Wed, September 16, 2026

بانڈی بیچ فائرنگ: حملے سے پہلے بم حملے کی کوشش ناکام رہی، پولیس رپورٹ میں انکشاف

بانڈی بیچ فائرنگ: حملے سے پہلے بم حملے کی کوشش ناکام رہی، پولیس رپورٹ میں انکشاف

سڈنی:آسٹریلیا کی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ بانڈی بیچ پارک میں ہونے والی فائرنگ سے قبل حملہ آوروں نے ہجوم پر گھریلو ساختہ بم پھینکنے کی کوشش کی تھی، تاہم یہ بم دھماکے میں ناکام رہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق 14 دسمبر کو ہونے والے اس واقعے میں 15 افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی اور اسلحہ قوانین پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مارا جانے والا مبینہ حملہ آور ساجد اکرم تھا، جس کے قبضے سے متعدد ہتھیار برآمد ہوئے۔ اس کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم پر قتل اور دہشت گردی سمیت 59 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس فیکٹ شیٹ کے مطابق دونوں ملزمان نے حملے کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل کی تھی اور واردات سے دو روز قبل بانڈی بیچ پارک کی ریکی بھی کی گئی۔ شواہد کے مطابق دونوں افراد نیو ساؤتھ ویلز کے ایک دور افتادہ علاقے میں اسلحے کی مشق کرتے رہے۔

پولیس نے بتایا کہ اکتوبر میں بنائی گئی ایک ویڈیو بھی حاصل کی گئی ہے جس میں دونوں افراد ایک شدت پسند تنظیم کے جھنڈے کے سامنے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ حملے کے روز سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں گاڑی میں مشکوک اشیاء رکھتے دیکھا گیا۔

عدالتی بیان کے مطابق فائرنگ سے قبل پائپ بم اور دیگر دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد ہجوم کی جانب پھینکا گیا، تاہم کوئی بم پھٹ نہ سکا۔ بعد ازاں ایک کرائے کے مکان سے بم بنانے کا سامان اور تھری ڈی پرنٹ شدہ اسلحے کے پرزے بھی برآمد کیے گئے۔

واقعے کے بعد نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمان کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے، جہاں اسلحہ قوانین، دہشت گردی سے متعلق علامات پر پابندی اور عوامی اجتماعات کے ضوابط پر غور جاری ہے۔

ٹیگز: