ہم میں سے تقریباً سب اپنی یا کسی کی برتھ ڈے میں شرکت کرچکے ہوں گے۔ مختلف کلچر میں برتھ ڈے منانے کا فلسفہ کچھ کچھ مختلف جبکہ طرےقہ کار اےک جےسا ہی ہے۔ برتھ ڈے منانے کا آغاز ےورپ سے ہوا۔ اےک رواےت کے مطابق پرانے یورپ میں یہ تصور عام تھا کہ اگر سالگرہ کے دن لڑکا یا لڑکی، مرد ےا عورت اکےلا ہو تو اسے بھوت پرےت چمٹ جاتے ہےں۔ لہٰذا اس کے اردگرد رشتے دار ےا دوست اکٹھے ہوں تو انہےں دےکھ کر اور تالےوں کا شور سن کر وہ بھوت پرےت بھاگ جاتے ہےں۔ پرانے رومنز برتھ ڈے شاہانہ پارٹی اور قےمتی تحائف کے ساتھ بہت جوش و خروش سے منایا کرتے تھے۔ یہودیوں میں اس دن کو منانے پر اختلاف ہے۔ ان کی مذہبی کتاب ہےبرو بائبل مےں مصری فرعونوں کی سالگرہ منانے کا صرف اےک واقعہ ملتا ہے مگر ےہودےوں کے ممتاز پےشوا ربی موشے فائنسٹائن سالگرہ کی تقرےبات کو مانتے تھے۔ ربییسوکار فرینڈ کے مطابق ےہ خاص بندے کے لیے خاص دعاﺅں کا دن ہوتا ہے۔ ےہودےت مےں جب لڑکی 12برس کی اور لڑکا 13برس کا ہو تو وہ ان دنوں کو خاص اہتمام کے ساتھ سالگرہ کی طرح مناتے ہےں۔ بدھ مت کے پےروکاروں مےں صرف بدھا کے جنم دن کو اپنی سالگرہ کے طور پر منانے کا رواج ہے۔ وہ اِس تقرےب کو بہت اہمےت دےتے ہےں۔ اس مےں بدھا کے بت کو نہلاےا جاتا ہے اور اُسے کھانا پےش کےا جاتا ہے۔ مذہبی ہندو ہر سال اپنی سالگرہ اس وقت مناتے ہےں جب ان کا ستارہ ان کے چاند اور سورج کے مہےنے سے مطابقت کرلے۔ پرانے عےسائی سالگرہ منانے کو اےک کافر رسم سمجھتے تھے۔ اوریگن اپنا تبصرہ آن لیوائٹس مےں کرتے ہوئے کہتے ہےں کہ عےسائےوں کو صرف اپنی برتھ ڈے کی خوشی نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنے آپ کو کمتری سے دےکھنا چاہئے۔ قدامت پسند عےسائی صرف اپنی مذہبی شخصیات کے تہواروں کے دن کو اپنی برتھ ڈے کے طور پر منانے کو ترجیح دےتے تھے جبکہ عام عےسائی اپنے نام سے جڑے کسی مذہبی پےشوا (سینٹ) کی برتھ ڈے کو اپنی برتھ ڈے سمجھ کر مناتے تھے۔ مثلاً کسی مرد کے نام کے ساتھ مائیکل لگا ہوتا تو وہ سینٹ مائیکل کے جنم دن پر اپنی برتھ ڈے مناتا ےا اگر کسی عورت کے نام کے ساتھ میری (Mary) لگا ہوتا تو وہ حضرت مرےم کے جنم دن پر اپنی برتھ ڈے مناتی لےکن اُس عےسائی معاشرے مےں بھی امےر لوگ طبقاتی فرق برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی جنم دن پر اپنی برتھ ڈے مناتے۔ عےسائےت مےں ابھی تک جیہوواز وٹنسز اور کچھ مقدس ناموں کے گروہ اےسے ہےں جو برتھ ڈے منانا اچھا نہےں سمجھتے اور اسے توہم پرستی اور جادو ٹونے سے بچاﺅ کی تقرےب سمجھتے ہیں۔ یعنی بھوت پرےت والی توہم پرستی جس کی بنےاد پر یورپ میں برتھ ڈے منانے کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں مےں بعض لوگ برتھ ڈے منانا غلط سمجھتے ہےں کےونکہ ان کے خےال مےں ےہ مغربی معاشرے کی تقلےد ہے جبکہ بعض مسلمانوں کے خےال مےں برتھ ڈے منانے میں کوئی حرج نہےں ہے اور اسی خےال کا چرچا اب عام ہورہا ہے۔ پرانے دور مےں جب کچھ مسلمان عرب سے ےورپ اور مغرب مےں جاکر آباد ہوئے تو انہوں نے خاص طور پر اپنے بچوں کی سالگرہ بڑے دھوم دھام سے منانا شروع کر دی۔ اب تو پاکستانی معاشرے مےں بھی کسی کی برتھ ڈے پوچھنا، منانا اور مبارک باد دےنا محبت اور دوستی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ برتھ ڈے کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بولے جانے والے انگریزی جملوں میں سے ایک ہیپی برتھ ڈے بھی ہے اور اسی جملے کی گردان میں اُس وقت دلچسپ اضافہ ہوا جب کورونا وبا نے دنیا کو اپنے گھیرے میں لیا تو کم از کم 20سیکنڈز تک صابن سے ہاتھ دھونے کی میڈیکل نصیحتیں کی گئیں۔ اُن 20 سیکنڈز کو گننے کے لیے آسان فارمولا بتایا گیا کہ دو مرتبہ ہیپی برتھ ڈے کا جملہ ادا کریں تو 20سیکنڈز ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کورونا وبا کے دنوں میں ہیپی برتھ ڈے کو دنیا بھر میں اتنی دفعہ دہرایا گیا کہ شاید اس سے پہلے کل ملاکر بھی اتنی مرتبہ نہ دہرایا گیا ہو۔ گویا کورونا وبا ہیپی برتھ ڈے کے جملے کے لیے بڑی توانائی ثابت ہوئی۔ برتھ ڈیز کو یاد رکھنے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے پتا چل جاتا ہے کہ کون سا لیڈر کب وزیراعظم بنا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان 52برس کی عمر مےں وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو 45برس کی عمر مےں وزےراعظم بن گئے۔ بےنظےر بھٹو 35برس کی عمر میں وزیراعظم بن کر اب تک سب سے کم عمر پاکستانی وزیراعظم ٹھہریں۔ نواز شرےف بھی ادھےڑ عمری سے پہلے ہی 41برس کی عمر میں پہلی مرتبہ پاکستان کے وزےراعظم بنے۔ گوےا پاکستان کے تقرےباً تمام ممتاز جمہوری وزرائے اعظم بڑھاپے سے قبل ہی وزیراعظم کے دفتر پہنچ گئے جبکہ عمران خان 66برس کی عمر میں وزیراعظم بنے اور شہباز شریف اب تک کے پاکستانی وزرائے اعظم کی فہرست میں سب سے زیادہ بڑی عمر والے وزیراعظم بنے۔ شہباز شریف وزیراعظم کی کرسی پر 70برس کی عمر میں بیٹھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ وزیراعظم کی کرسی کسی کی بزرگی کا بوجھ اٹھاتی ہے یا جوان حوصلوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے۔