’’اب پھر حل کیا ہے آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے ۔جو راستہ مجھے نظر آتا ہے وہ ہے کہ قطر ہو یا کوئی دوسرا عرب یا اسلامی ملک اپنا دفاعی انحصار امریکا اور مغرب سے ختم کرکے اسلامی ممالک نیٹو کی طرز پر ایک فوج کھڑی کرلیں ۔اسلامی اتحاد بنائیں اور جس طرح نیٹو کام کرتی ہے اسی طرح یہ فوج کام کرے ۔معرکہ حق میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ۔ پاکستان کے پاس مضبوط فوج، تربیت کا بہترین نظام اور جنگی حکمت ہے اور قطر سمیت عرب ممالک کے پاس مضبوط معیشت ہے ان دونوں کو آپس میں بانٹنا ہو گا۔ عرب پاکستان کی معیشت سنبھالیں اور پاکستان عربوںکا دفاع۔ اس میں ترکیہ کو بھی شامل رکھیں بلکہ تمام اسلامی ممالک اس اسلامی دفاعی فورس کا حصہ ہوں ۔فوری طورپر یہ فورس اسرائیل سے جنگ نہ بھی کرے پھر بھی ایک دفاعی میکنزم موجود ہو تاکہ ایسے گماشتے اسلامی ممالک پر حملے سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ جواب میں کیا ملے گا۔‘‘
یہ میرے گزشتہ ہفتے کے کالم کا اختتامیہ تھا اور یہ اس وقت لکھا جارہا تھا جب ابھی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی دفاعی اور سٹرٹیجک معاہدے کی کوئی خبر کسی سطح پر نہیں تھی ۔میں نے اس وقت بھی لکھا تھا اور آج بھی یہی محسوس کرتا ہوں کہ جیوپولیٹکس جس تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ہر ملک کے لیے اپنی ریاستی بقا کے لیے نئے سرے سے صف بندی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ہم پاکستان کی پیدائش سے ہی یہ سنتے اور کہانیوں کی طرح پڑھتے چلے آرہے ہیں کہ عالم اسلام کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔پاکستان عالم اسلام کے لیے مکمل قیادت کا فرض اداکرسکتا ہے لیکن یہ خواب محض خواب ہی رہا ۔کہانیاں صرف پڑھنے لکھنے کی حد تک ہی رہیں کبھی عملی جامہ ان کو نصیب نہ ہوا۔پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کی طرف محبت اور شفقت کی نگاہ سے دیکھا اس کی بڑی وجہ تو سعودی عرب میں ہمارے ایما ن کا مرکز ۔ہمارے اعتقاد اور ایقان کامحور اور عشق کی انتہا ہمارے آخری نبی مکرم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈیرہ ہے۔اور دوسری وجہ ہم عقیدہ اور ہم مذہب ہونا بھی ہے لیکن جب ریاستی تقسیم کی بات آتی ہے تو پھر ریاستیں اپنے اپنے مفادات کے حصول اور تحفظ کی دوڑ میں اسلامی بھائی چارے سے آگے جاکر مغرب کا رخ کرگئیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت تمام عرب ممالک نے اپنی سالمیت اور دفاع کا ذمہ امریکا کے حوالے کردیا ۔اپنے ممالک میں امریکی اڈے قائم کروادیے اور بدلے میں اپنی سرمایہ کاری ان ممالک کے حوالے کردی ۔ان ممالک میں جائیدادیں خرید لیں اور اپنا انحصار مغرب کی طرف موڑ لیا۔پاکستان دوسری طرف خلوص سے تو لبریز تھا ۔دفاعی جذبہ بھی بدرجہ اتم موجود لیکن اقتصادیات اتنی کمزور جتنا دفاع مضبوط تھا۔پھر وقت بدلا ،حالات بدلے۔ جذبات بدلے اور اسرائیل نے قطر پر وار کردیا ۔اس ایک حملے نے عرب ممالک کی سوچ کا دھارا بدل دیا۔تاخیر سے سہی لیکن بحرحال عرب ممالک میں یہ سوچ سوچنے کی سوچ آگئی کہ جس ملک کو ہم نے اپنے دفاع کا کانٹریکٹ دیا ہوا ہے اگر اسی کا گندا بچہ ہم پر حملہ کرے گا تو دفاع کرنے والا اپنے معاہدے سے مکرجائے گا۔اور بالکل ایسے ہی بہانے بنائے گا جیسا امریکا نے اسرائیل کے قطر پر حملے کے تراشے کہ پہلے کہا کہ ہمیں اسرائیل نے بتایا ہی نہیں کہ وہ ایسا کرنے جارہا ہے ۔پھر کہا کہ ہماری فوج نے ہمیں اطلاع دی تھی کہ ان کو اسرائیلی ملٹری نے اس کارروائی کی اطلاع دی تھی پھر کہا گیا کہ اسرائیل نے بہت تاخیر سے اطلاع دی اس لیے دفاع ممکن نہیں ہوسکا۔اس پر تو سادہ سا سوال ہے کہ اگر دفاع کرنا ہو تو سات مئی کی رات کا کیس ایک باقاعدہ کیس اسٹڈی ہے کہ بغیر وارننگ کے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کے لیے اڑنے والے جہاز واپس اپنے ہوائی اڈوں پر اتر نے کے قابل ہی نہیں چھوڑے گئے اور کس طرح پاکستان نے دنیا کے جدید ترین جہازوں کو مارگرایاکیا امریکا جو دنیا میں سب سے بہترین دفاعی طاقت کا دعویٰ کرتا ہے اور اسرائیل کے پاس جو بھی جنگی سازوسامان ہے وہ بھی امریکا کا ہی دیا ہوا ہے تو ایسی صورت میں بھی امریکا قطر کا دفاع نہیں کرسکا؟ کیا یہ سب ’’رینڈم‘‘ تھا ؟ نہیں بالکل نہیں بلکہ امریکا اس حملے میں اسرائیل کے ساتھ تھااور اس نے قطر کی حفاظت نہ کرکے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی جو اس نے قطر سے کررکھا ہے۔اس صورتحال کے بعد عرب دنیا کا پرانی سوچ سے آگے سوچنا لازمی تھا جو کہ سوچا گیا اور قطر میں فوری ہنگامی اجلاس اور اس میں ترکیے کے ساتھ پاکستان کو خصوصی دعوت پھر ایران کی بھی موجودگی دنیا کو بہت کچھ کہہ رہی تھی ۔
میں اب بھی اس رائے پر قائم ہوں کہ سعودی عرب سے ہونے والا معاہدہ بارش کا پہلا قطرہ ہے اور یہ بارش پورے عرب و عجم کو سیراب کرے گی ۔اس معاہدے کو لے کر بہت سے تجزیے تبصرے ہورہے ہیں اکثریت تبصرے سطحی اور مخصوص سیاسی سوچ میں لتھڑے ہوئے ہیں لیکن کچھ سنجیدہ بھی ہیں اور سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ معاہدہ کوئی انوکھی بات تو نہیں ہے اور نہ ہی کسی فریق کے لیے خسارے کا سودا ہوگاکیونکہ پاکستان کو عزت اللہ کی ذات اور اس کے رسول ﷺ کے جوڑوں کے صدقے مل رہی ہے ۔عزت اور ذلت کے حوالے سے ہمارا ایمان کامل ہے کہ یہ اللہ کریم کی ہی دین ہے تو پھر اس بات کو کیوں نہ مان لیا جائے کہ اللہ کریم وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو یہ عزت چھت پھاڑ کردے چکا ہے۔پاکستان کی دنیا میں عزت و تکریم کو نہ ماننا یا اس پرحاشیہ آرائی کرنا کوتاہ اندیشی اور شخصیت پرستی میں پاکستان کو پیچھے کرنے کی سوچ ہے ۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب سے پاکستا ن نے ہندوستان کے خلاف فتح سمیٹی ہے اس وقت سے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہبازشریف کے خلاف تبرہ بازی دوچند کردی گئی ہے اور گزشتہ دو تین ہفتوں سے عمران خان صاحب کا ایکس ہینڈل اس مقصد کے لیے وسیع پیمانے پر زہرپاشی میں مصروف ہے ۔ہر پوسٹ سانحہ مشرقی پاکستان سے شروع ہوکر سید عاصم منیر تک آجاتی ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اس فرسٹریشن کو سمجھ بیٹھے ہیں ۔کیونکہ صاف نظر آرہا ہے کہ جس شدو مد سے عمران خان صاحب افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کی پُشتی بانی کررہے ہیں اور ان کے منہ سے میجر عدنان اسلام کی شہادت پر ایک لفظ نہیں نکلا۔بنوں میں بارہ سپوت شہید ہوگئے انہوں نے اپنے وزیراعلیٰ کو جنازوں کے بائیکاٹ کا حکم دیا اور آپریشن کی مخالفت کرکے طالبان سے ہمدردی اور غیر قانونی طورپر مقیم افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے پر انگاروں پر لوٹ رہے ہیں یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ وہ اپنی رہائی کے لیے ملک کی سالمیت سے بھی خود کو اوپر لے گئے ہیں ۔جب آپ اپنی ذات کو ملک سے اوپر رکھ لیتے ہیں تو پھر آپ جتنے بھی معتبر،مقبول اور اہم ہوں یہ سب کچھ آپ کا وہم بن جاتا ہے اور وہم میں مبتلا انسان حقیقت سے دور چلاجاتا ہے ۔پاکستان کو ملنے والی عزت کو تسلیم کرتے ہوئے خان صاحب کو بھی واپس آنا چاہئے کیونکہ عرب دنیا بھی واہموں سے نکل کرواپس پاکستان کی طرف آرہی ہے۔