹ ورکس سے وابستہ رہا اور اکتوبر 2022 میں قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا ہوا، اب طالبان کی معاشی سرگرمیوں میں اثر و رسوخ رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اس کی مہارت غیر قانونی تجارت، لاجسٹکس اور نیٹ ورک مینجمنٹ میں استعمال ہو رہی ہے، اور یہی مہارت اب معدنی وسائل کی غیر شفاف تجارت میں منتقل ہو چکی ہے۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان میں غیر قانونی معیشتیں ختم نہیں ہوئیں بلکہ صرف اپنی جنس بدل گئی ہیں۔
مالی اعتبار سے طالبان کے لیے کان کنی ایک مرکزی ستون بن چکی ہے۔ SIGAR اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق شمالی افغانستان میں سونے کی کان کنی سے سالانہ سیکڑوں ملین ڈالر کی آمدن ہوتی ہے، جس کا بڑا حصہ رسمی بجٹ یا عوامی خدمات کے بجائے طالبان کے کمانڈ سٹرکچر، سکیورٹی نیٹ ورک اور مسلح گروہوں تک پہنچتا ہے۔ یہی مالی بہاو¿ طالبان کی عسکری گرفت کو مضبوط کرتا اور داخلی مزاحمت کچلنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔
یہ سرمایہ افغانستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی 2023–24 کی رپورٹس کے مطابق طالبان کی معدنی آمدن القاعدہ اور سرحد پار تحریک طالبان پاکستان کو مالی سہارا فراہم کرتی ہے۔ اس تناظر میں افغان کان کنی محض ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک علاقائی سلامتی کا مسئلہ بن جاتی ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بھارت کا کردار محض غیر حاضر نہیں بلکہ سوال طلب ہے۔ نئی دہلی خود کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اصولی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام اس معدنی معیشت پر خاموشی ایک واضح تضاد پیدا کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس واضح کر چکی ہیں کہ افغان سونا دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی شہ رگ بنتا جا رہا ہے، اس کے باوجود بھارت کی سفارتی خاموشی محض اتفاق نہیں بلکہ دانستہ انتخاب لگتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف فریم ورک دانستہ چشم پوشی کو بھی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری کے دائرے میں رکھتا ہے۔ ایسے میں بھارت کا یہ رویہ اصولی کم اور تزویراتی زیادہ نظر آتا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کو عالمی فورمز پر مسلسل اجاگر کرتا رہا ہے۔
پاکستان کا معاملہ اس تناظر میں تقابلی طور پر مختلف ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان نے انسداد دہشت گردی اور مالی نگرانی کے فریم ورک کو مضبوط کیا، FATF کے تقاضوں کے تحت قانون سازی اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا، اور غیر ریاستی عناصر کی فنڈنگ کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان اقدامات کی بین الاقوامی سطح پر تصدیق بھی موجود ہے۔ اس کے برعکس افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام کان کنی ایک مکمل غیر ریاستی اور غیر جوابدہ ماڈل ہے، جہاں شفافیت ہے نہ آڈٹ اور نہ ہی عالمی مالیاتی قوانین کی پاسداری۔ دونوں ماڈلز کا تقابل واضح کرتا ہے کہ مسئلہ محض بیانیے یا الزامات کا نہیں بلکہ ریاستی جوابدہی اور غیر ریاستی طاقت کے درمیان بنیادی فرق کا ہے۔
ماحولیاتی اور انسانی صحت کے اثرات اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر اداروں کے مطابق غیر منظم کان کنی میں مرکری اور سائینائیڈ کے استعمال سے شمالی افغانستان کے دریا آلودہ ہو رہے ہیں۔ بھاری دھاتیں اعصابی امراض، گردوں کے مسائل اور پیدائشی پیچیدگیوں کا سبب بن رہی ہیں۔ کانوں میں کام کرنے والے مزدور بغیر حفاظتی آلات کے تنگ سرنگوں میں کام کرتے ہیں، جہاں سرنگوں کے گرنے سے ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام کوئی مو¿ثر ریگولیٹری یا حفاظتی فریم ورک موجود نہیں۔
بدخشاں اور تخار میں 2024 کے احتجاج محض معاشی مطالبات نہیں بلکہ وسیع تر جواز کے بحران کی علامت ہیں۔ مقامی عمائدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ بغیر قانونی مینڈیٹ اور عوامی رضامندی کے قومی وسائل پر قبضے کا حق کس کو حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے اثاثے، جو اگست 2021 سے منجمد ہیں، تاحال بحال نہیں ہو سکے اور عالمی برادری ایسے نظام کے ساتھ محتاط فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہے جو قدرتی وسائل کو شفاف ترقی کے بجائے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرے۔
افغانستان کی معدنی دولت کا بحران اس سوال کو تیز کرتا ہے کہ آیا خطے کی طاقتیں دہشت گردی کے خلاف اصولی جنگ چاہتی ہیں یا صرف بیانیاتی برتری۔ طالبان کے زیرِ انتظام کان کنی، جو 2021 کے بعد دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی ریڑھ کی ہڈی بنتی جا رہی ہے، اس تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔ اگر خطے میں استحکام واقعی ہدف ہے تو افغان سونے پر خاموشی کوئی غیر جانبدار پالیسی نہیں بلکہ ایک سیاسی انتخاب ہے، اور اس کے نتائج پورے خطے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

ٹیگز: