Wed, September 16, 2026

علم کی ویرانی میں تعلیمی جنون

علم کی ویرانی میں تعلیمی جنون

پاکستان میں تعلیم اب کسی تہذیبی ارتقا کا نام نہیں رہی، نہ ہی یہ کسی فکری بالیدگی کا استعارہ ہے بلکہ یہ اب ایک ایسے منظم مگر بے روح نظام میں ڈھل چکی ہے جہاں داخل تو انسان ہوتا ہے مگر وہ وہاں سے انسان بن کر نہیں بلکہ ایک اندراج، نتیجہ اور عددی شناخت بن کر باہر آتا ہے۔ یہاں ذہن نہیں تراشے جاتے صرف سانچے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہاں سوال جنم نہیں لیتے صرف جوابات دہرائے جاتے ہیں۔ یہاں شعورکی آبیاری نہیں ہوتی محض اسناد تقسیم کی جاتی ہیں۔ تعلیم جو کبھی فرد کو اس کے عہد، سماجی ذمہ داری اور اس کے فکری وجود سے جوڑتی تھی اب اسے ایک محدود افادیت میں قید کر دیا، اسے ایک مقدس عمل سے ہٹا کر انتظامی سرگرمی بنا دیا۔ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں اب وہ مقامات نہیں رہے جہاں کبھی سوچ کی تشکیل ہوا کرتی تھی بلکہ یہ ایسے پیداواری مراکز بن چکے ہیں جہاں ہر طالب علم کو ایک طے شدہ رفتار، ایک مقرر کردہ نصاب اور یکساں پیمانے سے گزارا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا جب تعلیم کا مقصد انسان کو با شعور اور سمجھدار بنانا تھا آج مقصد اسے کارآمد بنانا ہے مگر یہ کار آمدی بھی انسانی یا سماجی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے لیے ہے جو نمبرز، نتائج اور درجہ بندی سے آگے سوچنے کی زحمت نہیں کرتا۔ طالب علم اب علم کا متلاشی نہیں رہا وہ گریڈز کا تعاقب کرتا ہے۔ استاد اب معلم نہیں وہ نصابی ہدف پورا کرانے والا ایک انتظامی کردار بن چکا ہے، والدین اب تربیت کے شریک نہیں بلکہ نتائج کے نگران ہیں۔ یوں تعلیم ایک سہ رخی دبائو میں پس رہی ہے والدین کوصرف رزلٹ چاہیے، ادارے کو رینکنگ چاہیے، نظام کو خاموش، مطیع اور غیر سوالی ذہن چاہیے اس دبائو میں جو چیز سب سے پہلے قربان ہو رہی ہے وہ ہمارے بچوں کی سوچ ہے۔ فیکٹری کا بنیادی اصول یکسانیت ہوتا ہے اور یہی اصول ہمارے تعلیمی نظام پر نافذ ہے۔ ایک ہی نصاب، ایک ہی امتحان اور ایک ہی معیارسب پر مسلط کر دیا جاتا ہے چاہے طالب علم کا پس منظر کچھ بھی ہو، ذہنی استعداد جیسی بھی ہو، سیکھنے کی رفتار چاہے مختلف ہی 
کیوں نہ ہو۔ فطرت کا اصول اس کے بالکل برعکس ہے مگر ہمارا نظام فطرت سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے اسے مسخ کرنے پر تلا ہوا ہے وہ اس بات کو ماننے سے ہی انکاری ہے کہ ہر ذہن مختلف ہے، ہر بچہ ایک جیسا نہیں سیکھتا یا ہر طالب علم کا رجحان الگ ہو سکتا ہے۔ ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کو بقا کا واحد ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ بچہ سکول اس لیے جاتا ہے کہ اسے نوکری درکار ہے، والدین تعلیم کو شعور نہیں سرمایہ کاری سمجھتے ہیں اور سرمایہ کاری میں تو رسک نہیں لیے جاتے۔ اسی سوچ نے آج ہمارے پورے تعلیمی عمل کو ناکامی کے خوف، پیچھے رہ جانے کے خوف اور معاشی عدم تحفظ کے خوف پر کھڑا کر دیا۔ اساتذہ اس فکری زوال کے سب سے خاموش گواہ ہیں، وہ سکھانا چاہتے ہیں مگر نصاب ان کے ہاتھ باندھ دیتا ہے۔ وہ سوالات کی اجازت دینا چاہتے ہیں مگر امتحان کا خوف ان کے راستے میں کھڑا ہو جاتا ہے یوں وہ با خبر ہوتے ہوئے بھی بے اختیار ہیں۔ یہ تعلیمی فیکٹری محض اداروں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں۔ ہم نے کامیابی کو نمبرز اور ناکامی کو جرم بنا دیا جب نوجوان صرف نمبرز اور رزلٹ کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا تعین کرتے ہیں تو وہ سماجی ذمہ داری، انصاف اور اخلاقی شعور سے کٹ جاتے ہیں جس کے بعد معاشرتی بیداری کی کمی، بے حسی اور خود غرضی بڑھتی ہے۔ یہی نوجوان پھر معاشرتی اور سیاسی شعور پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور نظام معاشرتی ترقی اور فکری بصیرت سے محروم صرف انسانی پیداوار کا ایک حصہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اصل المیہ صرف ساخت یا نصاب کی کمی نہیں بلکہ نصاب کی بے حسی اور سماجی تناظر سے انحراف ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے ایسے نصاب کی بنیاد پر چل رہے ہیں جو حقیقت سے دور ہو چکا ہے۔ یہاں یادداشت کو ذہانت اور اطاعت کو قابلیت کے مترادف بنا دیا گیا ہے جس کی بدولت نوجوان محض معلومات کے ذخیرے کے طور پر معاشرے میں شامل ہوتے ہیں مگر حقیقی علم و شعور سے محروم یہ ذہن کبھی معاشرے کو سمت نہیں دے سکتے۔ ہمارے تعلیمی نظام کی موجودہ حالت محض حادثاتی نہیں بلکہ تاریخی اور سماجی ہے، برصغیر کی تقسیم کے بعد تعلیمی نظام کو تیزی سے چلانے کے لیے برطانوی نو آبادیاتی دور کا نصاب نوجوانوں کو تخلیقی اور فکری آزادی دینے کے بجائے معلومات یاد کرنے والی مشین بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جس کا اصل مقصد صرف سرکاری اور انتظامی مشینری کے لیے تربیت یافتہ اہلکار پیدا کرنا تھا نہ کہ باشعور شہری۔ آزادی کے بعد اس نصاب میں چند معمولی ترامیم کے باوجود بنیادی ساخت آج تک وہی رہی، جس نے ہمارے طلبہ کو سرٹیفکیٹ کے حصول اور نمبروں کی دوڑ میں جکڑ دیا۔ اس نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہ نوجوانوں میں کوئی تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور فکری بصیرت کو پیدا نہیں کرتا۔ ہمارا تعلیمی نظام آج اس حالت میں اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہمارے طلبہ کمزور تھے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ نظام نے کمزوری کو سہولت بنا لیا۔ سوچ پیدا کرنا محنت مانگتا ہے، سوال برداشت کرنا اعصاب چاہتا ہے اور فہم کی آبیاری صبر مانگتی ہے جبکہ رٹا فوری نتیجہ دیتا ہے چنانچہ ہم نے وہ راستہ چن لیا جو آسان تھا اور اس انتخاب نے تعلیم کو تدریج، ٹھہرائو اور فکری ارتقا سے نکال کر اعداد و شمار کی دوڑ میں دھکیل دیا جس کے باعث علم کی داخلی قدر ختم ہو گئی۔
تعلیم اگر انسان کو ذمہ دار شہری، باشعور فرد اور صاحبِ بصیرت ذہن نہ بنا سکے تو وہ محض ایک مہنگا اور نمائشی عمل بن کر رہ جاتی ہے اور بدقسمتی سے ہم آج اس نمائشی تعلیم پر فخر کر رہے ہیں۔ ہمارے نصاب اور تعلیمی نظام کو نفسیاتی، سماجی اور عملی تربیت پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ یہ نہ صرف فرد کو علم دے بلکہ قوم کو باشعور بنائے، اجتماعی طور پر مضبوط اور اخلاقی اور فکری طور پر مستحکم بنائے۔ جب نوجوان تخلیقی اور فکری آزادی حاصل کریں گے تبھی پاکستان میں تعلیمی نظام حقیقی معنوں میں ایک مشینری یا فیکٹری سے نکل کر انسانی ترقی، قومی یکجہتی اور انسانی فلاح کا ضامن بن سکے گا۔ نوجوان وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو سماج میں نہ صرف علمی بلکہ اخلاقی، تخلیقی اور عملی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اگر پاکستان کا تعلیمی نظام ایک پائیدار، مستقل اور تخلیقی راستے پر چلتا ہے تو آنے والی نسلیں صرف اسناد اکٹھی کرنے والی نہیں بلکہ حقیقی شعور، فکری بصیرت اور سماجی ذمہ داری کے حامل شہری بن کر قوم کی بنیاد کو مضبوطی فراہم کریں گی۔

ٹیگز: