Wed, September 16, 2026

افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دراندازی کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے سہولت نہیں دی جائے گی ، خواجہ آصف

افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دراندازی کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے سہولت نہیں دی جائے گی ، خواجہ آصف

اسلام آباد : پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قطر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے سیز فائر معاہدے کے حوالے سے اہم باتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کی دراندازی یا ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کو پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے سہولت نہیں دی جائے گی۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان نے بار بار اس بات کو افغان حکام کے سامنے رکھا کہ اگر افغانستان کی سرزمین کو ٹی ٹی پی کے لیے استعمال ہونے دیا گیا تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔ قطر اور ترکیہ نے اس معاملے پر خاص طور پر زور دیا ہے کیونکہ ان کے مطابق افغانستان کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

وزیر دفاع نے اس بات کی وضاحت کی کہ سیز فائر معاہدے میں کسی خاص وقت کی حد نہیں رکھی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی جاری رہے گی۔

یہ معاہدہ حال ہی میں دوحہ میں طے پایا تھا اور اب اس پر مزید بات چیت 25 سے 27 اکتوبر تک ترکیہ میں ہو گی، جہاں دونوں ممالک کے نمائندے اس پر عمل درآمد کے بارے میں مزید گفتگو کریں گے۔ اس معاہدے کا مقصد پاکستان کی سلامتی کے لیے افغانستان کی سرزمین پر ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو روکنا ہے۔

ٹیگز: