تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کے ادارے کامسٹیک (COMSTECH) کی سرپرستی میں غزہ کی اعلیٰ تعلیمی قیادت کا حالیہ دورہ? پاکستان ایک تاریخی موقع کی حیثیت رکھتا ہے، جو پاکستان اور فلسطین کے عوام کے درمیان علمی یکجہتی، ہمدردی، اور باہمی عزم کی علامت ہے۔ جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث غزہ کے تعلیمی نظام کی بے مثال تباہی کے پس منظر میں یہ دورہ امید کی ایک نئی کرن بن کر ابھرا، اس یقین کے ساتھ کہ علم اور تعاون کی طاقت تباہی کی تاریکی کو مٹا سکتی ہے۔ غزہ کی جامعات ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، کلاس روم راکھ ہو گئے ہیں، اور کتب خانے خاموشی میں دفن ہیں۔ تباہی کی وسعت ناقابلِ بیان ہے: ہزاروں طلبہ و اساتذہ شہید ہو چکے ہیں اور تقریباً پورا تعلیمی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ یہ صرف ایک انسانی المیہ نہیں، بلکہ ایک ’’تعلیمی نسل کشی‘‘ ہے، غزہ کے علمی و فکری تشخص کو مٹانے کی دانستہ کوشش۔
یونیورسٹی آف فلسطین کی اکتوبر 2025 ء کی رپورٹ ’’ایجوکیشن امِڈ جینوسائڈ‘‘ کے مطابق، 7 لاکھ 27 ہزار سے زائد طلبہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔ تقریباً 20 ہزار طلبہ، جو غزہ کے شہداء کا ایک تہائی ہیں، شہید ہو گئے، جب کہ 50 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ تقریباً 20 ہزار بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ غزہ کے 797 سکولوں میں سے 90 فیصد سے زائد یا تو مکمل طور پر تباہ یا شدید متاثر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں شامل 18 ادارے، جو 90 ہزار سے زائد طلبہ اور 5 ہزار سے زیادہ اساتذہ و عملے پر مشتمل ہیں، کھنڈر بن چکے ہیں۔ 150 سے زائد اساتذہ شہید اور 65 جامعاتی عمارتیں مکمل طور پر مسمار ہو گئی ہیں۔ان المناک حالات کے باوجود غزہ کی علمی برادری نے غیر معمولی حوصلہ و استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ محدود آن لائن تعلیم کے ذریعے تقریباً 63 ہزار طلبہ اب بھی اپنے اساتذہ سے رابطے میں ہیں، یہ عمل تباہی کے بیچ امید کی علامت ہے۔ تاہم، بجلی، انٹرنیٹ اور تعلیمی وسائل کی شدید کمی اس تسلسل کے لیے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسکالرشپس، تعمیرِ نو کی مالی معاونت، اور عالمی علمی شراکتوں کے ذریعے غزہ کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو تباہی سے بچائے۔
ان حالات میں تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون، کامسٹیک (COMSTECH)، نے فلسطین میں امید کے چراغ دوبارہ روشن کرنے کی قیادت سنبھالی ہے۔ کامسٹیک نے پاکستان اور غزہ کی جامعات کو ایک مضبوط تعلیمی شراکت میں منسلک کر کے تعمیرِ نو اور استقامت کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔کامسٹیک کی میزبانی میں غزہ کی چھ بڑی جامعات، یونیورسٹی آف فلسطین، الاقصیٰ یونیورسٹی، اسلامی یونیورسٹی آف غزہ، الازہر یونیورسٹی، اسراء یونیورسٹی، اور غزہ یونیورسٹی، کے وائس چانسلرز اور اعلیٰ نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا سات روزہ تاریخی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پاکستان کی جامعات کے ساتھ اشتراک کے ذریعے غزہ کے اعلیٰ تعلیم، صحت، اور سائنسی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے عملی راستے تلاش کرنا تھا۔اپنے قیام کے دوران فلسطینی وفد نے پاکستان کی معروف جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز، اور محققین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں قائداعظم یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، بحریہ یونیورسٹی، فاسٹ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف فیصل آباد، جی سی یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف دی پنجاب، سپیریئر یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف لاہور شامل تھیں۔ ان ملاقاتوں نے نہ صرف علمی تعاون کے امکانات کو وسعت دی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان فکری و جذباتی رشتے کو مزید مضبوط کیا۔
دورے کا نمایاں ترین پہلو’’فلسطین، پاکستان وائس چانسلرز فورم‘‘ تھا، جو اسلام آباد میں کامسٹیک سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اس فورم کے اختتام پر تنظیم تعاون اسلامی کے ادارے کامسٹیک اور غزہ کی جامعات کے کنسورشیم کے درمیان ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے، جس کے تحت سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ یہ معاہدہ غزہ کی جامعات کو کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس (CCoE) کے تحت رکن ممالک کی جامعات سے جوڑنے والا پہلا منظم پلیٹ فارم ہے۔فورم کے دوران، کامسٹیک نے فلسطینی طلبہ اور محققین کے لیے 5,000 فیلوشپس کے عزم کو دہرایا، جو پاکستان کی نجی جامعات کی ایسوسی ایشن (APSUP) اور کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسی لینس کے رکن اداروں کے تعاون سے فراہم کی جائیں گی۔ یہ فیلوشپس فلسطینی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اور مہارتوں کے فروغ کے مواقع فراہم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہیں۔ اس اقدام کو فلسطینی وفد اور پاکستانی علمی برادری دونوں نے بے حد سراہا، کیونکہ یہ عملی یکجہتی اور دوستی کا ٹھوس مظہر ہے۔دورے کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں فلسطینی وفد نے کامسٹیک اور پاکستانی عوام کا دلی شکریہ ادا کیا اور مندرجہ ذیل پانچ اسٹریٹجک اہداف کا اعلان کیا:
1 ۔تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مشترکہ پروگراموں اور تبادلوں کے ذریعے فروغ دینا۔
2۔غزہ کی جامعات کی استعداد بڑھانے اور بحالی کے لیے اقدامات کرنا۔
3 ۔کامسٹیک کے تحت اسکالرشپس اور تربیتی پروگراموں کو آگے بڑھانا۔
4 ۔پاکستانی و فلسطینی جامعات کے مابین ادارہ جاتی روابط قائم کرنا۔
5 ۔غزہ کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی تعمیرِ نو کے لیے جامع روڈمیپ تیار کرنا۔
اعلامیے میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ ’’بین الاقوامی کانفرنس برائے تعمیرِ نو و تنظیمِ نو برائے اعلیٰ تعلیمِ غزہ، فلسطین‘‘کے عنوان سے ایک عالمی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ عالمی حمایت اور وسائل کو متحرک کیا جا سکے۔یہ دورہ پاکستان اور فلسطین کے درمیان علمی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ کامسٹیک اور پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ تباہی کے عالم میں بھی، تعلیم، سائنس، اور ایمان سے مزین انسانی جذبہ کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس دورے میں قائم ہونے والی شراکتیں غزہ کی تعلیمی بحالی کی بنیاد بنیں گی، اس یقین کے ساتھ کہ علم کا سفر ہی امن و وقار کا سب سے یقینی راستہ ہے۔