Wed, September 16, 2026

امریکا کی جارحیت، وینزویلا کے ایک اور تیل بردار بحری جہاز پر قبضہ

امریکا کی جارحیت، وینزویلا کے ایک اور تیل بردار بحری جہاز پر قبضہ

واشنگٹن : امریکا نے بین الاقوامی پانیوں میں وینزویلا کے ایک اور تیل بردار جہاز کو تحویل میں لے لیا ہے، جو رواں ماہ ضبط کیا جانے والا تیسرا جہاز ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، وینزویلا حکام نے بتایا کہ یہ جہاز خالی تھا اور وینزویلا واپس جا رہا تھا جب امریکی حکام نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

وینزویلا نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ اقدام وینزویلا پر عائد پابندیوں کے تحت کیا گیا ہے۔ امریکا نے وینزویلا کی تیل کی تجارت کو ہدف بنایا ہوا ہے اور اس کارروائی کو اسی پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، امریکا نے وینزویلا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کے لیے اپنی عسکری سرگرمیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ مرسیڈیٹا ہوائی اڈے پر امریکی فوجی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، جہاں بحری بیڑے کی تیاریوں میں مشغول میکینکس کو دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ ایک سپر اسٹالین ہیلی کاپٹر کی اڑان بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

امریکا نے کیریبین کے علاقے میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی بحری جہاز، جدید لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجیوں کو تعینات کیا ہے، جسے وینزویلا پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار کہا ہے کہ وینزویلا میں زمینی فوجی کارروائی بھی ایک آپشن ہو سکتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا کی یہ عسکری نقل و حرکت خطے میں کسی بڑے تصادم کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس وقت امریکا اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مرکوز ہیں، اور یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ کشیدگی ایک فوجی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی امریکا نے وینزویلا کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو قبضے میں لیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ٹیگز: