Wed, September 16, 2026

بھارت اور اسرائیل پریشان!

 بھارت اور اسرائیل پریشان!

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدہ نے پوری دنیا کے ممالک (خواہ ان کا اس معاملہ سے کوئی براہ راست تعلق ہو یا نہ ہو) میں ایک تھرتھلی مچا دی ہے۔ کوئی فکر مند ہے تو کوئی خوش لیکن اس کے اثرات کو بہت گہرائی سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف صاحب کا یہ کہنا  بھی بالکل درست ہے کہ اس قسم کے معاہدے کی ضرورت تو بہت عرصہ سے محسوس کی جا رہی تھی اور اس پر کام بھی ہو رہا تھا لیکن اس کا باقاعدہ اعلان اب ہوا ہے۔ ویسے ا گر اس معاہدہ کی برق رفتاری سے انجام دہی کا کریڈٹ بھارت اور اسرائیل کو دیا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا۔پہلے بھارت پاکستان پر جارحیت کر کے نہ صرف بدترین طریقے سے شرمندہ ہوا بلکہ اس کی اس حرکت نے پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع بھی فراہم کر دیا اور خود بڑا مالی اور سیاسی نقصان اٹھایا۔ اسی طرح طاقت کے نشہ میں بدمست اسرائیل نہتے فلسطینیوں پر تو اپنی طاقت کا رعب جماتا رہا لیکن اسی غلط فہمی میں اس نے پہلے ایران پر حملہ کر کے شرمندگی اٹھائی اور پھر اس کی شامت اعمال نے آواز دی کہ اس نے قطر پر بھی حملہ کر دیا۔ قطر پر ہونے والے حملے نے ایک تو اس کے ا مریکی اتحادی ہونے کا بھرم کھول دیا دوسرا عرب ممالک میں عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کر دیا۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلم ممالک میں ایٹمی صلاحیت کا حامل پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو اسرائیل کی بدمعاشی کو لگام ڈالنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یقینا یہی وجہ رہی ہو گی کہ سعودی عرب کے ساتھ پہلے سے زیر غور معاہدہ کو تیزی سے مکمل کیا گیا اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سعودی عرب مدعو کر کے انہیں بھرپور پروٹوکول فراہم کیا گیا اور معاہدہ پر دستخط بھی ہو گئے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ بھارت اور اسرائیل اس کے اثرات کو بہت گہرائی کے ساتھ محسوس کریں گے۔ یہ معاہدہ پاکستان کے عوام کے لیے اس لیے بھی خوشی کا باعث ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا قریب ترین دوست رہا ہے اور جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا، سعودی عرب نے مدد فراہم کی۔ اب جب دونوں ممالک دفاع کے شعبے میں ایک ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں تو یہ ایک نئے دور کی شروعات ہو گی۔اس نئے معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں فوجی تعاون کو بڑھانے، ہتھیاروں کی تیاری میں ساتھ دینے، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ مشقوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں طاقت کے توازن پر سوالات اٹھ رہے تھے اور بھارت اور اسرائیل اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔بھارت جانتا ہے کہ سعودی عرب کے پاس بے پناہ مالی وسائل ہیں۔ اگر سعودی عرب پاکستان کی دفاعی صنعت میں سرمایہ لگاتا ہے تو پاکستان زیادہ جدید ہتھیار بنا سکے گا۔ پاکستان کے پاس اس وقت وسائل کی کمی ہے لیکن مہارت اور تجربہ موجود ہے۔ اگر سعودی تعاون مل گیا تو بھارت کے لیے کسی بھی طور اپنی برتری برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ بھارت کو یہ بھی فکر ہے کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں بھارتی ملازمت کر رہے ہیں اور وہاں سے بھارت کو اربوں ڈالر کا زر مبادلہ آتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی صورت میں اس کے اتحادی سعودی عرب سے تیل کی خریداری بھی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسرائیل کے لیے بھی یہ معاہدہ خوش آئند نہیں کیونکہ اس کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مسلم دنیا تقسیم رہے اور کوئی بڑا اتحاد نہ بنے۔ اب اسے یہ خدشہ ہو گا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے قریب آنے سے فلسطین کے معاملے پر دباؤ بڑھے گا۔ اسرائیل یہی کوشش کرتا رہا ہے کہ سعودی عرب اس کے ساتھ تعلقات بہتر رہیں تاکہ عرب دنیا میں اسرائیل کی مخالفت کم ہو۔ لیکن اب جبکہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے تو یقینا اسرائیل کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور سعودی عرب اگر دفاعی میدان میں پاکستان کے ساتھ زیادہ تعاون کرے گا تو اسرائیل کے منصوبے متاثر ہوں گے۔اس معاہدہ سے پاکستان کو نا صرف سعودی عرب جیسے دنیا کے امیر ترین ملک کی حمایت حاصل ہو گی بلکہ اس کی فوج کو زیادہ وسائل ملیں گے اور دفاعی صنعت کو ترقی کرے گی۔ اگر پاکستان اپنی دفاعی صنعت کو مضبوط بنا لیتا ہے تو نہ صرف وہ اپنی ضرورت پوری کر سکے گا بلکہ دوسرے ممالک کو ہتھیار بھی بیچ سکے گا۔ اس سے پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہو گا اور نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا۔ اس معاہدہ کا فائدہ صرف پاکستان کو نہیں ہو گا بلکہ سعودی عرب کو بھی اس معاہدے سے بھرپور فائدہ ہو گا کیونکہ سعودی عرب اب یہ جان چکا ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں ہمیشہ قابل اعتماد نہیں ہوتیں۔ اسی لیے سعودی عرب اب چاہتا ہے کہ وہ مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھائے تاکہ اپنی حفاظت خود کر سکے۔ پاکستان اس کے لیے بہترین شراکت دار ہے کیونکہ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے، دفاعی تجربہ ہے اور ایٹمی طاقت بھی۔ سعودی عرب اگر پاکستان کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو وہ اپنی حفاظت زیادہ بہتر طریقے سے کر سکے گا۔یہ معاہدہ صرف دفاعی شعبے کا نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی پیغام بھی ہے۔ اس معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بدل جائے گا اور بھارت اور اسرائیل کو سوچنا پڑے گا کہ وہ کس طرح اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھائیں گے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسے معاہدے صرف فوجی معاملات تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات سیاسی اور اقتصادی شعبوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب زیادہ قریب آتے ہیں تو ان کے درمیان تجارت بھی بڑھے گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور دونوں کی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ اس کے علاوہ دوسرے مسلم ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے اور وہ بھی پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنے میں دلچسپی دکھا ئیں گے۔پاکستان اور سعودی عرب کا نیا دفاعی معاہدہ خطے میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے ۔  ایک بات واضح ہے کہ اس سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہو جائیں گے اور بھارت اور اسرائیل کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔

ٹیگز: