الٹی گنتی شروع ، ایران کے پاس وقت بہت کم ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک محدود اور متعین فوجی حملے کا اعلان کر چکے ہیں ، اس وقت امریکی نظریںصرف اپنے اہداف کی تکمیل پر مرکوز۔موساداور سی آئی اے کے نیٹ ورک فعال ہی نہیں ، بے حد فعال ہیں۔ ایران کو وہ اپنا سب سے بڑا اور کھلا دشمن سمجھتے ہیں۔ ایرانی قیادت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ اگر مذاکرات یا رعایتیں فوری طور پر عمل میں نہ آئیں تو امریکی فوجی آپشن فعال ہو جائے گا، اس کے نتائج نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ امریکہ کی یہ حکمت عملی صرف ایران کے جوہری پروگرام یا میزائل نظام تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد خطے میں ایران کی پراکسیز اور علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا بھی ہے تاکہ اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں زیادہ مستحکم اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔
ایران کے پاس دو انتخاب موجود ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ سفارتی مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، رعایتیں دے اور اپنے جوہری پروگرام کی فائل کھول کر امریکی خدشات دور کرے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو اپنے بیانیے میں عوام اور پیروکاروں کو قائل کرنا ہوگا کہ یہ رعایتیں اسلامی جمہوریہ کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے اس نظام کے بانی امام خمینی نے عراق کے ساتھ جنگ بندی کے دوران اپنے اصولی موقف میں کچھ لچک دکھائی تھی۔ اس ضمن میں ایرانی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ باور کرائے کہ یہ قربانی عارضی ہے اور اس سے نہ صرف ریلیف حاصل ہوگا بلکہ معاشی اور سیاسی استحکام کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔
دوسرا آپشن ایران کے لیے یہ ہے کہ وہ سخت مزاحمت جاری رکھے اور حزب اللہ اور دیگر پراکسیز کی مدد سے امریکی اور اسرائیلی دبائو کو نظرانداز کرے۔ اس صورت میں اسرائیل کے ہاتھوں لبنان میں حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان بڑھ جائے گا، جبکہ ایران کی پراکسیز اپنی تربیت اور منصوبہ بندی کے باوجود وقتی طور پر ناکام ہو سکتی ہیں۔ اس آپشن کا اثر ایران کی داخلی ساکھ اور عوامی حمایت پر بھی پڑے گا اور امریکی فوجی کارروائی کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کی حکمت عملی میں ایک طرف سفارتی دبائو اور مذاکرات کا عمل جاری ہے، تو دوسری طرف امریکی فوجی قوت کی تعیناتی اور استعداد کاری میں کوئی کمی نہیں۔
سابق امریکی سفیر مائیک ہکابی کے تازہ بیانات نے اس حکمت عملی کی عکاسی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل خطے میں مکمل کنٹرول حاصل کر لے تو واشنگٹن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے۔ ان کے مطابق دریائے نیل سے نہر فرات تک کے علاقے پر اسرائیل کا کنٹرول شدت پسند نظریے’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے مطابق جائز اور مناسب سمجھا جائے گا۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط ہم آہنگی میں ہیں اور ایران کے لیے سیاسی، سفارتی اور عسکری دبائو ایک متوازی عمل کے طور پر جاری رہے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات میں بنیادی توجہ صرف جوہری پروگرام پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق جوہری معاہدہ ہونے کے بعد ایران کو اپنے داخلی معاملات کے حوالے سے خود فیصلہ کرنے کی آزادی دی جائے، تاکہ ایرانی عوام اور حکومت کے درمیان تعلقات مضبوط رہیں اور انہیں امریکی دبائو کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنے کا موقع ملے۔ اس کے نتیجے میں ایرانی قیادت یہ تاثر دے سکے گی کہ امریکہ ایرانی رجیم کی تبدیلی نہیں چاہتا بلکہ صرف جوہری تحفظات دور کرنا اس کا مقصد ہے۔تاہم صدر ٹرمپ کسی بھی طور پر اوباما کی پالیسی کی مانند ایرانی جال میں پھنسنا نہیں چاہتے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ کو واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام اور پراکسیز کو روکنا اسرائیل کی سلامتی کے لیے لازمی ہے، اگر اسرائیلی فضائی کارروائی کی جائے تو زمین پر فوجی تعیناتی کی ضرورت نہیں ہوگی۔امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ حکمت عملی میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایران کی پراکسیز اور عسکری موجودگی کو محدود کرنا مرکزی نقطہ ہے۔ لبنان میں حزب اللہ کو دبائو میں لانا، یمن میں حوثیوں کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر قابو پانا اس حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تیل اور معیشت کے اعداد و شمار کو بھی امریکی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا گیا ہے، تاکہ چین اور دیگر ممالک کی اقتصادی توسیع کو روکا جا سکے۔ایران کے لیے اب یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ وہ رعایتوں اور محدود قربانی کے ذریعے اپنے رجیم اور عوامی حمایت کو بچائے یا سخت مزاحمت کے نتیجے میں فوجی اور اقتصادی نقصان کو قبول کرے۔عراق میں امریکی انتظامیہ نے سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے نور المالکی کی واپسی روکنے کی کوشش کی ہے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی پیدا نہ ہو اور وسیع تر امریکی مقاصد حاصل ہو سکیں۔ یمن میں بھی امریکی فوجی اور سفارتی کوششوں کا امتزاج جاری ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں خطرناک صورتحال ایران پر دبائو بڑھا رہی ہے۔ ایران کا حماس پر کنٹرول بھی کمزور ہو چکا ہے، غزہ میں ایرانی اثرات محدود ہو گئے ہیں۔یہ تمام عناصر ایک ایسی راہیں پیدا کر رہے ہیں، جہاں ایران کو یا تو رعایتیں دینا ہوں گی اور اپنی پراکسیز اور جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرنا ہوگا یا پھر فوجی حملے اور ممکنہ تباہی کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رعایتیں ایران کے لیے رجیم کے تسلسل اور بچائو کی صورت پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ مزاحمت خود انہدامی کے خطرات کو بڑھا دے گی۔ ایران کے لیے اب سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا وقت ہے، کیونکہ تاخیر یا مذاکرات میں سست روی کا نتیجہ فوری فوجی کارروائی کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔مکرر عرض ہے :الٹی گنتی شروع ، ایران کے پاس وقت بہت کم ہے۔